لیونل میسی بمقابلہ کرسٹیانو رونالڈو؟ ایک بےمعنی بحث

ارجنٹینا کے کپتان نے اپنی 39ویں سالگرہ سے پہلے ورلڈ کپ میں غیر معمولی فارم دکھائی ہے اور اب تک کے سب سے عظیم فٹ بالر کے بارے میں ہونے والی پرانی بحثوں کو ایک نیا زاویہ دیا ہے۔

لیونل میسی بمقابلہ کرسٹیانو رونالڈو؟ ایک بےمعنی بحث (گرافک: کو پائلٹ)

جب ہر کوئی الفاظ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا، اور (ارجنٹینا ٹیم کے موجودہ کوچ) لیونل سکالونی ایک بار پھر کہہ رہے تھے کہ لیونل میسی کی وضاحت ممکن نہیں، تو تماشائیوں کی گونج نے سب کچھ کہہ دیا۔

اور ایسی دو گونجیں تھیں۔

ایک ان کے شان دار فرسٹ ٹائم فنش پر تھی، جس کے ذریعے انہوں نے اپنا 17واں گول کر کے ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا ریکارڈ توڑا۔

دوسری اس وقت بلند ہوئی جب وہ اپنے روایتی طور پر لاجواب پہلے ٹچ اور مسلسل دوڑ کے ذریعے سب سے آگے نکل گئے، اور آسٹریا کے خلاف اس 0-2 فتح کو ایک شان دار عروج تک پہنچا دیا۔

جب میسی نے ریکارڈ 18واں گول کیا، تو ڈلاس کاؤبائز سٹیڈیم (ارجنٹینا کے فٹ بال گراونڈ) بومبونیرا جیسا محسوس ہونے لگا، کیوں کہ اتنے زیادہ مداح صرف ایک چیز دیکھنے کے لیے سفر کر کے آئے تھے... عظمت۔ کیا اب یہ لفظ بھی کافی ہے؟

خود ان کے اپنے معیار کے حساب سے بھی یہ سب کچھ حیران کن حد تک غیر معمولی ہوتا جا رہا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ 2022 کا ورلڈ کپ اس کشمکش سے عبارت تھا کہ کہیں اس وقت ان کا ہر میچ ان کا آخری نہ ہو، اور یہ کہ آیا وہ کبھی اس عظیم جستجو کو مکمل کر پائیں گے یا نہیں۔

سوچنے کی بات ہے کہ فٹ بال کا یہ سب سے بڑا ٹورنامنٹ کبھی میسی کے لیے صرف درد اور مایوسی کا نام تھا۔ وہ اعتراف کر چکے ہیں کہ 2014 کے ہارے ہوئے فائنل کے خیال سے وہ آدھی رات کو جاگ جایا کرتے تھے۔

اب وہ ہر خواب، ہر توقع کو پورا کر رہے ہیں، جو ان کی کم عمری کے اس سارے ٹیلنٹ سے وابستہ تھی۔

میسی صرف ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی نہیں رہے، بلکہ اب وہ اس کے تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی ہیں، اور ممکن ہے کہ وہ تیسری بار ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا گولڈن بال، پہلی بار گولڈن بوٹ اور شاید، بس شاید، دوسری بار فاتح کا میڈل بھی حاصل کر لیں۔

امریکہ میں دو میچوں میں وہ پہلے ہی پانچ گول کر چکے ہیں، یعنی انہوں نے اتنے ہی گول کر لیے ہیں جتنے سابق ریکارڈ ہولڈر میروسلاو کلوزے نے 2006 میں گولڈن بوٹ جیتتے ہوئے کیے تھے، اور جتنے تھامس مولر نے 2010 میں کیے تھے۔ اور ابھی اردن کے خلاف گروپ میچ باقی ہے۔ کیا ہم جسٹ فونٹین کے ایک ہی ٹورنامنٹ میں 13 گول کے ریکارڈ کی طرف دیکھ رہے ہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ ہرگز ناممکن نہیں، خاص طور پر اگر گروپ سٹیج کے بعد ان کے گول آٹھ ہو جاتے ہیں۔

میسی سے محبت اپنی جگہ، لیکن جیسا کہ فرگی نے کہا تھا، رونی مل وال یا ڈونکاسٹر روورز کے لیے بھی کھیلتا تو ہیٹ ٹرک کر دیتا۔ کیا میسی ایسا کر سکتے؟ آر نائن 'ایل فینومینن' شاید ان دونوں سے بھی بہتر تھا....

اس حد تک پہنچے بغیر بھی، ان کا موجودہ ریکارڈ پہلے ہی اس تصور سے کہیں آگے ہے جو 20 سال پہلے اس وقت کیا گیا تھا جب انہوں نے سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف دوڑتے ہوئے اپنا پہلا ورلڈ کپ گول کیا تھا۔

بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ان کی ورلڈ کپ میراث اب شاید بارسلونا والی میراث سے بھی آگے نکل رہی ہے۔

وہ کئی حوالوں سے تنہا کھڑے ہیں۔

اگر کرسٹیانو رونالڈو کے ساتھ بحث ہمیشہ ہی بے معنی تھی، کیوں کہ حقیقت میں کبھی کوئی بحث تھی ہی نہیں، تو میسی اب اسے تاریخ کا محض ایک عجیب اتفاق ثابت کر رہے ہیں۔

تاہم یہ فرق ایک اور بات بھی بتاتا ہے۔

میسی اپنی 39ویں سالگرہ سے محض دو دن پہلے بھی ناقابل یقین حد تک بہترین سطح پر موجود ہیں، جبکہ رونالڈو بالکل 41 سالہ کھلاڑی جیسے دکھائی دیتے ہیں، جو وہ ہیں بھی۔

یہ پرتگالی کھلاڑی پر تنقید نہیں، سوائے اس ضد کے جو ان کی ٹیم کو نقصان پہنچا رہی ہے، کیوں کہ وہ 41 سال کے ہیں۔

یہ صرف اس بات کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ میسی کتنے غیر معمولی ہیں۔

جہاں رونالڈو اب بنیادی کام کرنے میں بھی زور لگاتے دکھائی دیتے ہیں، وہیں میسی اب بھی ایسے کام انتہائی آسانی سے کرتے نظر آتے ہیں جو تاریخ میں بہت کم لوگ کر پائے ہیں۔

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کہیں زیادہ خالص اور کہیں بہتر فٹ بالر تھے، اور شاید سب سے خالص فٹ بالر بھی۔

ڈیئگو میراڈونا اور پیلے کے پاس ہمیشہ ورلڈ کپ کی وہ میراثیں رہی ہیں، لیکن میسی کی میراث اب ان سے بھی بڑی ہونے کے قریب ہے۔

یقینا اس سب میں سے کچھ باتیں ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہیں کہ وہ جدید دور کی سب سے مکمل پیداوار بھی ہیں، اور واقعی ایک منفرد شخصیت بھی۔

ہمیں یہ دلائل دہرانے کی ضرورت نہیں کہ میسی کو اپنے دور کے کئی ایسے فائدے حاصل رہے جو میراڈونا اور ان سے پہلے کے عظیم کھلاڑیوں کو حاصل نہیں تھے۔ یہ بھی اب بھی درست ہے کہ انہوں نے ایک تبدیلی پر کام کیا۔ 2014 کے بعد، جب اس ورلڈ کپ میں انہیں فٹنس کے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے اپنے جسم کا بہتر خیال رکھنا شروع کیا۔ اس لحاظ سے وہ رونالڈو کے کافی قریب ہو گئے، اگرچہ وہ کبھی رونالڈو جیسی غیر معمولی حدوں تک نہیں گئے۔

اور یہی بات اب حیران کن ہے۔ وہ اب بھی اسی طرح حرکت کرتے اور کھیلتے ہیں جیسے 10 سال پہلے کرتے تھے۔ شاید اب کھیل کچھ زیادہ وقفوں والا اور مجموعی طور پر زیادہ محدود کارکردگی سے آتا ہے، لیکن جب وہ اچانک کھلتے ہیں تو منظر اب بھی سانس روک دینے والا ہوتا ہے۔

آسٹریا کے خلاف دوسرا گول اسی بات کا مظہر تھا۔

اس نے یہ بھی واضح کیا کہ ارجنٹینا کے لیے اب بھی کتنا کچھ ان ہی کے گرد گھومتا ہے۔

اپنے اس لیجنڈ کے علاوہ یہ نسبتاً اوسط درجے کی اور کسی حد تک باسی ٹیم ہے۔ اس میچ میں کئی ادوار ایسے آئے جب وہ آسٹریا کے دباؤ کے سامنے خاصی غیر آرام دہ دکھائی دی۔ بہتر ٹیمیں شاید اس بھاری پن سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، اور یہ یقینی بنا سکتی ہیں کہ میسی ویسا اثر نہ ڈال سکیں۔

لیکن کچھ شکوک کے درمیان فی الحال یہی ایک سوال ہے۔

خود میسی کے بارے میں کوئی شک نہیں، اور نہ ہی ان کے مقام پر کوئی بحث ہے۔

اور ممکن ہے ابھی مزید کچھ آنے والا ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال