نینڈرتھال معدوم ہو گئے مگر انسان میں ان کا ڈی این اے زندہ ہے

یورپ اور ایشیا کے بہت سے باشندوں میں نینڈرتھالز کا ایک سے چار فیصد تک ڈی این اے موجود ہے جبکہ صحارا کے جنوب میں رہنے والے افریقی لوگوں میں یہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

19 جولائی، 2004 کی اس تصویر میں جرمنی کے ایک میوزیم میں سیاحوں کو نینڈرتھالزکے مجسموں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

1856 میں پہلی مرتبہ دریافت ہونے کے بعد نینڈرتھالز نے بطور انسان ہمیں اپنے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع فراہم کیا ہے۔

 ہم ان کے متعلق جس قدر معلومات کا گمان رکھتے ہیں وہ سب ہمارے اپنے ثقافتی رجحانات، سماجی اصولوں اور سائنسی معیارات کے مطابق ڈھل کر آیا ہے۔

 ان کے متعلق ہمارے نظریات تبدیل ہوئے، پہلے وہ محض آثار قدیمہ کا ایک کمزور نمونہ تھے، اب انہیں قدیم دور کے ترقی یافتہ انسانوں کے قریبی کزنز کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اب ہم جانتے ہیں کہ ہومو نینڈرتھالز ہم سے بہت سی مماثلتیں رکھتے تھے اور نہ صرف ہمارا ان سے میل جول رہا بلکہ تسلسل سے جنسی تعلقات بھی استوار رہے۔

 لیکن آخر ایسا کیا ہوا کہ وہ معدوم ہو کر رہ گئے جبکہ ہم نہ صرف بچ نکلے بلکہ ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے زمین کے وسائل پر قبضہ بھی کر لیا؟

غالب امکان یہی ہے کہ نی اینڈرتھال کے قدیم آبا و اجداد ہومو ہائیڈل برگ جینیسیس تھے جن سے وہ چار لاکھ سال پہلے ارتقا پذیر ہوئے۔

وہ انتہائی کامیابی سے آگے بڑھ رہے تھے اور ان کی نسل بحیرہ روم سے لے کر سائبیریا تک پھیلی چکی تھی۔

ان کی ذہانت کے معاملے میں کسی قسم کے شکوک و شبہات نہیں، یہاں تک کہ ان کا دماغ اوسطاً ہومو سیپینز سے بڑا تھا۔

شکار کے معاملے میں بھی ان کی صلاحیتوں محدود نہ تھیں، انہوں نے مختلف پودے، پھپھوندی اور سمندری غذا جمع کی، کھانا پکانے کے لیے آگ پر قابو پایا، جامع قسم کے اوزار تیار کیے، جانوروں کی کھالوں کو لباس بنانے کے لیے استعمال کیا اور ان کے خول سے مالائیں تیار کیں اور یہاں تک کہ وہ غار کی دیواروں پر مختلف علامتیں تراشنے کی اہلیت رکھتے تھے۔

انہوں نے اپنے بچوں، بوڑھوں اور مریضوں کی دیکھ بھال اور تحفظ یقینی بنانے کے لیے پناہ گاہیں تیار کیں۔ انہوں نے شدید سردی اور سخت گرمی کو برداشت کرتے ہوئے زندگی کی لو مدھم نہ ہونے دی۔ وہ مرنے والوں کو دفنایا کرتے تھے۔

لاکھوں سال کے اس عرصے میں نینڈرتھالز ہمارے آبا و اجداد سے کئی مواقع پر ملتے رہے اور دونوں کم از کم 14 ہزار سال تک مشترکہ طور پر یورپی براعظم پر موجود رہے۔ حتی کہ انہوں نے آپس میں جنسی تعلقات بھی استوار کیے۔

نینڈرتھال معدوم کیسے ہوئے؟

نینڈرتھال اور ہمارے درمیان سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ وہ تقریباً 40 ہزار سال پہلے معدوم ہو گئے۔

 ان کی معدومیت کی اصل وجہ اب بھی پوری طرح واضح نہیں لیکن ہمارے خیال کے مطابق یہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں۔ اس میں ہزاروں سال کے ارتقائی مراحل میں درپیش مختلف عوامل نے کردار ادا کیا۔

اس میں پہلی وجہ آخری برفانی دور میں آب و ہوا کی بڑے پیمانے پر اچانک تبدیلی کا سلسلہ تھا، موسم اچانک شدید سردی سے انتہائی گرمی میں تبدیل ہوا اور پھر تیزی سے دوبارہ سرد ہو گیا۔

ایک طرف بحیثیت نوع نینڈرتھالز کو مسلسل موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے کا چیلنج درپیش تھا تو دوسری طرف ان کی خوراک کے وسائل یعنی جانور اور پودے بری طرح تباہ ہو رہے تھے۔

تقریباً ہزار سال تک چلنے والی ڈرامائی سردی کی لہر کا وہی زمانہ ہے جب نینڈرتھالز بتدریج معدوم ہوئے۔

 ان کی معدومیت میں ایک اور چیز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ یہ کہ نینڈرتھال کی آبادی محدود تھی، کسی بھی زمانے میں ان کی مجموعی تعداد دسیوں ہزاروں تک نہیں پہنچی۔

وہ پانچ سے پندرہ افراد پر مشتمل گروہوں کی شکل میں رہتے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں ہومو سیپینز کے گروپ 150 افراد تک پھیلے ہوتے تھے۔ نینڈرتھالز کی مختصر آبادی ممکن ہے آہستہ آہستہ جینیاتی طور پر عدم استحکام کا شکار ہو گئی ہو۔

تیسرا یہ کہ ارتقائی مراحل میں انہیں دوسرے شکاری گروہوں کے ساتھ سخت مقابلہ تھا، خاص طور پر جدید انسانوں سے جو تقریباً 60 ہزار سال پہلے افریقہ سے نکلے تھے۔

 ہم قیاس کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ بہت سے نینڈرتھالز ہومو سیپینز کے بڑے گروہوں میں شامل ہو گئے ہوں گے۔

شواہد کہاں ہیں؟

نینڈرتھالز نے اپنے پیچھے بے شمار نشانات چھوڑے جن کی مدد سے ہم ان کی معدومیت کے ہزاروں سال بعد بھی بیٹھ کر بہت کچھ جان سکتے ہیں۔

 ایسے بیشتر شواہد کا مشاہدہ ڈنمارک کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں جا کر کیا جا سکتا ہے جہاں ہم نے خصوصی نمائش کا اہتمام کیا ہے۔

گذشتہ 150 برس کے دوران ہم نے زمانہ قدیم کی ہڈیاں، پتھر اور لکڑی کے اوزار اکھٹے کیے ہیں، ہم نے وہ ٹرنکٹس اور زیورات تلاش کیے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ کر گئے، ان کی قبروں کو کھودا اور اب قدیم ڈی این اے کی مدد سے ان کے جینوم کا نقشہ تیار کیا۔

 ایسا لگتا ہے کہ نینڈرتھالز اور جدید انسان کا ڈی این اے 99.7٪ ایک جیسا ہے اور معدوم ہونے والی انواع میں وہ سب سے زیادہ ہمارے قریب ہیں۔

شاید سب سے زیادہ حیران کن بات انسانوں اور نینڈرتھالز کے درمیان جنسی تعلقات کا ثبوت تھا اور آج بھی زندہ انسانوں کے ڈی این اے میں اس کے آثار موجود ہیں۔

یورپ اور ایشیا کے بہت سے باشندوں میں نینڈرتھالز کا ایک سے چار فیصد تک ڈی این اے موجود ہے جبکہ صحارا کے جنوب میں رہنے والے افریقی لوگوں میں یہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ستم ظریفی دیکھیے کہ انسانوں کی موجودہ آبادی کم و بیش آٹھ ارب ہے جس کا مطلب ہوا ماضی میں کبھی بھی کرہ ارض پر اس قدر نینڈرتھالز ڈی این اے موجود نہیں تھا جتنا اب ہے۔

نینڈرتھالز جینوم ہمیں یہ سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے کہ ان کی ظاہری شکل و صورت کیسی تھی، جیسا کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بعض نی اینڈرتھالز نے ہومو سیپینز سے بہت پہلے جلد کی رنگت صاف اور جسم پر سرخ بالوں کو اگا لیا تھا۔

نینڈرتھالز اور انسانوں کے درمیان مشترکہ جینز کڑوے کھانے چکھنے سے لے کر بات کرنے کی صلاحیت تک کئی چیزوں سے جڑے ہوئے ہیں۔

نینڈرتھالز کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم نے انسانی صحت سے متعلق اپنے علم میں بھی اضافہ کیا ہے۔

مثال کے طور پر نینڈرتھالز کے ڈی این اے جو لاکھوں برس پہلے انسانوں کے لیے فائدہ مند تھے وہ اب جدید مغربی طرز زندگی کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

شراب نوشی، موٹاپا، الرجی، خون کا جمنا اور ذہنی تناؤ کا نینڈرتھالز کے ڈی این سے ربط ہے۔

حال ہی میں سائنس دانوں نے ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ ممکنہ طور پر نینڈرتھالز کے جین کی ایک قسم کوویڈ 19 کے ساتھ مل کر سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

ہم نی نینڈرتھال کی معدومیت سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟

ڈائنوسارز کی طرح نینڈرتھالز کو بھی معلوم نہیں تھا کہ آنے والے وقت میں ان کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔

فرق یہ ہے کہ ڈائنوسار خلا کے ایک دیوہیکل شہاب ثاقب کی زد میں آنے کے بعد فوراً معدوم ہو گئے۔ جبکہ نی اینڈرتھالز کی معدومیت بتدریج ہوئی۔

بالآخر انہوں نے اپنی دنیا کھو دی جو ان کے لیے ایسا آرام دہ گھر تھا جہاں انہوں نے لاکھوں سال کامیابی سے گزارے اور اس کے وسائل کا خوب استعمال کیا۔

اس گھر کی فضا ان کے خلاف ہو گئی اور اس کی آب و ہوا اس قدر غیر موافق ہوئی کہ ان کا وجود ہی مٹ کر رہ گیا۔

اس لحاظ سے اب نینڈرتھالز ایک مختلف مقصد کی تکمیل کا ذریعہ ہیں۔ ہم ان میں اپنا عکس دیکھتے ہیں۔

وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ان کے پاس اس راستے پر چلتے رہنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا جو انہیں معدومیت کے اندھیرے میں لیے جا رہا تھا۔

 دوسری جانب ہم اپنی صورت حال اور اس سیارے پر رونما ہونے والی تبدیلیوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

انسانی سرگرمیاں آب و ہوا کو تبدیل کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہم آہستہ آہستہ بڑے پیمانے پر ہونے والی چھٹی معدومیت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ہم نے اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا جو خوفناک سلسلہ شروع کر رکھا ہے ہم نہ صرف اسے دیکھ سکتے ہیں بلکہ اس کے آگے بند باندھنے کی کوششیں بھی کر سکتے ہیں۔

اگر ہم نینڈرتھالز کی طرح معدوم نہیں ہونا چاہتے تو بہتر ہے ان خطرات کو سنجیدگی سے لیں اور زیادہ پائیدار مستقبل کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔

نینڈرتھالز کا کرہ ارض سے ناپید ہونا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کبھی بھی اپنے وجود کو درپیش خطرات کو معمولی سمجھتے ہوئے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

یہ تحریر پہلے ’دا کنورسیشن‘ پر شائع ہوئی تھی اور اس کا ترجمہ ان کی اجازت سے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔  

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق