کیا پاکستان فائیو جی سروس کے لیے تیار ہے؟

تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی اور ٹیلی کام سیکٹر میں فائیو جی سروس کے آغاز کے لیے سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی فروری کے آخر میں ہونے جا رہی ہے۔ 

ہارون راجہ گذشتہ 26 برس سے فری لانسنگ کر رہے ہیں اور ان کا بیشتر کام انٹرنیٹ پر منحصر ہے۔ چاہے فور جی ہو یا براڈ بینڈ، انہیں مستحکم اور بلاتعطل انٹرنیٹ فراہمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

ہارون کہتے ہیں کہ ’اصل مسئلہ صرف انٹرنیٹ کی موجودگی کا نہیں بلکہ رفتار کا بھی ہے۔ ویڈیو کال ہو، لائیو پریزینٹیشن یا بڑی فائل اَپ لوڈ کرنا، اگر انٹرنیٹ کی سپیڈ کم ہو گی تو پورا کام رک جاتا ہے۔‘

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی گذشتہ برس جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریباً 30 لاکھ فری لانسرز ہیں، لیکن انٹرنیٹ سپیڈ میں بہتری صرف ان کی نہیں بلکہ کروڑوں انٹرنیٹ صارفین کی ضرورت اور خواہش ہے۔

پاکستان کے ادارہ برائے شماریات کے مطابق ملک میں تقریبا 15 کروڑ انٹرنیٹ صارفین ہیں۔ یہ تعداد 2019 سے دو گنا زیادہ ہے، لیکن اس کے باوجود صارفین کو اکثر رفتار اور بلاتعطل فراہمی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک جانب جہاں شہری علاقوں میں بظاہر ’تیز سپیڈ والا انٹرنیٹ‘ دستیاب ہے، وہیں دیہی اور دور دراز علاقوں میں صارفین کو ’سلو سپیڈ انٹرنیٹ‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

دنیا کے اکثر ممالک میں فائیو جی سروس شروع ہو چکی ہے، لیکن پاکستان میں اس وقت فور جی اور تھری جی سروس کام کر رہی ہیں۔ 

ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی اور ٹیلی کام سیکٹر میں فائیو جی سروس کے آغاز کے لیے سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی فروری کے آخر میں ہونے جا رہی ہے۔ 

پی ٹی اے کی جانب سے نیلامی کے لیے جاری کردہ انفارمیشن میمورینڈم کے مطابق ملک میں فائیو جی سروس کو 2035 تک تین مختلف مراحل میں متعارف کروایا جائے گا۔ 

ان شرائط کے تحت پہلے مرحلے میں ٹیلی کام کمپنیوں پر یہ لازم ہو گا کہ وہ 2028 تک ملک کے بڑے شہروں میں فائیو جی سروس فراہم کریں اور ساتھ ہی فور جی کی رفتار کو بھی کم از کم 20 ایم بی تک بڑھایا جائے گا۔ 

لیکن کیا پاکستان فائیو جی سروس کے لیے تیار ہے؟ انڈپینڈنٹ اردو نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے۔ 

ٹیلی کام آپریٹر کمپنی جاز میں بطور وائس پریزیڈنٹ پبلک پالیسی و ریگولیٹری اتھارٹی کام کرنے والے مدثر حسین نے سپیکٹرم کا موازنہ ایک شاہراہ سے کرتے ہوئے کہا کہ ’جتنی کھلی شاہراہ ہو گی، اتنی بہتر فائیو جی سروس صارفین کو میسر آئے گی۔‘

یاد رہے کہ انفارمیشن میمورینڈم میں حکومت نے فائیو جی کی نیلامی کو سپیکٹرم ٹیکنالوجی سے مشروط کیا ہے۔ 

تاہم اطلاعات کے مطابق ٹیلی کام آپریٹرز کو اس شرط پر تحفظات ہیں۔ 

مدثر حسین نے ’نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی‘ کے لیے چار اہم عناصر کو اس سے مشروط کیا ہے، جو صارفین کو بہتر اور مستحکم انٹرنیٹ فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکیں گے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ پہلا عنصر فریکوینسی سپیکٹرم ہے۔ ’موبائل فونز کے لیے جو فریکوینسی استعمال ہوتی ہے، اسے اگلی جنریشن کے لیے اپ گریڈ کرنا ضروری ہے۔ جتنا زیادہ سپیکٹرم دستیاب ہوگا، اتنی زیادہ کوالٹی اور بینڈ وڈتھ صارفین کو میسر آئے گی۔‘

مدثر حسین کے مطابق: ’فائیو جی ٹیکنالوجی کے لیے ٹاور انفراسٹرکچر کا ہونا بھی ضروری ہے۔ موبائل آپریٹرز کو اپنے ٹاورز پر ٹیکنالوجی اپ گریڈ کرنا ہوگی تاکہ یہ جدید نیٹ ورک سروس فراہم کر سکیں۔ تیسرا عنصر بیک ہال کنکشن ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ٹاور کے پیچھے جو سسٹم ہے اسے مضبوط کرنا لازمی ہے تاکہ زیادہ ٹریفک کو موثر طریقے سے ہینڈل کیا جا سکے۔

وائس پریزیڈنٹ جاز کے مطابق آخری عنصر ہینڈ سیٹس ہیں۔ ’صارفین کے پاس فائیو جی کمپیٹیبل سیٹس ہونا لازمی ہیں، کیونکہ جتنے زیادہ ہینڈ سیٹ ہوں گے، اتنے زیادہ افراد فائیو جی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔‘

پی ٹی اے کی جانب سے دسمبر 2025 میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت تھری جی اور فور جی براڈ بینڈ صارفین کی تعداد تقریبا 15 کروڑ ہے جبکہ کل موبائل سبسکرائبرز کی تعداد تقریباً 20 کروڑ تھی۔

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے حکومت کی کوشش ہے کہ فائیو جی کی نیلامی کی جائے، جس سے تھری جی اور فور جی کی سروس تقریباً تین سے چار ماہ میں بہتر ہو جائے گی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ’فائیو جی کے حوالے سے ہماری کوشش ہے کہ بڑے شہروں میں چھ مہینے کے اندر رول آکشن کیا جائے۔ کچھ کمپنیاں اس حوالے سے رابطے میں ہیں تاکہ ان کی رضا مندی حاصل کی جا سکے۔ کمپنیاں بھی اپنے داخلی معاملات فائنلائز کر رہی ہیں اور ہم نے اس سلسلے میں انہیں تین ہفتے کا وقت دیا ہے۔‘

ٹیلی کام ایکسپرٹ پرویز افتخار سمجھتے ہیں کہ نیلامی کے بعد سپیکٹرم جب آپریٹرز کے پاس آئے گا تو وہ اسے صرف فائیو جی کے لیے استعمال نہیں کر سکیں گے، بلکہ وہ فور جی کو بھی بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ اس عمل سے فور جی بہتر کام کر سکے گا لیکن فائیو جی بعد ازاں کام کر سکے گا، ’کیونکہ جو سپیکٹرم جاری کیا جا رہا ہے یا نیلام ہو رہا ہے، اس میں فور جی بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، فائیو جی استعمال کرنے کے لیے فی الحال اتنا فائدہ نہیں ہوگا۔‘

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سپیکٹرم سے اگر فور جی چلائیں گے تو اس کی سپیڈ اور کنکٹیوٹی بہتر ہوگی اور زیادہ افراد کو فائدہ پہنچے گا جبکہ فیوچرسٹک ٹیکنالوجی ہے۔‘

پرویز افتخار کے مطابق فائیو جی کا استعمال شروع میں بہت کم ہوگا کیونکہ پاکستان میں فائیو جی کی سہولت کے حامل موبائل فونز بہت کم ہیں اور ان کی قیمت بھی عمومی طور پر تقریباً ایک لاکھ روپے ہوتی ہے، لیکن اتنے مہنگے موبائل فون کئی افراد کی قوت خرید میں شامل نہیں ہوتے اور نہ ہی پاکستان میں ایسے موبائل فونز بنتے ہیں۔ 

پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ فائیو جی کا استمعال فکسڈ یوز کے ذریعے ہو سکتا ہے، یعنی ہر گھر میں فائبر آپٹک کے بجائے فکسڈ فائیو جی کنیکشن دے دینا اور ہر گھر کو ایسا کنیکشن دیا جائے جیسا فائبر کا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق: ’اس سے خالی موبائل فون ہی نہیں، بلکہ فکسڈ وائرلیس استعمال ہو سکے گا۔ موبائل فونز آہستہ آہستہ بڑھیں گے اور فائیو جی بھی آہستہ آہستہ ہی بڑھے گا۔‘

یاد رہے فائیو جی پہلے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں لانچ کیا جائے گا۔

پرویز افتخار سمجھتے ہیں کہ سپیکٹرم کے بغیر فائیو جی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ اسے شروع میں کچھ جگہوں پر لگائیں گے، پھر آہستہ آہستہ بڑھائیں گے۔ 

’اس کی شرائط میں لکھا ہوا ہے کہ آپریٹرز پر نرمی ہونی چاہیے کہ کم کم جگہوں پر استعمال شروع کریں اور جس رفتار سے بڑھانا ہے، وہ آپریٹرز کی مارکیٹ پر چھوڑ دی جائے۔ مارکیٹ خود اسے ڈرائیو کرے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پورا ملک فائیو جی کے لیے تیار نہیں ہے، لیکن کچھ جگہوں پر یہ ممکن ہے۔ مثال کے طور پر، فائیو جی کے لیے جو ٹاور ہے، اس کا بیک اینڈ کنکشن فائبر پر ہونا چاہیے، لیکن پاکستان بھر میں اوسطاً صرف 15 فیصد سے کم ٹاورز فائبر سے جڑے ہیں۔ کچھ بڑے شہروں، خاص طور پر کمرشل علاقوں میں، زیادہ ٹاورز کنیکٹڈ ہیں۔‘

پرویز افتخار نے کہا کہ سپیڈ کو بڑھانے کی شرائط سخت ہیں اور ان میں نرمی ہونی چاہیے۔

پرویز افتخار نے سپیکٹرم اور فائیو جی ٹیکنالوجی کے تعلق کو سمجھاتے ہوئے کہا: ’سپیکٹرم ایک ہائی وے کی طرح ہے اور اس میں حکومت نے لینز کھولیں جو اب تک بند تھیں۔ یہ لینز فور جی کے لیے زیادہ تیز رفتاری اور بہتر کنیکٹیویٹی فراہم کریں گی۔ پھر نئی ٹائپ کی بسز (فائیو جی) آئیں گی، جن کا آغاز کم سے کم ہونا چاہیے اور ان کے بڑھانے کا فیصلہ آپریٹرز پر چھوڑنا چاہیے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی