سندھ کابینہ نے منگل کو گل پلازہ کراچی میں آتشزدگی کے متاثرین کے لیے مالی امدادی اور بحالی پیکج کی منظوری دے دی ہے۔
پیکج کے تحت جان سے جانے والے افراد کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا، جبکہ متاثرہ دکانداروں کو فی یونٹ ایک کروڑ روپے تک کے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے، جن کا سود صوبائی حکومت ادا کرے گی۔
اس کے علاوہ ہر دکاندار کو فوری گزر بسر کے لیے پانچ لاکھ روپے کی اضافی امداد بھی منظور کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کابینہ اجلاس میں کہا، ’انسانی جان کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح متاثرہ خاندانوں کی مدد کے ساتھ ساتھ ذمہ داروں کا تعین اور احتساب ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’ریلیف، انصاف اور روک تھام کو ایک ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔‘
کابینہ نے ایک اعلیٰ سطحی ذیلی کمیٹی بھی قائم کی ہے جس کی سربراہی وزیراعلیٰ خود کریں گے۔ یہ کمیٹی اس انکوائری رپورٹ کا جائزہ لے گی جو واقعے کی ذمہ داری کے تعین اور آئندہ کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ سرچ آپریشن باضابطہ طور پر مکمل کر لیا گیا ہے اور گل پلازہ کو خطرناک اور خستہ حال قرار دے کر سیل کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر ضلع ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے عرب نیوز کو بتایا، ’آج (27 جنوری) دس روزہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد گل پلازہ کو سیل کر دیا گیا ہے۔ لاہور فرانزک لیبارٹری اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ماہرین عمارت کا معائنہ کریں گے اور ڈھانچے کے مکمل جائزے کے بعد آگ کی وجوہات سے آگاہ کریں گے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کراچی کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے عرب نیوز کو بتایا کہ اب تک 73 لاشوں یا باقیات کے سیٹ پروسیس کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 27 کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ ایک نامعلوم پروفائل بھی تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’65 لاپتہ افراد کے سلسلے میں 56 خاندانوں کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے جا چکے ہیں۔‘
مسلسل پیش آنے والے مہلک واقعات کے بعد سندھ حکومت کو عمارتوں کے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد میں نرمی، ناکافی معائنہ نظام اور ہنگامی ردعمل کی کمزور صلاحیت پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
یہ آگ 17 جنوری کو کراچی کے گنجان علاقے صدر میں واقع کثیر منزلہ شاپنگ کمپلیکس گل پلازہ میں لگی تھی، جس کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد جان سے گئے تھے۔ آگ بجھانے میں تین دن لگے جبکہ غیر مستحکم ملبے اور شدید متاثرہ ڈھانچے کے باعث ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں ایک ہفتے سے زائد عرصے تک جاری رہیں۔
منگل کو ضلعی انتظامیہ نے عمارت کو غیر محفوظ قرار دے کر سیل کر دیا۔