جنوبی افریقہ، اسرائیل نے ایک دوسرے کے سفارت کار ملک بدر کر دیے

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے مقدمے کی وجہ سے کشیدہ ہیں۔

ایک فلسطین حامی کارکن نے 20 اکتوبر 2023 کو جنوبی افریقہ کے دارالحکومت پریٹوریا میں اسرائیلی سفارت خانے کی بیرونی دیوار پر جنگ مخالف مظاہرے کے دوران ایک پلے کارڈ چسپاں کیا (اے ایف پی)

جنوبی افریقہ نے ’خلاف ورزیوں کے سلسلے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے جمعے کو اسرائیل سفارت کار کو 72 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے، جس کے ردعمل میں اسرائیلی حکومت نے بھی پریٹوریا کے سفارتی نمائندے کو ملک بدر کر دیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی اس مقدمے کی وجہ سے کشیدہ ہیں جو جنوبی افریقہ نے 2023 میں اقوام متحدہ کی عدالت میں دائر کیا تھا اور جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ نسل کشی کے مترادف ہے۔

جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے اسرائیل کو مطلع کر دیا ہے کہ ان کے ناظم الامور ایریل سیڈمین ’ناپسندیدہ شخصیت‘ ہیں اور انہیں 72 گھنٹوں کے اندر ملک سے نکلنا ہو گا۔

بیان میں کہا گیا: ’یہ فیصلہ کن اقدام سفارتی آداب اور معمولات کی ناقابل قبول خلاف ورزیوں کے سلسلے کے بعد اٹھایا گیا ہے جو جنوبی افریقہ کی خودمختاری کے لیے براہِ راست چیلنج ہیں۔‘

بیان کے مطابق ان خلاف ورزیوں میں صدر سیرل رامافوسا پر ’توہین آمیز حملوں کے لیے سرکاری اسرائیلی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بار بار استعمال‘ بھی شامل ہے۔

افریقی وزارت خارجہ نے اسرائیلی سفارت خانے پر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے اپنے سینیئر حکام کے دوروں کے بارے میں جنوبی افریقہ کو آگاہ نہ کر کے ’جان بوجھ کر سفارتی کوتاہی‘ برتی۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کے سینیئر سفارتی نمائندے شان بائنیویلڈ  کو ’ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے انہیں 72 گھنٹوں کے اندر اسرائیل چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

ایکس پر جاری ایک بیان میں تل ابیب نے پریٹوریا پر ’عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف جھوٹے حملوں‘ کا الزام لگایا اور اپنے سفیر کی ملک بدری کو ایک ’یک طرفہ اور بے بنیاد اقدام‘ قرار دیا۔

اسرائیل کی جانب سے 2023 میں اپنے سفیر کو واپس بلائے جانے کے بعد سیڈمین جنوبی افریقہ میں اسرائیل کے سب سے سینیئر سفارتی نمائندے تھے۔

’استحقاق کا غلط استعمال‘

جنوبی افریقی حکام نومبر میں اسرائیلی سفارت خانے کی جانب سے کی گئی ایک ٹویٹ پر برہم تھے جس میں تبصرہ کیا گیا تھا: ’صدر رامافوسا کی جانب سے دانش مندی اور سفارتی شفافیت کا ایک نایاب لمحہ۔‘

یہ پوسٹ ایک خبر کے ردعمل میں کی گئی تھی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہانسبرگ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے حوالے سے رامافوسا کا یہ قول نقل کیا گیا تھا کہ ’بائیکاٹ کی سیاست کام نہیں کرتی۔‘

جنوبی افریقی حکومتی عہدیداروں نے اس ماہ ایسٹرن کیپ صوبے میں ایک اسرائیلی وفد کے دورے کو بھی پروٹوکول کی خلاف ورزی قرار دے کر مسترد کر دیا، جہاں مبینہ طور پر وفد نے پانی، صحت کی دیکھ بھال اور زراعت میں مہارت فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔

اس دورے کی میزبانی ’ژوسا‘ (Xhosa) قوم کے ایک روایتی بادشاہ نے کی تھی جنہوں نے دسمبر میں اسرائیل جا کر صدر آئزک ہرزوگ سے ملاقات کی تھی۔

جنوبی افریقی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ انہیں اس دورے کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا تھا، جس میں سینیئر اسرائیلی سفارت کار ڈیوڈ سرنگا بھی شامل تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے سفارتی خلاف ورزیاں ’سفارتی استحقاق کا سنگین غلط استعمال ہیں۔‘

بیان کے مطابق: ’انہوں نے دو طرفہ تعلقات کے لیے ضروری اعتماد اور پروٹوکولز کو منظم طریقے سے نقصان پہنچایا ہے۔‘

جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے سفیر کی ملک بدری پر اسرائیل کو کھرا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’ریاست فلسطین کے سفیر تھے نہ کہ اسرائیل کے۔‘

ترجمان نے ’ایکس‘ پر کہا: ’اسرائیل کی رکاوٹیں ایک ایسی مضحکہ خیز صورت حال پیدا کرتی ہیں جہاں انہیں (سفیر کو) اسی ریاست کے ذریعے اپنئ سفارتی اسناد جمع کرانی پڑتی ہیں جس نے ان کے میزبان ملک (فلسطین) پر قبضہ کر رکھا ہے۔‘

نسل کشی کا مقدمہ

جنوبی افریقہ، جہاں سب صحارا افریقہ کی سب سے بڑی یہودی کمیونٹی آباد ہے، اسرائیل کا سخت ناقد اور فلسطینی کاز کا بڑا حامی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنوبی افریقہ کی حکومت نے 2023 میں عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ پر اس کی جنگ اقوام متحدہ کے 1948 کے ’جینوسائڈ کنونشن‘ (نسل کشی کے کنونشن) کی خلاف ورزی ہے۔

اسرائیل نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

جب نومبر میں 150 سے زائد فلسطینی اسرائیل کے ڈیپارچر سٹمپ (روانگی کی مہر) کے بغیر جنوبی افریقہ پہنچے تو جنوبی افریقی وزیر خارجہ رونالڈ لامولا نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ’فلسطینیوں کو غزہ اور ویسٹ بینک سے نکالنے کا ایک واضح ایجنڈا موجود ہے‘۔

جنوبی افریقہ میں غزہ میں اسرائیلی حکومت اور فوج کے اقدامات کے خلاف باقاعدگی سے مظاہرے ہوتے رہے ہیں، جن میں پریٹوریا میں اسرائیلی سفارت خانہ بند کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی جنوبی افریقہ کے تعلقات گذشتہ ایک سال کے دوران خراب ہوئے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف دائر مقدمہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا