اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہفتے کو وفاقی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی کے خلاف حکم جاری کرتے ہوئے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو دو فروری تک کسی بھی قسم کی کٹائی سے روک دیا ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ سی ڈی اے سمیت کوئی بھی ادارہ مقررہ تاریخ تک اسلام آباد میں درخت نہیں کاٹے گا۔
درختوں کی کٹائی روکنے سے متعلق درخواست نوید احمد نامی شہری کی جانب سے دائر کی گئی تھی اور یہ حکم نامہ کیس کی پہلی سماعت کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
عدالت نے سی ڈی اے، وزارت موسمیاتی تبدیلی اور انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت تک اس معاملے پر تفصیلی جواب جمع کروائیں۔
تحریری حکم نامے کے مطابق درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ درختوں کی کٹائی ماحولیاتی پروٹیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کے تحت کی جا رہی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس عمل سے اسلام آباد وائلڈ لائف آرڈیننس اور ماسٹر پلان کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
عدالت نے حکم نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ سی ڈی اے حکام اب تک یہ واضح نہیں کر سکے کہ ہزاروں درخت کاٹنے کی ضرورت اور وجہ کیا تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت تک تمام فریقین کو جواب جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے درختوں کی کٹائی پر عارضی پابندی برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔
درخواست میں کیا کہا گیا؟
شہری کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 2025 کے آخر اور 2026 کے آغاز میں سی ڈی اے نے ’شکرپڑیاں میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کی جس کے نتیجے میں ہزاروں بالغ درخت ختم ہو گئے۔‘
پریس رپورٹس اور سی ڈی اے حکام کے مطابق گذشتہ برس کے دوران اسلام آباد بھر میں تقریبا 29 ہزار ’ماحول دشمن‘ پیپر ملبری کے درخت کاٹے گئے، جن میں سے لگ بھگ آٹھ ہزار 700 درخت شکرپڑیاں میں تھے، جنہیں پولن کے مسئلے کے حل کے لیے ہٹایا گیا۔ اس عمل سے شکرپڑیاں کے بڑے علاقے بنجر ہو گئے اور ماحول کو کافی نقصان پہنچا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شہری نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ حالانکہ سی ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ کٹائی صرف پیپر ملبری کے درختوں تک محدود تھی اور یہ سپریم کورٹ کے 2023 اور 2025 کے احکامات کے مطابق کی گئی، تاہم عوام کے احتجاج اور عینی شاہدین کے مطابق ’مقامی اور الرجی پیدا نہ کرنے والے درخت بھی بلا امتیاز کاٹے گئے۔ یہ کارروائیاں ایچ-ایٹ، ایچ-نائن، ایف-نائن پارک، چک شہزاد اور زیرو پوائنٹ کے قریب بھی ہوئیں، جن کا تعلق پارکوں کی تزئین و آرائش، سڑکوں کی تعمیر اور بس ڈپو جیسے انفراسٹرکچر منصوبوں سے تھا۔‘
درخواست کے مطابق یہ اقدامات پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997، اسلام آباد وائلڈ لائف آرڈیننس 1979 اور اسلام آباد ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہیں۔
اتنے بڑے منصوبے پر عوامی سماعت نہیں کی گئی اور نہ ہی پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی نے وقت پر کوئی کارروائی کی جبکہ وزارت موسمیاتی تبدیلی نے بھی موثر کردار ادا نہیں کیا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر نے بھی پیپر ملبری کے خاتمے کی وجہ کو ہی دہرایا۔