نئی چینی ٹیکنالوجی جو ڈرونز کو مسلسل پرواز کے قابل بنا سکتی ہے

چینی سائنس دانوں نے مائیکروویوز کی مدد سے ڈرونز کو فضا میں ہی چارج کرنے کا ایک خصوصی پاور ٹرانسمیشن پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔

تین ستمبر، 2025 کو بیجنگ کے تیان آن من سکوائر میں فوجی پریڈ کے دوران ایک CS-5000T  ڈرون دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

چینی سائنس دانوں نے مائیکروویوز کی مدد سے ڈرونز کو فضا میں ہی چارج کرنے کا ایک خصوصی پاور ٹرانسمیشن پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔

یہ ایک تصوراتی ڈیزائن ہے اور مستقبل میں ممکنہ طور پر بغیر پائلٹ طیاروں (یو اے ویز) کو مسلسل پرواز کے قابل بنا سکتا ہے۔

چین کی شی ‌ڈیان یونیورسٹی کے محققین کا تصور ہے کہ اس پلیٹ فارم کو ایک زمینی گاڑی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو ڈرونز کو لانچ کرنے اور ان کے عملی دائرہ کار کو بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

سائنس دانوں کے تجربات سے پتا چلا کہ گاڑی پر نصب اس نظام کی مدد سے 15 میٹر کی بلندی پر ایک مقررہ پرواز کرنے والا ڈرون تین گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت تک فضا میں رکھا جا سکتا ہے۔

گاڑی پر نصب پاور ٹرانسمیشن سسٹم نے مائیکروویو ایمیٹر کے ذریعے توانائی کو ہوائی جہاز کے نچلے حصے میں موجود اینٹینا ارے تک پہنچایا اور یہ عمل اس دوران جاری رہا جب ڈرون اور چارجنگ سسٹم دونوں حرکت میں تھے۔

تاہم محققین نے ایک مطالعے میں، جو جرنل ایورو ناٹیکل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع ہوا، نوٹ کیا کہ مائیکروویو ایمیٹر اور ڈرون کے درمیان درست سمت بندی برقرار رکھنا مشکل تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے جی پی ایس پوزیشننگ اور ڈرون کے آن بورڈ فلائٹ کنٹرول سسٹمز کے درمیان بہت قریبی ہم آہنگی ضروری تھی۔

سائنس دانوں نے یہ بھی بتایا کہ نظام ابھی ابتدائی مراحل میں ہے کیونکہ بھیجی گئی توانائی کا صرف تین سے پانچ فیصد حصہ ہی ڈرون تک پہنچا جبکہ مائیکروویو توانائی کی بڑی مقدار ضائع ہو گئی۔

بالآخر، ڈرون کو موصول ہونے والی طاقت بھی ہوا کے دباؤ اور پوزیشننگ کی غلطیوں کے باعث اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔

اس تحقیقاتی ٹیم کی قیادت شی‌ ڈیان یونیورسٹی کے پروفیسر سانگ لیوی کر رہے تھے، جو اینٹینا سٹرکچرز اور مائیکروویو وائرلیس توانائی کی ترسیل کے ماہر ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حالیہ برسوں میں ماحولیاتی اور ہدفی الیکٹرو میگنیٹک توانائی کو استعمال کے قابل براہ راست برقی طاقت میں تبدیل کرنے کا تصور تحقیقی نمونے سے بڑھ کر ایک ایسی ٹیکنالوجی بن چکا ہے جو معیاری بنانے کے مرحلے کے قریب ہے۔

گذشتہ برس امریکی ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی (ڈارپا) نے فاصلے پر توانائی منتقل کرنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا، جب اس نے 8.6 کلومیٹر کے فاصلے تک 800 واٹ توانائی کو ایک لیزر بیم کے ذریعے 30 سیکنڈ سے زیادہ وقت تک منتقل کیا۔

اگرچہ نظام کی کارکردگی صرف تقریباً 20 فیصد تھی لیکن ڈارپا نے کہا کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی سستی اور بہتر ہوتی جائے گی اس میں مزید بہتری ممکن ہے۔

ایک جاری امریکی دفاعی منصوبہ ’وائرلیس انرجی ویب‘ تیار کرنے کا ہدف رکھتا ہے تاکہ تقریباً فوری توانائی کی ترسیل ممکن ہو سکے۔

تازہ ترین چینی تحقیق کے برعکس ڈارپا کا ڈیزائن لمبے فاصلے کی توانائی کی ترسیل کے لیے زمینی ذرائع سے چلنے والی لیزر کو متعدد فضائی نوڈز سے گزار کر دوبارہ زمینی رِسیور تک پہنچانے کا مقصد رکھتا ہے۔

امریکی ایجنسی کو امید ہے کہ یہ نیٹ ورک ڈرونز کے بیڑوں کے لیے لامحدود رینج یا لامحدود پرواز کے امکانات پیدا کرے گا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی