مانسہرہ: سابق ترک ریاست پکھل میں قدیم باقیات کی دریافت

مانسہرہ کی ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ نے سابق ترک ریاست پکھل کے دارالخلافہ گُلی باغ میں کھدائی کے دوران قدیم تہذیبی باقیات دریافت کی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ نے سابق ترک ریاست پکھل کے دارالخلافہ گُلی باغ میں کھدائی کے دوران قدیم تہذیبی باقیات دریافت کی ہیں جن کا تعلق انسانی تاریخ کے پانچ ادوار سے ہے۔

ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ باقیات قابل اصلاح اور متحرک ہیں جن میں ہڈیاں، سکے، تیرا کوٹا، کوکنگ پوسٹ، پتھر کی مہریں، اینٹوں کے ڈھانچے اور لوہے کی چیزیں شامل ہیں۔

ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر شاکراللہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’یہ قلعہ ترکوں کے زیرِ استعمال صدیوں تک آباد رہا۔ یہاں کے حکمران اور مغل آپس میں کزن تھے۔‘

انہوں نے بتایا: ’مغل جب بھی شمالی علاقوں میں کسی مہم پر روانہ ہوتے تو اپنے قافلے کے ہمراہ ریاست پکھل کے حکمران کے مہمان ہوا کرتے تھے۔‘

مورخین کے مطابق پکھل ریاست شاہ جہان کے دور تک بامِ عروج پر رہی مگر اورنگزیب کے دور میں ٹوٹ گئی اور پھر یہاں پر سواتی قوم کا تسلط شروع ہو گیا۔

قلعہ فیروزہ کی کھدائی کے دوران حاصل ہونے والی باقیات پانچ انسانی ادوار کے متعلق معلومات فراہم کرتی ہیں کہ یہ علاقہ پانچ مرتبہ آباد ہوا اور اُجڑا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر شاکر اللہ کا کہنا تھا کہ یہاں پر کچھ سٹینڈنگ مونومنٹس بھی ہیں جن میں آخری ترک حکمران سلطان محمد خرد کا مزار بھی شامل ہے، جس میں ان کی قبر تھی، جو انہوں نے اپنی زندگی میں بنوائی تھی مگر خود انہیں یہاں دفن ہونا نصیب نہ ہو سکا۔ یہ تعمیر اس علاقے میں شاہ جہان دور کا شاہکار ہے۔

اسی عمارت کے ساتھ ہی دیوان راجہ بابا کا مزار بھی ہے جس کا احاطہ فنِ تعمیر کے اعتبار سے دربار کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

اس ریاست کے جغرافیے سے متعلق مورخین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل پکھل (گُلی باغ) سکڑ گیا ہے جس پر جدید آبادی اور کھیت بن گئے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ پرانے وقتوں میں اس کی حدود ٹنگلائی ہلز سے لے کر ایک طرف ایبٹ آباد، ہری پور تک پھیلی ہوئی تھی تو دوسری جانب سوات جبکہ تیسری طرف کشمیر تک تھی اور یہ ایک مکمل ریاست تھی جس کا دارالخلافہ گُلی باغ تھا۔

برآمد ہونے والی باقیات کو محفوظ کرنے سے متعلق ڈاکٹر شاکراللہ کا کہنا تھا کہ کھدائی کے دوران ’ہمیں جو کچھ ملا ہے چاہے وہ سکے، اوزار، ہڈیاں ہوں یا مہریں، اینٹیں اور برتن وغیرہ، انہیں فی الحال ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ میں رکھا گیا ہے جس پر ریسرچ جاری ہے۔‘

ان کے مطابق تحقیق چھپتے ہی قانون کے مطابق کچھ باقیات کو صوبائی حکومت کے عجائب گھر کے حوالے کر دیا جائے گا اور کچھ  کو طلبہ کی آسانی کے لیے ہزارہ یونیورسٹی کے میوزیم میں رکھا جائے گا۔

مذکورہ شعبے میں پی ایچ ڈی سکالر محمد ظہور نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پراجیکٹ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے شروع کیا گیا تھا اور وہ پراجیکٹ کے فیلڈ سپروائیزر تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ کھدائی سے قبل زمین کے مالک سے معاہدہ کرتے ہیں کہ ہم موسم کے اعتبار سے فصل کے پیسے ادا کریں گے اور کھدائی کا کام مکمل ہونے کے بعد زمین کو دوبارہ  اس کی اصلی حالت میں مالک کے حوالے کریں گے۔

انہوں نے بتایا: ’بالکل یہی گُلی باغ کی سائٹ پر بھی کیا گیا ہے اور کھدائی کے بعد زمین دوبارہ ری فل کر کے اس کے مالک کے حوالے کر دی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا