خیبر پختونخوا پولیس کی اینٹی ڈرون صلاحیت بڑھانے کی کوششیں

پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ ڈرون حملے ضلع بنوں میں 2025 میں ہوئے ہیں اور ایسے تین سو اینٹی ڈرون گن کے ذریعے ناکام بنا دیے گئے۔

ڈرون سے متعلق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے خیبرپختونخوا پولیس کو 14 اینٹی ڈرون گنز اور چار سرچ ڈرونز بھی فراہم کیے جانے ہیں (کے پی پولیس)

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں عسکریت پسندوں کی جانب سے ڈرون حملوں کے بعد صوبے کی پولیس نے ان حملوں کو ناکام بنانے کے لیے اینٹی ڈرون نظام بنایا ہے۔

پولیس کے مطابق پاکستان میں خیبر پختونخوا پولیس نے پہلی مرتبہ اس نظام کے لیے مخصوص Unmanned aerial vehicle(UAV) ڈویژن بھی بنایا ہے۔ جس کے ذریعے ڈرونز کو پہلے ناکارہ بنایا جاتا ہے اور پھر گرایا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں گذشتہ سال عسکریت پسندوں کی جانب سے جنوبی اضلاع کے مختلف مقامات اور سکیورٹی تنصیبات پر ڈرون اور کواڈکاپٹر حملے کیے گئے جس کے بعد اس نظام کی ضرورت کو محسوس کیا گیا ہے۔

پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ ڈرون حملے ضلع بنوں میں 2025 میں ہوئے ہیں اور ایسے تین سو اینٹی ڈرون گن کے ذریعے ناکام بنا دیے گئے۔

انسداد دہشت گردی پولیس کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں سب سے زیادہ ڈرون حملے شمالی وزیرستان میں ہوئے۔ ان حملوں کی تعداد 25 ہے جب کہ دوسرے نمبر پر بنوں میں 20 ڈرون حملے نہیں روکے جاسکے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران بھی افغان طالبان کی جانب سے ڈرون کا استعمال کیا گیا ہے جس کی تصدیق پاکستان نے بھی کی تھی۔

افغانستان کی جانب سے بھی گذشتہ دنوں صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد کے مختلف مقامات پر ڈرون حملے کیے گئے تھے جس سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا تھا۔

پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز فرحان خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ ایک نیا ٹرینڈ آیا ہے کہ بارود کو لے جانے اور اس سے دھماکے کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال ہو رہا ہے اور اسی کو کاؤنٹر کرنے کے لیے مختلف اضلاع کو اینٹی ڈرون گنز دی گئی ہیں۔

ٹی ٹی پی پاکستان اور افغانستان کی غیر رسمی منڈیوں کے ذریعے خاص طور پر ڈی جے آئی (دا-جیانگ انوویشنز) سے تیار شدہ چینی ساختہ کواڈ کاپٹرز حاصل کرتی ہے۔ صنعتی معیار کے ڈرونز چین سے زرعی کاروباروں کی بظاہر غرض سے فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے درآمد کیے jجاتے ہیں۔

ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ ڈیوائسز انتہائی سستی ہیں، جن کی قیمت 200 سے ہزار ڈالرز (تقریبا 55,000 سے 278,000 PKR) کے درمیان ہوتی ہے۔

فرحان خان نے بتایا، ’کوئی بھی ڈرون اگر اینٹی ڈرون گن کی رینج میں آجاتا ہے تو پہلے اس کا کمیونیکیشن نظام ناکارہ بنایا جاتا ہے اور سرور کے ساتھ ان کا رابطہ منقطع ہوتا ہے اور پھر گر جاتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ پشاور کی جہاں تک بات ہے تو ان کے پاس دو اینٹی ڈرون گنز موجود ہیں اور اس کے آپریٹر پہلے سے تربیت یافتہ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح فرحان خان کے مطابق اینٹی ڈرون گنز کو ہم مختلف بڑی تقریبات میں بھی اب سرویلنس کے لیے استعمال کیا جایا ہے جیسے کہ حالیہ دنوں میں ’ہم نے اس کو پشاور میں نیشنل ٹی 20 کے میچز کے دوران استعمال کیا تھا۔‘

صوبے کی پولیس کی انسداد دہشت گردی صلاحیت بڑھانے کی خاطر گذشتہ برس دسمبر میں ایک منصوبے کے تحت 50  بیریٹا اور سو اضافی سنائپر رائفلز خریدی جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پولیس کو 430 تھرمل دوربین اور 330 تھرمل TI کیمرے بھی دیئے جانے تھے۔ نگرانی کو مضبوط بنانے کے لیے فورس میں 73 ڈرونز شامل کیے جانے تھے۔

ڈرون سے متعلق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے 14 اینٹی ڈرون گنز اور چار سرچ ڈرونز بھی فراہم کیے جانے ہیں۔

فرحان خان نے بتایا کہ ٹیکنالوجی میں جدت سے حالانکہ ڈرون کا دیگر ملکوں میں مختلف میڈیکل ایمرجنسی، آگ بجھانے جیسی چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن ’بدقسمتی سے ہماری کچھ جگہوں میں اس کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔‘

اسی طرح خیبر پختونخوا پولیس کے اس اینٹی ڈرون نظام کے تحت اضلاع کو ڈرونز بھی دیے گئے ہیں جو سرویلنس کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

عسکریت پسندوں کی جانب سے ڈرون کا استعمال گذشتہ کئی سالوں سے ہو رہا ہے اور رائل یونائٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق عسکریت پسند مختلف ملٹری گریڈ اور عام مارکیٹ میں دستیاب ڈرون کا استعمال عسکریت پسند کارروائیوں میں کرتے ہیں۔

اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے پاس بھی 2021 کے بعد اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ کی جانب سے چھوڑے گئے کچھ ملٹری گریڈ ڈرون بھی موجود ہیں۔

اسی طرح رپورٹ کے مطابق داعش کی جانب سے بھی مختلف ممالک میں ڈرون کا استعمال پایا گیا ہے جس میں بعض سرویلنس جبکہ چند شدت پسند کارروائیوں میں استعمال کیے گئے ہیں۔

دنیا میں ان ڈرونز کی آمد سے جنگ کی نوعیت بھی تبدیل ہوگئی ہے اور زیادہ انحصار اب اس نئی ٹیکنالوجی پر کیا جانے لگا ہے۔ دوسری جانب اس کا اثر زائل کرنے کے نئے نئے طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی