آج جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر اسلام آباد میں معاہدہ ہوا تو میں شاید آ جاؤں،‘ تو اس کے ساتھ ہی پاکستان کے حالیہ ہفتوں میں سفارت کاری مشن اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ گیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے حالیہ مذاکرات میں اسلام آباد کا کردار صرف آج کا نہیں ہے، پاکستان دہائیوں سے ایک دوسرے سے بات نہ کرنے والے ممالک کے درمیان پل کا کام کرتا آیا ہے۔ اسی سٹریٹیجک اہمیت کی وجہ سے امریکی صدور بار بار پاکستان آتے رہے ہیں۔
اب تک پانچ امریکی صدور پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام دورے فوجی حکومتوں کے ادوار میں ہوئے۔ اگر ٹرمپ پاکستان آئے تو یہ پہلا موقع ہو گا جب کسی سویلین حکومت کے ہوتے ہوئے کوئی امریکی صدر پاکستان آیا۔
آئیے ان تاریخی دوروں کا جائزہ لیتے ہیں۔
1: ڈوائٹ آئزن ہاور (دسمبر 1959)
پہلا امریکی صدر، پہلا تاریخی لمحہ
امریکہ کے 34ویں صدر ڈوائٹ آئزن ہاور جنرل ایوب خان کی دعوت پر کراچی اترے۔ اس وقت کراچی پاکستان کا دارالحکومت تھا۔ تین روزہ قیام کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرق و مغرب کے تعلقات، مشرقِ وسطیٰ میں سوویت حکمت عملی، پاک انڈیا تعلقات، سینٹو معاہدے اور پاکستان کی فوجی ضروریات پر گفتگو کی۔
صدر آئزن ہاور کا قافلہ جب کراچی کی سڑکوں سے گزرا تو لاکھوں لوگوں کا ہجوم ان کے استقبال کے لیے موجود تھا۔ شہر کی عمارتیں ہفتوں پہلے سے سجائی جا رہی تھیں، سڑکیں نئی بچھائی گئیں، سکولوں میں استقبالیہ مشقیں ہوئیں اور ایک بڑا میوزیکل فوارہ خصوصی طور پر تعمیر کیا گیا۔ تیاریوں کا عالم یہ تھا کہ مچھر کالونی کے کھلے نالوں کی بدبو کو چھپانے کے لیے پیرس سے عطر منگوا کر سڑکوں پر چھڑکا گیا۔ ماہرِ تعلیم پرویز ہود بھائی نے لکھا کہ زندہ اور باشعور کراچی کا کوئی شہری اس دورے کو نہیں بھول سکتا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
2: لنڈن جانسن (دسمبر 1967)
اونٹ گاڑی والے اور صدر کی انوکھی دوستی
لنڈن جانسن 23 دسمبر 1967 کو کراچی آئے اور صدر ایوب خان سے ملے۔ یہ سرکاری دورہ مختصر تھا، لیکن اس سے جڑی ایک دلچسپ و عجیب کہانی آج بھی کراچی اور واشنگٹن دونوں شہروں میں زندہ ہے۔ ایک امریکی صدر اور ایک پاکستانی اونٹ گاڑی والے کی انوکھی دوستی۔
یہ قصہ 1961 میں شروع ہوا جب جانسن بطور نائب صدر پاکستان آئے تھے۔ سڑک کے کنارے بھوسے سے لدی ایک اونٹ گاڑی کے ساربان بشیر احمد کا حلیہ انہیں عجیب اور دلچسپ لگا۔ اسے دیکھ کر انہوں نے قافلہ رکوایا اور پوچھا کہ تم کون ہو؟
بشیر نے ترجمان کی مدد سے اپنے بارے میں اور اپنے اونٹ کے بارے میں بتایا۔ اس نے کہا کہ اونٹ کا نام اس نے ’غازی‘ رکھا ہے اور اس کی عمر پانچ سال ہے۔
امریکی صدر کو بشیر احمد کی سادگی اتنی پسند آئی کہ انہوں نے اسے کہا کہ آج سے تم میرے دوست ہو، اور ساتھ ہی اسے امریکہ آنے کی دعوت دے دی۔
اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے میں سکیورٹی کا کوئی خاص اہتمام نہیں ہوا کرتا تھا، ورنہ آج کے دور میں تو امریکی صدر تک کسی عام شہری کی رسائی ناممکنات میں سے ہے اور صدر ٹرمپ کی ممکنہ آمد کی خبر کے ساتھ ہی اسلام آباد کے ٹرانسپورٹ اڈے بند کر دیے گئے اور ٹریفک محدود کر دی گئی ہے۔
بشیر سربان جب واشنگٹن ڈی سی پہنچا تو خود جانسن اس کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ اسے وائٹ ہاؤس اور ٹیکسس کی سیر کرائی گئی، اور واپسی پر امریکی حکومت نے اس کے لیے عمرے کا انتظام بھی کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ سفارت کاری کبھی کبھی دستاویزوں کے بجائے عوامی جذبوں سے بھی ہوتی ہے۔
3: رچرڈ نکسن (اگست 1969)
چین کا دروازہ پاکستان سے کھلا
یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا شاید سب سے اہم باب ہے۔ 1969 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن لاہور آئے تاکہ جنرل یحییٰ خان کو ایک خفیہ پیغام دے سکیں کہ امریکہ چین کے ساتھ رابطہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کو اس کردار کے لیے اس لیے چنا گیا کیونکہ پاکستان کے واشنگٹن اور بیجنگ دونوں سے اچھے تعلقات تھے۔
پاکستان نے یہ ذمہ داری کامیابی سے نبھائی اور دو سال کے خفیہ رابطوں کے بعد 1971 میں ہنری کسنجر ایک پاکستانی سرکاری طیارے میں بیجنگ پہنچے۔ آج اسلام آباد میں جاری ایران مذاکرات اور یہ تاریخی باب ایک جیسے لگتے ہیں، جہاں پاکستان ایک بار پھر دو متحارب طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
4: بل کلنٹن (مارچ 2000)
انڈیا میں پانچ دن، پاکستان میں پانچ گھنٹے
بل کلنٹن 25 مارچ 2000 کو پاکستان آئے اور صدر رفیق تارڑ اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف سے ملے۔ انڈیا کا دورہ پانچ دن کا تھا جبکہ پاکستان کا صرف چند گھنٹے، جسے اسلام آباد میں تذلیل کے طور پر دیکھا گیا۔ اس وقت 1998 کے ایٹمی دھماکوں اور اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت کی وجہ سے تعلقات کشیدہ تھے، لیکن کلنٹن پھر بھی آئے کیونکہ پاکستان کو نظر انداز کرنا سفارتی طور پر مہنگا پڑ سکتا تھا۔
5: جارج ڈبلیو بش (مارچ 2006)
انضمام الحق کے ساتھ کرکٹ
بش نے اسلام آباد میں مشرف سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ، جمہوریت اور پاک انڈیا تعلقات پر بات کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بش نے پاکستانی کرکٹرز انضمام الحق اور سلمان بٹ کے ساتھ کرکٹ بھی کھیلی۔ دورے سے ایک دن پہلے کراچی میں امریکی قونصل خانے کے قریب دھماکے کے باوجود بش نے اپنا دورہ منسوخ نہیں کیا اور کہا کہ ’دہشت گرد مجھے پاکستان جانے سے نہیں روک سکتے۔‘
اب ڈونلڈ ٹرمپ؟
یہ پہلی بار ہے کہ کوئی امریکی صدر یا نائب صدر اپنی ہی جنگ سے متعلق مذاکرات کے لیے پاکستان آیا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کا حالیہ دورہ اور اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی طویل ملاقاتیں پہلے ہی تاریخ رقم کر چکی ہیں۔ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پاتا ہے تو ٹرمپ کا دورہ نہ صرف بیس سال کا خلا پُر کرے گا بلکہ یہ پاکستانی سفارت کاری کی سب سے بڑی کامیابی ہو گی، جو 1971 میں چین امریکہ بریک تھرو کے برابر اہمیت حاصل کر سکتی ہے۔
جس طرح نکسن نے 1969 میں پاکستان کو چین کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ بنایا تھا، اگر اسلام آباد آج ایران کا دروازہ کھولنے میں کامیاب رہا تو تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہراتی نظر آئے گی۔
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، لیکن جب بھی دنیا کو ایک خاموش اور قابلِ اعتماد پل کی ضرورت پڑی، اسلام آباد نے اپنا کندھا پیش کیا ہے۔