ڈاگ سینٹر میں بھوکے کتے چھوٹے کتوں کو کھا رہے تھے: پریشے خان

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس قسم کے مقدمات سے نہیں ڈرتیں اور ان جانوروں کے لیے آواز اٹھاتی رہیں گی۔

اسلام آباد میں گذشتہ ماہ پولیس نے ایک خاتون اینکر پریشے خان کو مبینہ طور پر کیپیٹل ڈیولمپنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ایک مرکز سے کتے چوری کرنے کے مقدمے میں گرفتار کر لیا تھا۔

کتے چوری کرنے کا الزام اور وہ بھی آوارہ گلی سے پکڑے کتے بعض لوگوں کو کافی مضحکہ خیز معلوم ہوا۔ تو انڈپینڈنٹ اردو نے ضمانت پر رہائی پانے والے پریشے خان سے واقعے کی تفصیل جاننے کے لیے انٹرویو کیا۔

پریشے خان نے الزام عائد کیا کہ سی ڈی اے کے ڈاگ سینٹر میں جانوروں سے ہونے والی مبینہ بدسلوکی پر آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں خود ان کتوں کو جو بقول ان کے بھوک کی حالت میں چھوٹے کتوں کو کھا رہے تھے لے جانے کی پیشکش کی گئی تھی۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ سی ڈی اے انتظامیہ نے انہیں خود سینٹر سے کتے لے جانے کا کہا تھا، اور ان تمام باتوں کے ان کے پاس میسجز، کالز اور وڈیوز بطور شواہد موجود ہیں۔

پریشے خان کہتی ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب یہ سارا واقعہ پیش آیا، چند ہی منٹوں میں سی ڈی اے کے اعلی عہدے دار ترلائی کے علاقے میں واقع ڈاگ سینٹر پہنچ گئے۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان تقی جواد نے پریشے اور تین دیگر افراد کی گرفتاری کی وجہ کتوں کو سی ڈی اے شیلٹر سے ’غیر قانونی‘ طور پر اجازت کے بغیر لے جانا بتائی تھی۔

یہ معاملہ اب اسلام آباد کی ایک عدالت میں زیر سماعت ہے اور 30 جنوری کو اس کی اگلی سماعت ہے۔

اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود میں ڈاگ سینٹر ترلائی سے بڑی تعداد میں کتوں کی مبینہ چوری، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سرکاری اہلکاروں سے مزاحمت کے الزامات پر پریشے سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاگ سینٹر کے سکیورٹی گارڈ کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 19 دسمبر، 2025 کو پیش آیا، جب تین گاڑیوں میں سوار افراد مبینہ طور پر زبردستی ڈاگ سینٹر کے اندر داخل ہوئے اور 50 سے 60 کتوں کو گاڑیوں میں لوڈ کر کے لے جانے لگے۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ اطلاع ملنے پر ڈاگ سینٹر کے سینیئر سکیورٹی انچارج ذوالفقار علی موقع پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ملزمان نے نہ صرف سرکاری فرائض میں رکاوٹ ڈالی بلکہ ایک شیڈ اور دیوار کو بھی نقصان پہنچایا۔

پولیس کے مطابق ملزمان کے پاس سینٹر میں داخلے کے لیے کوئی اجازت نامہ موجود نہیں تھا۔

تاہم پریشے خان کا دعوی ہے کہ انہیں سی ڈی اے کے اہلکاروں نے آنے کا کہنا تھا جس کے آڈیو ثبوت ان کے پاس محفوظ ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے سی ڈی اے سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا۔ تاہم خبر کی اشاعت تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا۔

ماضی میں ہم ٹی وی اور خیبر ٹی وی پر بطور اینکر خدمات انجام دینے والی پریشے خان جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ متعدد ویڈیوز بھی بنا چکی ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ وہ خود اپنی جیب سے ان کتوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس قسم کے مقدمات سے نہیں ڈرتیں اور ان جانوروں کے لیے آواز اٹھاتی رہیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی