خدا، ملکہ یا کھجوروں کا جھنڈ؟ آبنائے ہرمز کے نام کا قدیم سفر

کیا آبنائے ہرمز نام کسی ایرانی ملکہ کے نام پر ہے یا اس کی جڑیں یونانی زبان میں ہیں؟ دنیا کی اس مشہور ترین تجارتی گزرگاہ کے نام سے جڑے چار مختلف نظریات پر ایک نظر۔

چند ماہ پہلے تک آبنائے ہرمز کا نام کم ہی لوگ جانتے تھے، لیکن آج شاید کم ہی لوگ ایسے ہوں جو اس نام سے بےخبر ہوں۔ لیکن اس تنگ سمندری راہداری کا یہ نام کیسے پڑا؟

نام کا سفر سمجھنے کے لیے پہلے جغرافیے کو سمجھنا ضروری ہے۔ اصل شہرِ ہرمز جنوبی ایران کے ساحل پر واقع موجودہ شہر ’میناب‘ کے قریب تھا۔ بعد میں یہ آبادی جزیرے پر منتقل ہو گئی، اور اس کی مناسبت سے جزیرے کو بھی ہرمز کہا جانے لگا۔

یعنی پہلے ساحل پر شہر بسا، پھر وہ شہر جزیرے پر منتقل ہوا، اس جزیرے کا نام ہرمز پڑا اور آخر کار اس پوری سمندری گزرگاہ کو ’آبنائے ہرمز‘ کہا جانے لگا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس شہر کا نام ہرمز کیوں پڑا؟ یہاں ماہرین کے درمیان اختلاف ہے اور چار نظریات سامنے آئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1 زرتشتی مذہب سے تعلق

سب سے زیادہ مانے جانے والا نظریہ یہ ہے کہ ہرمز اصلاً آہورا مزدا سے آیا، زرتشتی مذہب میں حکمت، روشنی اور کائناتی نظم کا خدا۔ لسانی سفر یہ ہے کہ قدیم ایرانی ’اَورَمزدا‘ سے وسطی فارسی میں ’ہرمزد‘ یا ’ہُرموز‘ بنا،

2 ایرانی ملکہ 

ایک نظریہ یہ ہے کہ اس مقام کا نام ’افرا ہرمزد‘ کے نام پر پڑا، جو ایران کے طاقتور بادشاہ شاپور دوم کی والدہ تھیں جس نے 309 سے 379 عیسوی تک حکومت کی۔ ہرمزد ایران میں ایک عام نام ہے اس نام کے ساسانی بادشاہ بھی گزرے ہیں۔

3 یونانی ملاح: سمندروں کی زبان

تیسرا نظریہ یونانی لفظ ’ہورموس‘ سے جوڑتا ہے جس کا مطلب ہے خلیج یا لنگر گاہ۔ سکندرِ اعظم کی فتوحات کے بعد یونانی تاجر اور ملاح یہاں آ بسے تھے اور اپنا نام بھی ساتھ لیتے آئے۔

4 کھجوروں کا جھنڈ

چوتھا نظریہ مقامی فارسی لفظ ’ہُور موغ‘ سے جڑتا ہے جس کا مطلب ہے’کھجوروں کی جگہ۔‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ایک زمانے میں کھجوروں کے گھنے جھنڈ پائے جاتے تھے۔

ان چاروں میں سے کوئی نظریہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا، یہ علمی بحث آج بھی جاری ہے۔ لیکن تمام نظریات میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ نام صدیوں کی تہذیبی پرتوں سے گزر کر آج تک زندہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ