راک سنگر جارج ہیریسن نے بنگلہ دیش بنانے میں کتنی مدد کی؟

اپنے دوست روی شنکر کی درخواست پر 1971 میں راک سٹار جارج ہیرسن نے بنگلہ دیش کے لیے امدادی کنسرٹ کیا جس سے لاکھوں ڈالر جمع ہوئے۔ فنون لطیفہ کی سافٹ طاقت کو عالمی تنازعات میں استعمال کرنے کی یہ کامیاب ترین مثال ہے۔

جارج ہیریسن کے کنسرٹ کا پوسٹر (ویکی پیڈیا)

یہ 1971 کے موسم گرما کے آغاز کی بات ہے۔ بھارتی موسیقار روی شنکر نے اپنے عالمی شہرت کے حامل دوست مقبول راک سنگر جارج ہیریسن سے درخواست کی کہ وہ مشرقی پاکستان کے طوفان اور فوجی آپریشن سے متاثرہ پناہ گزینوں کے لیے ایک امدادی میوزک شو (کنسرٹ) منعقد کریں۔

جارج ہیریسن دنیا کی تاریخ کے مقبول میوزک بینڈ ’بیٹلز‘ کا حصہ رہے تھے جو ان دنوں حال ہی میں ٹوٹا تھا۔ وہ چند سال قبل ہی روی شنکر سے قریب ہوئے تھے اور چھ ہفتے بھارت میں گزار کر ستار بجانا سیکھ رہے تھے۔ وہ روی کو انکار نہ کر سکے اور اس طرح یکم اگست 1971 کو نیو یارک میں راک اینڈ رول میوزک کی تاریخ کا پہلا امدادی کنسرٹ منعقد ہوا۔ اس کا مقصد دنیا کو مشرقی پاکستان میں جاری آپریشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال سے آگاہ کرنا تھا۔

بظاہر یہ ایک امدادی کنسرٹ تھا لیکن یہ وائٹ ہاؤس میں موجود نکسن انتظامیہ، جو پاکستان کی اتحادی تھی، کو دباؤ میں لے آیا۔ یہ وہ دور تھا جب امریکہ چین سے تعلق بحال کرنے کے لیے پاکسستان کو کوریڈور کے طور پر استعمال کر رہا تھا اور اسے پاکستان کی ضرورت تھی۔

پاکستان کو 1971 کی انڈو پاک جنگ سے قبل دنیا میں سفارتی طور پر تنہا کرنے میں بھارت کی دیگر کوششوں کے ساتھ اس میوزک شو نے بھی بقدر اپنا حصہ ڈالا۔ پاکستانی اکثر 1971 کی جنگ میں امریکی بحری بڑے کے خلیج بنگال تک نہ پہنچنے کا گلہ کرتے ہیں لیکن اس کے پیچھے محرکات کا تجزیہ نہیں کیا جاتا جس میں پاکستان کو تنہا کرنے کی کامیاب بھارتی کوششیں بھی شامل ہیں۔

یہ وہ وقت تھا جب بیٹلز نامی میوزک بینڈ 1960 سے 1970 تک پرفارم کرنے کے بعد تحلیل ہو چکا تھا اور اس کے فنکار اکیلے پرفارم کر رہے تھے لیکن ان کی مقبولیت پھر بھی آسمان کو چھو رہی تھی۔ ان کے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ ساری دنیا میں سنا جاتا تھا۔

مختلف اندازوں کے مطابق آج کی تاریخ تک بیٹلز کے ساٹھ کروڑ ریکارڈز فروخت ہو چکے ہیں اور ان کا یہ ریکارڈ نہ کوئی اور میوزک بینڈ توڑ سکا ہے اور نہ ہی کوئی سولو فنکار۔ بینڈ ٹوٹنے کے باوجود ہیرسن ’کنسرٹ فار بنگلہ دیش‘ نامی اس امدادی شو کے لیے بینڈ کے کئی سابق فنکاروں کو جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے جس نے شو کی مقبولیت کو چار چند لگا دیئے۔

اس راک اینڈ رول میوزک شو کے اثرات کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اس دور کی عالمی اور مقامی سیاست کا تجزیہ کرنا بہت ضروری ہے۔

پاکستانی فوج کوئی چار ماہ سے مشرقی حصے میں آپریشن میں الجھی ہوئی تھی جبکہ امریکہ کو ویتنامیوں پر بمباری کرتے ہوئے سولہواں سال شروع ہو چکا تھا۔ اسی طرح بھارت میں بنگال میں مارکسسٹ اور ماؤ بغاوتوں کے علاوہ کشمیر، ناگا لینڈ اور میزو لینڈ میں علیحدگی کی تحریکیں بھارتی حکومت کے لیے درد سر بنی ہوئیں تھیں اور انہیں فوجی طاقت کے ذریعے سختی سے کچلا جا رہا تھا۔

بھارت کے زیر انتظام حکومت بنگال میں نکسلائٹ بغاوت عروج پر تھی جہاں چند ماہ قبل انتخابات کے موقعے پر فوج کے دو ڈویژن تعینات کرنے پڑے تھے جو ہنوز موجود تھے۔ یہ بارڈر سکیورٹی فورس اور پولیس کی بھاری نفری کے علاوہ تھے۔ پانچ سال قبل انڈیا میزو رام نامی ریاست بھارتی فضائیہ کی بمباری کا نشانہ بھی بن چکی تھی۔ اس کے علاوہ ناگا لینڈ میں علیحدگی کی تحریک کو بری طرح کچلا گیا تھا اور کشمیر بھی درد سر بنا ہوا تھا۔

’بلڈ ٹیلیگرام: آ فورگوٹن جینو سائیڈ‘ کے مصنف گیری جے بیس کے مطابق 1970 کے انتخابات سے قبل بیس ماہ میں مغربی بنگال میں ایک لاکھ کے قریب سیاسی ورکرز سیاسی مقدمات کا سامنا کر رہے تھے اور ہزاروں نوجوان جیلوں میں ٹھونسے گئی تھے۔ 1971 کے تنازعے پر ’ڈیڈ ریکننگ‘ نامی کتاب کی مصنفہ اور محققہ سرمیلا بوس کے مطابق, جو اس وقت کلکتہ کی رہائشی اور نو سال کی بچی تھیں، صبح کی سیر کے دوران نکسلائٹ باغیوں کی لاشیں سڑک کے کنارے ملنا ان کی بچپن کی یادوں میں سے ایک ہے۔

قصہ مختصر، امریکہ اور بھارت کی فوجیں بھی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں میں ملوث تھیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ان انسانی بحرانوں پر کوئی میوزک شو سامنے نہیں آیا؟

یہی بات اس شو سے پہلے ایک امریکی صحافی نے جارج ہیریسن سے پوچھی۔ ہیریسن کا مختصر جواب تھا، ’اس لیے کے میرے دوست نے مجھ سے مدد مانگی تھی اور بس۔‘

ہیریسن کے لکھے ہوئے بنگلادیش نامی گانے کے بول بھی یہی بتاتے ہیں کہ وہ براہ راست اس بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔

’میرا دوست میرے پاس آیا

اپنی آنکھوں میں اداسی لیے

کہا کہ اسے میری مدد چاہیے

اس سے پہلے کہ اس کا ملک ختم ہو جائے (روی شنکر بنگالی تھے)

گو میں اس کا درد محسوس نہیں کر سکتا

لیکن مجھے معلوم تھا مجھے کوشش کرنی ہے

اب میں آپ سب سے یہ کہوں گا

ہماری مدد کریں چند جانیں بچانے کے لیے

بنگلہ دیش بنگلہ دیش‘

یاد رہے یہ بول بنگلہ دیش کے قیام سے کم از کم چار ماہ 16 دن پہلے لکھے گئے۔ اس کنسرٹ سے پیشتر مشرقی پاکستان یا بنگال کو امریکی عوام شاید ہی جانتی ہو لیکن اس کنسرٹ کے بعد ہر ایک کی زبان پر بنگلہ دیش کا نام تھا۔

شو سے ڈھائی لاکھ ڈالر کی خطیر رقم حاصل ہوئی لیکن اس سے بہت بڑھ کر اس نے بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک سے دنیا کو آگاہ کیا اور اس حوالے سے اس کنسرٹ کی بنگلہ دیشی تاریخ میں بہت اہمیت ہے۔ 

نکسن اور ہنری کسنجر

نیو یارک میں منعقد ہونے والا یہ شو اتنا مقبول ہوا کہ اس کی باز گشت نکسن کے وائٹ ہاؤس میں بھی پہنچی جہاں نکسن اور ان کے سیکرٹری آف سٹیٹ کسنجر کی گفتگو پر مبنی ریکارڈڈ ٹیپس اب ڈی کلاسیفائی ہو چکی ہیں۔

ان ٹیپس کے مطابق تعجب زدہ ہنری کسنجر نکسن سے بوکھلا کر پوچھتے ہیں کہ شو کی یہ رقم مشرقی پاکستان جائے گی یا بھارت؟ جس پر نکسن جواب دیتے ہیں کہ بھارت۔ کسنجر کہتے ہیں کہ ’بھارت کو تو ہم پہلے ہی پناہ گزینوں کی بحالی کے لیے دس کروڑ ڈالر کی امداد دے چکے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نکسن کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ یہی ہے ہم یہ رقم بھارت کی حکومت کو دے رہے ہیں۔ وہ یہ رقم کسی دوسرے مقصد کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔‘

اس پر کسنجر جواب دیتے ہیں کہ ’بھارت کسی کو بھی براہ راست کیمپوں تک رسائی نہیں دے رہا۔‘  (بحوالہ گیری جے بیس 2013 )

دنیا کا سب سے طاقت ور سماجی بیانیہ

ہیریسن کے لکھے اور گائے ہوئے گانے بنگلہ دیش کو موسیقی کی تاریخ کا سب سے طاقت ور سماجی بیان کہا جاتا ہے اور اس گیت نے بنگلہ دیش کے قیام کے لیے عالمی حمایت حاصل کی۔ یہ پاپ میوزک کا پہلا چیرٹی سنگل (خیراتی مقصد کے لیے سولو پرفارمنس) بھی کہلاتا ہے۔

نیو یارک کے میڈیسن سکوئر گارڈن میں منعقد ہونے والے شو کے بعد بنگلہ دیش نام سے ایک البم ریلیز کیا گیا اور 1972 میں اسی نام سے ایک ڈاکیومنٹری فلم بھی ریلیز کی گئی جن سے خطیر رقوم حاصل ہوئیں۔

فنون لطیفہ کی سافٹ طاقت کو عالمی تنازعات میں استعمال کرنے کی یہ کامیاب ترین مثال ہے۔ 2005 میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے بنگلہ دیش کے بحران کو دنیا تک پہنچانے کے لیے اس پرفارمنس کو خراج تحسین پیش کیا۔

 

یہی نہیں یونیسیف نے انسانی بحرانوں میں بحالی کے لیے جارج ہیریسن کے نام سے مستقل فنڈ بھی قائم کیا جو آج تک موجود ہے۔

پاکستان میں شاید کوئی جارج ہیریسن سے آگاہ نہیں اور نہ ہی بنگلہ دیش نامی فن پارے سے۔ ’بلڈ ٹیلی گرام‘ کے مصنف گیری جے بیس کے مطابق راک اینڈ رول کی اس طاقت نے، جو بلاشبہ پاکستان کی بدنامی کا باعث بنی، پاکستان فوج کو بھی متفکر کر دیا۔ تمام پاکستانی سفارت خانوں کو ایک پاکستان مخالف گراموفون ریکارڈ ’بنگلادیش‘ کے بارے میں خبردار کیا گیا کہ دنیا میں اس کے پھیلاؤ کو روکا جائے اور یہ کہ یہ ریکارڈ پاکستان دشمن پروپیگینڈے پر مبنی ہے۔

جارج ہیریسن کا ذکر بنگلہ دیش میں ایک ہیرو کے طور پر کیا جاتا ہے۔ 

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت راک اینڈ رول کی طاقت کو نیو یارک میں پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا تھا، امریکی فوج کو ویت نامیوں پر بم برساتے ہوئے پورے 16 سال گزر چکے تھے۔ بھارتی فوج حیدرآباد دکن، میزو رام، ناگا لینڈ، مغربی بنگال میں مسلسل بغاوتوں کو کچل رہی تھی لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ نہ تو ویت نام کی جنگ پر (جو 1955 سے 1975 تک جاری رہی) کوئی میوزک البم سامنے آیا نہ ہی کلکتہ، کشمیر، ناگا لینڈ اور میزورام کے حوالے سے دنیا میں کوئی پاپ کلچر کی پرفارمنس سامنے آئی۔

۔۔۔۔

اس مضمون کی تیاری میں وائٹ ہاؤس کی ڈی کلاسیفائیڈ ٹیپس، گیری جے بیس کی کتاب بلڈ ٹیلیگرام: آ فورگوٹن جینو سائیڈ، روی شنکر اور جارج ہیریسن کے انٹرویوز پر مبنی یوٹیوب ویڈیوز، نیو یارک ٹائمز اور رولنگ سٹون کے مضامین سے مدد لی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ