نوالوں کے درمیان میں پانی پینے سے کھانے کی مقدار بڑھ سکتی ہے: تحقیق

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ پانی زبان پر ذائقوں کے فرق کو تازہ کر دیتا ہے اور کھانا زیادہ دیر تک مزے دار محسوس ہوتا رہتا ہے۔

16 مارچ 2024 کی اس تصویر میں راولپنڈی کی کرتارپورہ فوڈ سٹریٹ میں کھانا کھاتے شہری(اے ایف پی)

نئی تحقیق کے مطابق کھانا کھانے کے دوران پانی پینے سے انسان کے کھانے کی مقدار بڑھ سکتی۔ یہ تحقیق وزن کم کرنے کے ایک عرصے سے رائج تجویز کی مخالفت کرتی ہے۔

طویل عرصے سے یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ کھانے کے نوالوں کے درمیان پانی کے گھونٹ لینے سے جلد پیٹ بھرنے کا احساس ہوتا ہے اور زیادہ کھانا کھانے سے پہلے ہی کیلوریز کی مقدار کم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

تاہم، تحقیق کی بڑھتی ہوئی تعداد سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ خیال غلط ہو سکتا ہے۔

گذشتہ تحقیق میں دیکھا گیا کہ موٹاپے کے شکار افراد دبلے پتلے لوگوں کے مقابلے میں کھانے کے دوران زیادہ دیر تک پانی پیتے، زیادہ تیزی سے پیتے اور پورے کھانے کے دوران زیادہ باقاعدگی سے پانی کے گھونٹ لیتے تھے۔

اب ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کھانے کے دوران زیادہ پانی پینے کا تعلق کم نہیں بلکہ زیادہ کھانا کھانے سے ہے۔

کارنیل یونیورسٹی کے محققین نے پتہ لگایا کہ شرکا نے ہر اضافی 100 ملی لیٹر پانی پینے پر تقریبا 40 گرام زیادہ کھانا کھایا، جو لگ بھگ 50 اضافی کیلوریز کے برابر تھا۔

ایپیٹائٹ نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جو لوگ کھانے اور پانی پینے کے درمیان زیادہ بار ردوبدل کرتے تھے، انہوں نے بھی زیادہ کھانا کھایا۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ پانی زبان پر ذائقوں کے فرق کو تازہ کر دیتا ہے اور کھانا زیادہ دیر تک مزے دار محسوس ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح انسان دیر سے کھانا روکنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

کارنیل یونیورسٹی سے اس تحقیق کی مصنفہ پیج کننگھم نے کہا کہ ’یہ مشورہ بہت عام رہا ہے کہ پانی پینے سے ہمارا پیٹ بھر جاتا ہے، لیکن پانی معدے سے جلد نکل جاتا ہے، اس لیے غالب امکان ہے کہ اس سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس نہیں رہتا۔‘

ڈاکٹر کننگھم کا کہنا ہے کہ اس کی بجائے پانی ہمارے کھانے کی مقدار بڑھا سکتا ہے۔ یہ کھانا نگلنے میں آسانی پیدا کرتا ہے، جس سے کھانے کی رفتار تیز ہو سکتی ہے، اور منہ خشک ہونے سے بچاتا ہے، جس کی وجہ سے کھانے کا لطف زیادہ دیر تک برقرار رہ سکتا ہے۔‘

تحقیق میں محققین نے 86 بالغ افراد پر کیے گئے دو گذشتہ تجربات کے اعداد و شمار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان تجربات میں شرکا کو پانی کے ساتھ بیف چلی یا چکن تکہ مصالحہ دیا گیا اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق کھانے کی اجازت تھی۔

محققین نے پتہ لگایا کہ جن لوگوں نے پانی زیادہ تیزی سے پیا، انہوں نے کم کھانا کھایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس طرز کا تعلق اس بات سے ہو سکتا ہے کہ پانی منہ میں کتنی دیر رہتا ہے، یا یہ محض کھانے کے مجموعی دورانیے کو ظاہر کرتا ہو۔

ڈاکٹر کننگھم کے بقول: ’ہم اس وقت اس پر مزید تحقیق کر رہے ہیں تاکہ اس کے سبب اور نتیجے کے بارے میں واضح نتیجہ اخذ کر سکیں۔‘

سائنس دانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ’مجموعی طور پر لوگوں نے اس وقت زیادہ کھانا کھایا جب انہوں نے زیادہ پانی پیا اور نوالوں اور پانی کے گھونٹوں کے درمیان زیادہ بار ردوبدل کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی اور اسے پینے کے طریقے کھانے کی مقدار پر اثر ڈال سکتے ہیں۔‘

یہ نتائج کھانے کی مقدار کم کرنے کے لیے کھانے کے ساتھ پانی پینے کے عام غذائی مشورے کو چیلنج کرتے ہیں۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق