کراچی کا بجلی بحران اور سرکاری معاہدے‎

کے الیکٹرک کی بری کارکردگی کے بعد اس طرح کی رائے دی گئی کہ حکومت اسے واپس قومیا لے۔ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے مزید مسائل جنم لیں گے۔

ریاست کا منافع بخش کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ اسی لیے میں ایسے اداروں کی نج کاری کا حامی ہوں جن کا بنیادی مقصد نفع کمانا ہے۔ مثلاً پی آئی آے، این ایس سی، ایس این جی سی، ریلوے، سٹیل ملز وغیرہ۔

لیکن اس معاملے میں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کچھ صنعتیں ایسی ہیں جنہیں معاشی لحاظ سے قدرتی اجارہ داری تصور کیا جاتا ہے۔ بجلی، پانی، موٹر وے، اور ریلوے ایسے ادارے ہیں جنہیں اگر کسی کمپنی کو بیچ دیا جائے تو ان کی مکمل اجارہ داری قائم ہو جاتی ہے اور مقابلہ نہ ہونے کی وجہ سے من مانی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اس لیے انہیں نجی تحویل میں دیتے ہوئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان پر نظر رکھنے کے لیے ریاستی ادارے، مقامی قوانین اور انہیں نافذ کرنے والے ادارے مضبوط ہوں۔ ہم نے کچھ اداروں جن میں کراچی الیکٹرک بھی شامل ہے کی نجکاری تو کر دی مگر ریاستی ادارے جو ان پر نظر رکھیں انہیں کمزور رکھا۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کے عوام کو نہ صرف مہنگی بجلی اور گیس مل رہی ہے بلکہ غیرمعیاری سروس بھی۔ ابھی پچھلے دنوں ہم نے دیکھا کے تیل کی قیمت کم ہونے کے بعد عوام کو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اس لیے کہ ریاستی ادارے تیل بیچنے والی کمپنیوں کے سامنے بے بس ہو گئے۔ اب یہی صورت حال کراچی کی بجلی پیدا کرنے والی کمپنی کے معاملے میں دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ریاست ان کو سزا دینے کے بجائے ان کے سامنے مکمل مجبور نظر آتی ہے۔

صرف یہی ایک مسئلہ نہیں ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ریاستی ادارے کمرشل معاہدے کرتے ہوئے قوم کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔ اب تک جتنے بھی معاہدے ہم نے کیے اس میں خریدار نے نہ پوری قیمت ادا کی اور نہ ان شقوں کو پورا کیا جو عوام کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔

کراچی الیکٹرک کمپنی کو خریدنے والے نے ایک اندازے کے مطابق پاکستانی عوام کے 230 ارب روپے دینے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے غلط بلوں کے ذریعے اربوں روپے صارف سے لیے اور بجلی کی ترسیل کے نظام میں معاہدے کے باوجود سرمایہ کاری کے ذریعہ توسیع نہیں کی۔

حکومت کے فنانس وزیر اس وقت نجکاری کے وزیر رہے جب کے الیکٹرک کا سودا ہوا اور موجودہ وزیراعظم کی الیکشن مہم میں خریدار نے مبینہ طور پر پیسے بھی لگائے۔ نتیجہ یہ ہے کہ حکومت عوام اور ملک کے مفادات کی بجائے خریدار کے سامنے بے بس ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی نہیں جب پی ٹی سی ایل فروخت ہوئی اس وقت بھی خریدار نے اس غریب ملک کے 1100 ارب روپے نہیں دیئے جو اب تک واجب الادا ہیں۔ ہم ان سے اپنے پیسے مانگنے کی بجائے اسی پر خوش ہیں کے انہوں نے ہمیں تقریباً اتنا ہی پیسہ خیرات میں دیا مگر اس پر بھی سود انہیں دینا ہے۔

یہ صرف دو مثالیں ہیں۔ ایسی درجنوں مثالیں آپ تھوڑی تحقیق کریں تو آپ کو مل جائیں گی۔ تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا قانون اور ہماری عدالتیں کاروباری معاہدوں کے معاملے میں کمزور رہی ہیں۔ ہمارے اکثر سپریم کورٹ کے جج کاروباری مقدمات کا تجربہ رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے کچھ ایسے فیصلے کیے جن سے اس ملک کا فائدہ ہونے کی بجائے بےانتہا نقصان ہوا۔ ریکوڈیک اور سٹیل ملز دو مثالیں ہیں جس میں غلط عدالتی فیصلوں کی وجہ سے ملک کو کھربوں کا نقصان ہوا۔

یہ وہ چند وجوہات ہیں جن کی وجہ سے وہ کمپنیاں جو اچھی شہرت رکھتی ہیں وہ پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک مشکل ملک سمجھتی ہیں۔ اگر ہم نے ان تمام معاملات کو ٹھیک نہیں کیا تو ہم ہمیشہ معاشی طور پر دنیا میں پیچھے ہی رہیں گے۔ نہ ہم ملازمتیں پیدا کر سکیں گے اور نہ اپنی برآمدات بڑھا سکیں گے۔

کے الیکٹرک کی بری کارکردگی کے بعد اس طرح کی رائے دی گئی کہ حکومت اسے واپس قومیا لے۔ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے مزید مسائل جنم لیں گے۔ ریاستی اداروں کو معاہدے پر مکمل عمل درآمد کروانا چاہیے جن میں عوام کے مفادات کی شقیں موجود ہیں۔

جہاں کمپنی نے معاہدے سے خلاف ورزی کی اس پر جرمانہ ہو۔ جو رقم ان پر واجب الادا ہے اسے وصول کیا جائے۔ اس بات کو یقین بنایا جائے کہ بل ٹھیک ہوں۔ سرکاری اداروں کے جو بل ہیں وہ ادا کئے جائیں اور بجلی چوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اگر ہر معاملہ میں انصاف ہو تو ہر مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ