حریت پسند کشمیری رہنما یاسین ملک کی جماعت دو دھڑوں میں تقسیم

سپریم کونسل کے متنازع فیصلوں کے رد عمل میں یاسین ملک کے پرانے ساتھیوں نے الگ دھڑا قائم کر لیا۔ تجزیہ کاروں کی رائے میں تنظیم کی تقسیم سے آزادی پسند بیانیہ متاثر ہوگا۔

یاسین ملک اس وقت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں اور ان پر 30 سال قبل بھارتی فضائیہ کے چار افسران کے قتل کی سازش کے علاوہ دیگر مقدمات بھی چل رہے ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

بھارت کی تہاڑ جیل میں قید حریت پسند کشمیری رہنما یاسین ملک کی جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) اختلافات کے بعد دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔

 نیا سامنے آنے والا سخت گیر موقف کا حامل دھڑا یاسین ملک کے پرانے ساتھیوں پر مشتمل ہے جس نے عبوری لیڈر شپ کونسل تشکیل دے کر تنظیم کی مرکزی باڈی کو تحلیل کردیا اور یاسین ملک کے پاکستان میں نمائندہ خصوصی اور ترجمان رفیق ڈار اور وائس چیئرمین سلیم ہارون کی بنیادی رکنیت معطل کردی ہے۔

اس دھڑے نے تنظیم کا سیکرٹریٹ پاکستان سے امریکہ منتقل کرنے، لبریشن فرنٹ کے بیانیے کی از سر نو تشکیل کے علاوہ حریت کانفرنس میں کسی بھی قسم کی شمولیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم یاسین ملک کے ترجمان کے بقول اس دھڑے میں شامل اکثر لوگوں کا حریت کانفرنس سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ اختلافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یاسین ملک کی گرفتاری کو دوسال مکمل ہونے کو ہیں اور اس دوران ان کی جماعت پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پابندی عائد ہوچکی ہے جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی تنظیم کی سرگرمیوں پر عملاً جمود طاری ہے۔

اس سے قبل نومبر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی مرکزی تنظیم نے سپریم کونسل کا اجلاس بلا کر تنظیمی ڈھانچہ تحلیل اور ایک سال کی مدت کے لیے 41 رکنی عبوری کمیٹی قائم کرکے جماعت کی ازسر نو تنظیم سازی کا اعلان کیا تھا، تاہم کئی سینیئر عہدیداروں کا خیال ہے کہ مرکزی چیئرمین کی حراست کے دوران ان کی مشاورت اور تائید کے بغیر ہونے والا یہ فیصلہ غیر آئینی ہے اور اختیارات سے تجاوز کے ذمرے میں آتا ہے۔

لبریشن فرنٹ کا تنظیمی ڈھانچہ

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کا تنظیمی ڈھانچہ ایک مرکزی تنظیم کےعلاوہ پانچ زونل تنظیموں پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل زون کے علاوہ مشرق وسطیٰ، برطانیہ، یورپ اور شمالی امریکہ زون شامل ہیں۔

بھارت کےزیر انتظام کشمیر میں جے کے ایل ایف پر پابندی کے بعد تنظیمی عہدیداروں نے اپنی سرگرمیاں محدود کر رکھی ہیں تاہم جماعت کے 60 رکنی اعلیٰ فیصلہ ساز ادارے سپریم کونسل کے چیئرمین یاسین ملک ہیں اور اس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے 31 ممبران بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان سے 19، برطانیہ اور شمالی امریکہ زون سے تین تین جبکہ مشرق وسطیٰ اور یورپ زون سے دو دو اراکین شامل ہیں۔ یہ کونسل تنظیمی معاملات کثرت رائے سے طے کرتی ہے۔

بتایا جا رہا ہےکہ نومبر میں جس اجلاس میں تنظیمیں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس میں سپریم کونسل کے محض 20 اراکین شریک تھے اور اجلاس کا کورم پورا نہیں تھا تاہم یاسین ملک کے ترجمان رفیق ڈار نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس اجلاس میں 33 اراکین شامل تھے اور ان کے بقول، 'تنظیمیں تحلیل کرنے کا فیصلہ اتفاق رائے سے ہوا۔'

اجلاس کے شرکا کی فہرست جاری کیے جانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں رفیق ڈار کا کہنا تھا کہ 'ایسا بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے اجلاس میں شامل اراکین کی سکیورٹی کے پیش نظر نہیں کیا گیا۔'

عبوری لیڈرشپ کونسل کی آئینی حیثیت کیا ہے؟

سپریم کونسل کے اجلاس میں جے کے ایل ایف کی تمام مرکزی اور زونل تنظیمیں تحلیل کرکے ایک سال کی مدت کے لیے عبوری کمیٹی قائم کرنے کے متنازع فیصلے کے بعد امریکہ اور برطانیہ میں مقیم یاسین ملک کے پرانے ساتھیوں نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے ایک عبوری لیڈر شپ کونسل قائم کی ہے اور سپریم کونسل کے تمام فیصلوں کو معطل کردیا ہے۔

اس کونسل میں شامل رہنما راجہ مظفر نے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ ایسا انہوں نے یاسین ملک کے جیل سے بھیجے گئے اس پیغام کے بعد کیا، جو ان کے وکیل کے ذریعے پرانے ساتھیوں تک پہنچا، تاہم دہلی میں مقیم یاسین ملک کے وکیل راجہ طفیل سے اس مبینہ پیغام کی تردید یا تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

عبوری لیڈر شپ کونسل کی آئینی حیثیت کے متعلق سوال کے جواب میں راجہ مظفر کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ تنظیم کے آئین کے تحت نہیں بلکہ متنازع فیصلے کے بعد پیدا ہونے والے بحران اور تنظیم کی ممکنہ ٹوٹ پھوٹ کے پیش نظر پیش بندی کے طور پر کیا گیا اور ان کے بقول یہ فیصلہ چیئرمین یاسین ملک کی توثیق سے مشروط ہے۔

راجہ مظفر کا خیال ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب تنظیم کے چیئرمین دو سال سے جیل میں ہیں اور ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں، تنظیمیں تحلیل کرنا ان کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ 'بھارت پانچ اگست 2019 کو کشمیر کا ایک بڑا حصہ اپنے اندر ضم کرچکا ہے، جے کے ایل ایف واحد موثر آواز ہے جو جموں و کشمیر کی آزادی، خودمختاری اور سالمیت کی داعی ہے۔ اس مرحلے پر تنظیم کو غیر فعال کرنا یا کوئی بحران پیدا کرنا ایک توانا اور موثر آواز کو خاموش یا غیر موثرکرنے جیسا ہے۔' ان کے بقول: 'یہ کسی بڑی سازش کا حصہ ہے۔'

تاہم یاسین ملک کے ترجمان  رفیق ڈار نے اس فیصلےکو تنظیم کی معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'کئی زونل تنظیمیں اپنی مدت پوری کرچکی تھیں اور ان کی تنظیم نو بہت پہلے ہو جانی چاہیے تھی۔ نئے عہدیدار کارکنوں کی تائید حاصل کرنے کے بعد جو فیصلے کریں گے وہ زیادہ موثر ہوں گے۔'

تنظیمیں تحلیل کیے جانے کے فیصلے سے قبل یاسین ملک سے مشاورت یا ان کی تائید حاصل کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں رفیق ڈار کا کہنا تھا کہ چیئرمین جیل میں ہیں اور ان سے کسی قسم کی مشاورت ممکن نہیں۔ 'ایک فیصلہ ساز ادارے سپریم کونسل کی موجودگی میں چیئرمین کی تائید یامنظوری کی ضرورت بھی نہیں۔'

'یہ بیانیے کے خلاف جنگ ہے'

اگرچہ جے کے ایل ایف جموں و کشمیر سے پاکستان اور بھارت کی فوجوں کے مکمل انخلا اور کشمیر کی خودمختاری چاہتی ہے، تاہم عمومی تاثر یہی ہے کہ یاسین ملک اور ان کے کئی ساتھی پاکستان کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ جموں کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی حامی جماعتوں پر مشتمل آل جموں وکشمیر حریت کانفرنس کا باقاعدہ حصہ نہ ہونے اور نظریاتی سمت مختلف ہونے کے باوجود یاسین ملک کے نمائندے کا حریت کانفرنس کی سرگرمیوں میں باقاعدگی سے شامل ہونا اور پاکستان میں حکام سے میل ملاپ اس تاثر کو مزید گہرا کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حریت کانفرنس اور یاسین ملک کے نمائندوں کے اس میل جول پر جماعت کے اندر اختلاف رہا ہے اور ایک دھڑا پاکستان اور بھارت کے متعلق یکساں طور پر سخت گیر موقف کا حامل ہے۔

جموں و کشمیر کی آزادی پسند تنظیموں پر گہری نظر رکھنے والے صحافی و تجزیہ کار ملک عبدالحکیم کشمیری کہتے ہیں کہ حالیہ سالوں میں جے کے ایل ایف کے اندر اس سخت گیر موقف کے حامل گروپ نے سر اٹھایا، جس کی سربراہی ڈاکٹر توقیر گیلانی کر رہے ہیں اور انہیں زیادہ تر کارکنوں کی تائید اور حمایت حاصل ہے۔

'یہ دھڑا جماعت کی عمومی پالیسی کے برعکس گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے بھی کھل کر بات کرتا ہے اور کشمیر کے سبھی حصوں سے فوجی انخلا کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔ پانچ اگست کے بعد بھی یہ دھڑا ایک پرزور احتجاجی تحریک کا حامی تھا مگر تنظیم کے اندر کئی لوگ اعتدال پسندی اور وقتی طور پر خاموشی اختیار کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا تھے۔ ان حالات میں تنظیم کا ٹوٹنا طے تھا۔'

ان کا خیال ہے کہ تقسیم کے اس عمل سے آزادی پسندوں کا بیانیہ کمزور ہو گا۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف اسٹیبلشمنٹ کو اپنے اپنے فیصلوں کے نفاذ میں جس مزاحمت کا سامنا ہوتا تھا آنے والے وقت میں وہ مزاحمت کمزور پڑ جائے گی۔

کیا یاسین ملک اپنی تنظیم پر کنٹرول کھو چکے ہیں؟

اگرچہ فی الوقت تنظیم کے دونوں دھڑے یاسین ملک کو اپنا لیڈر مانتے ہیں مگر بظاہر دونوں دھڑوں کے فیصلوں کو یاسین ملک کی تائید حاصل ہونے کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔

صحافی حارث قدیر کہتے ہیں کہ لبریشن فرنٹ میں تقسیم کا عمل کوئی نیا نہیں۔  '2011 میں جب یاسین ملک اور امان اللہ خان کا اتحاد ہوا تو اس وقت بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جماعت کا ایک دھڑا علیحدہ ہو گیا تھا۔'

اس وقت لگ بھگ سات دھڑے کام کر رہے ہیں تاہم یہ دو نئے دھڑے یاسین ملک کو ہی اپنا لیڈر قرار دے رہے ہیں۔ حارث قدیر کے بقول یہ یاسین ملک کے بعد ان کی سیاسی وراثت اور تحریک پر دعویداری مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے۔

'دونوں دھڑوں کو یقین ہو چکا ہے کہ یاسین ملک کے جیل سے باہر آنے اور جماعت کی قیادت سنبھالنے کے امکانات بہت کم ہیں، لہذا یہ ان کی سیاسی وراثت اور تحریک پر حق جتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

ان کے بقول اس عمل میں پاکستان اور بھارت کی اسٹیبلشمنٹ کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 'کون کس کے لیے کام کر رہا ہے یہ طے کرنا تو فی الحال ممکن نہیں البتہ یہ طے ہے کہ تقسیم کے اس عمل کا نقصان کشمیریوں کی تحریک آزادی کو ہی ہو گا۔'

لبریشن فرنٹ کی تاریخ

لبریشن فرنٹ کا قیام 1976 میں برطانیہ میں عمل میں لایا گیا اور اس کے بانی امان اللہ خان جبکہ شریک بانی مقبول بٹ تھے۔ ابتدائی طور پر اس جماعت نے کشمیر کی آزادی و خودمختاری کے لیے مسلح جدوجہد شروع کی تاہم 1994 میں یاسین ملک نے مسلح جدوجہد ترک کرکے سیاسی و سفارتی جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔

اس یک طرفہ سیز فائر کے بعد یاسین ملک اور امان اللہ خان کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے اور دونوں نے اپنے الگ الگ دھڑے قائم کرلیے۔ 2011 میں یاسین ملک اور امان اللہ خان کے درمیان اگرچہ دوبارہ اتحاد ہوگیا تاہم امان اللہ خان گروپ کے اس وقت کے چیئرمین سردار صغیر خان نے اتحاد کی شرائط سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا الگ گروپ تشکیل دے دیا۔

اپنے قیام سے لے کر اب تک یہ جماعت کئی مرتبہ تقسیم کے عمل سے دو چار ہوئی اور اس وقت اس کے سات الگ الگ دھڑے کام کر رہے ہیں، تاہم یاسین ملک کی سربراہی میں قائم اس دھڑے کےعلاوہ کوئی دوسرا دھڑا قابل ذکر عوامی پزیرائی حاصل نہیں کرسکا۔

یاسین ملک پر الزامات

یاسین ملک کو 22 فروری 2019 کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے 'امتناعی حراست' میں لیا۔ بعد ازاں ان پر سخت گیر قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) لاگو کیا گیا اور پھر تفتیشی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے انہیں ٹیرر فنڈنگ کے ایک مبینہ کیس میں گرفتار کرلیا۔

یاسین ملک اس وقت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں اور ان پر 30 سال قبل بھارتی فضائیہ کے چار افسران کے قتل کی سازش کے علاوہ 1990 میں اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی چھوٹی بہن ڈاکٹر روبیہ سعید کو اغوا کرنے کے الزام کے تحت بھی مقدمہ چل رہا ہے۔ بظاہر ان الزامات سے یاسین ملک کا چھٹکارا ناممکن ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا