کسنجر کا جیمز بانڈ مشن: وہ 64 گھنٹے جنہوں نے دنیا بدل دی

پاکستان نے امریکی سفارت کار ہنری کسنجر کے تاریخی مگر انتہائی خفیہ چین کے دورے کو ممکن بنایا۔

جولائی 1971، اسلام آباد۔ دو گاڑیاں نکلتی ہیں۔ ایک میں طاقت ور ڈپلومیٹ اور امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دفاعی مشیر ہنری کسنجر ہیں اور یہ گاڑی ایئر پورٹ کی طرف جا رہی ہے۔

دوسری کے بارے میں اعلان کیا جاتا ہے کہ اس میں کسنجر سوار ہیں، جو پیٹ کی خرابی کے باعث اور پاکستان کی شدید گرمی سے بچنے کے لیے نتھیاگلی کی سمت روانہ ہیں۔ 

یہ مشن اتنی رازداری سے ہوا کہ کسنجر کے اپنے عملے کو بھی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ 

تاکہ انہیں کوئی پہچان نہ سکے، ہنری کسنجر نے چوڑا ہیٹ اور سیاہ چشمے پہنچ رکھے تھے۔

گویا فل جیمز بانڈ پروگرام۔ وہ پی آئی اے کی ایک خفیہ پرواز میں سوار ہو کر بیجنگ پہنچ گئے۔  

دراصل چین کے قیام کے بعد سے اس کے امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں تھے۔ یہ سرد جنگ کے عروج کا زمانہ تھا۔

صدر نکسن بیک وقت سوویت یونین اور چین سے دشمنی رکھنا نہیں چاہتے تھے، مگر رابطہ کیسے ہو؟ بیچ میں کون ایسا ملک ہو جس پر دونوں ملک ایک جیسا اعتماد کر سکیں؟  

امریکی صحافی گیری باس لکھتے ہیں کہ نکسن کسی کو پسند نہیں کرتے تھے، لیکن یحییٰ خان ان کے پسندیدہ تھے۔

کیوں؟ کیونکہ یحییٰ خان کے پاس وہ ’ملٹری پریسیشن‘ اور رازداری تھی جو اس جیمز بانڈ مشن کے لیے ضروری تھی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کسنجر کا بیجنگ میں چینی وزیراعظم ژو این لائی نے استقبال کیا۔ سبز میز کے آر پار دو دشمن طاقتیں بیٹھیں۔ مذاکرات کئی گھنٹے جاری رہے۔

کسنجر اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے مذاق میں کہا ’چینی میزبانوں نے مجھے اتنا کھلایا کہ شاید وہ تین ہزار سال پرانی بھوک مٹانا چاہتے تھے۔‘

واقعی جب کسنجر 64 گھنٹے بعد واپس اسلام آباد پہنچے تو ان کا وزن پانچ پاؤنڈ بڑھ چکا تھا، جو پیٹ کی خرابی کے مریض کے لیے ناممکن تھا۔

لیکن مشن کامیاب ہو چکا تھا۔ امریکہ اور چین کے درمیان دیوار گر چکی تھی۔ یہ پہلا اور آخری موقع نہیں جب پاکستان نے بڑی سٹیج پر پل کا کردار ادا کیا ہے۔

چاہے وہ 1988 کا جینیوا اکارڈ ہو، 2020 کا دوحہ معاہدہ یا 2026، جب ایک بار پھر دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان چھڑی تباہ کن جنگ کو ختم کرنے میں کردار ادا کر سکے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ