ہنری کسنجر کا سی وی

آنے والی نسلیں گذشتہ ہفتے انتقال کر جانے والے سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر کو کس طرح یاد رکھیں گی؟

15 اگست 1977 کو وائٹ ہاؤس میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر اور سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر (اے ایف پی)

ایک شخص سو سال تک جیا، آخری لمحے تک کام کرتا رہا اور اس نے زندگی میں شہرت، دولت اور کامیابی یوں سمیٹی جیسے کوئی جواری بازی جیتنے کے بعد نوٹ سمیٹتا ہے تو کیا ہم سمجھیں کہ اس نے آئیڈیل زندگی گزاری؟

اس آسان سوال کا سادہ جواب ہے ’ہاں۔‘ لیکن اگر خدا نے آپ کو سوجھ بوجھ دی ہواور آپ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تواس سوال سے متاثر ہونے کی بجائے آپ الٹا سوال داغ دیں گے کہ پہلے بتاؤ اس شخص نے زندگی میں کام کیا کیا؟

اگر جواب میں آپ کو بتایا جائے کہ موصوف امریکہ میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اور ان کی ’جاب ڈسکرپشن‘ میں امریکی صدر کو یہ مشورے دینا شامل تھا کہ کس ملک پر کب اور کتنی بمباری کی جائے۔ دنیا میں کس جگہ جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ڈکٹیٹر کے لیے راہ ہموار کی جائے تو شاید آپ اپنی نکی جئی ہاں کو ناں میں تبدیل کر دیں۔

آپ درست سمجھے، بات ہورہی ہے ہنری کسنجر کی جو گذشتہ دنوں سو سال کی عمر میں انتقال فرما گئے۔

اگر کتابی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہنری کسنجر نے واقعی مثالی زندگی گزاری۔ امریکی صدر کے مشیر بنے، وزیرِ خارجہ رہے، دنیا کو سفارت کاری کے اصول سکھائے۔

یونیورسٹیوں میں لیکچر دیے، اپنی صحت کا خیال رکھا، وقت پر کھانا کھایا، ورزش کی، نیند پوری کی اور یوں سو سال کی بھرپور زندگی گزاری۔

مگر کیا زندگی محض وقت پر جوس پینے اور شام سات بجے سے پہلے سبزیاں کھانے کا نام ہے؟

ٹھیک ہے کہ یہ باتیں تندرستی اور صحت کے لیے لازمی ہیں مگر زندگی اس سے کہیں زیادہ کا تقاضا کرتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب آپ امریکی صدر کے مشیر ہوں۔

جس ویت نامی سیاستدان کو کسنجر کے ساتھ امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا اس نے یہ کہہ کر انعام وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ امن تو ابھی قائم ہی نہیں ہواتو تمغہ کس بات کا!

دنیا میں روزانہ لاکھوں لوگ مرتے ہیں لیکن فقط اکا دکا کے مرنے پر اخبارات میں کالم لکھے جاتے ہیں، ہنری کسنجر ان اکا دکا لوگوں میں سے ایک تھے۔

موصوف کے سی وی پر اگر نظر دوڑائی جائے تو کمبوڈیا سے لے کر چلی تک کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے جس کی بنیاد پر انہیں جہنم کا داروغہ تعینات کیا جا سکتا ہے۔

میں سوچتا ہوں کہ جس زمانے میں موصوف صدر نکسن کے مشیر تھے اس وقت وائٹ ہاؤس کے اجلاس کس طرح کے ہوا کرتے ہوں گے:

’یار کسنجر، اب ویت نام پر بم گرانے ہیں یا لاؤس پر؟‘

’جناب صدر، میرا خیال ہے کہ آج ویت نام کی باری ہے، ٹھہریے میں اپنی ڈائری دیکھ کر بتاتا ہوں، جی ہاں آج ویت نام پر بم مار دیتے ہیں، لاؤس کو اگلے ہفتے دیکھ لیں گے۔‘

’اور وہ جنرل پنوشے کی کیا خبر ہے، لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے اس کی ڈکٹیٹر شپ کو کندھا دیا تھا؟‘

’جناب صدر، لوگوں کو کیا ہے، وہ تو کچھ بھی سمجھ لیتے ہیں، اگر جنرل پنوشے نے ہزار پندرہ سو بندہ غائب کر دیا ہے تو اس میں ہمارا اس کے سوا کیا قصور ہے کہ ہم فقط اس کی مدد کر رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آپ میں سے جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ میں نے زیب داستاں کے لیے کچھ بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا ہے تو ان کی خدمت میں نوجوان انقلابی اور دانشور عمار علی جان کی ایک ٹویٹ پیش خدمت ہے جس میں ہنری کسنجر کی زندگی کا کلیجہ نکال کر رکھ دیا گیا ہے: ’کسنجر کے سی وی میں ویت نام، کمبوڈیا اور لاؤس میں اندھا دھند بمباری کرنا، چلی میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا۔

’لاطینی امریکہ اور پاکستان میں فوجی آمریتوں کی حمایت اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے نوآبادیاتی قبضے کو قانونی حیثیت دینا شامل ہے۔ ایک جنگی مجرم کی کلاسیکی مثال۔‘

اس دنیا کے اصول بڑے نرالے ہیں، اگرا ٓپ سوٹ پہنتے ہیں، ٹائی لگاتے ہیں، انگریزی بولتے ہیں اور طاقتور ملک میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں تو پھر چاہے آپ نہتے اور معصوم لوگوں پر بم برسانے کا حکم ہی کیوں نہ دیں، دنیا آپ کو سر آنکھوں پر بٹھائے گی۔

آپ کو دہشت گرد نہیں سمجھا جائے گا اورنہ ہی کوئی بین الاقوامی عدالت آپ پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلائے گی، الٹا جب آپ سو برس کے ہوں گے تو امریکی صدور آپ کا جام صحت لنڈھائیں گےاور اخبارات میں آپ کی قابل رشک صحت اور آئیڈئل زندگی کے گن گائے جائیں گے۔

میرا خیال ہے کہ بات کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گئی۔ سو آپ کو دنیا کا مختصر ترین لطیفہ سناتے ہیں: ’ہنری کسنجر کو امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔‘

اس لطیفے کا سنجیدہ حصہ یہ ہے کہ جس ویت نامی سیاستدان کو کسنجر کے ساتھ امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا اس کا نام ’لی ڈک تھو‘ تھا اور اس نے یہ کہہ کر انعام وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ امن تو ابھی قائم ہی نہیں ہواتو تمغہ کس بات کا!

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر