اسلام آباد میں ای ٹیگ کے بغیر گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع

اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق ایم ٹیگ کے بغیر گاڑیوں کو مختلف چیک پوائنٹس پر روکا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں شہری ایم ٹیگ کے بوتھ پر اپنی گاڑیوں کے ہمراہ نظر آ رہے ہیں (دفتر ڈپٹی کمشنر)

اسلام آباد کی انتظامیہ نے اتوار کو بتایا کہ دارالحکومت میں الیکٹرانک ٹیگز (ای ٹیگ) کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ 

اس اقدام کا مقصد ٹریفک کو منظم کرنا اور شہر کے داخلی و خارجی مقامات پر نگرانی کو بہتر بنانا ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ نے گذشتہ نومبر میں شہر میں سکیورٹی بڑھانے کے لیے تمام گاڑیوں پر ای ٹیگ لازمی قرار دیا تھا۔ 

جن گاڑیوں پر پہلے سے موٹروے ٹیگ (ایم ٹیگ) موجود ہے، انہیں ای ٹیگ کی ضرورت نہیں۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کرنا، ریکارڈ کو بہتر بنانا اور یقینی بنانا ہے کہ دارالحکومت میں داخل ہونے والی گاڑیاں باقاعدہ طور پر نظام میں رجسٹرڈ ہوں۔

ای ٹیگ کے نفاذ کے لیے دارالحکومت کے داخلی مقامات اور چیک پوسٹس پر نصب ریڈرز خودکار طور پر ان گاڑیوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن پر ای ٹیگ موجود نہیں ہوتا، جس سے بغیر دستی چیکنگ کے کارروائی ممکن ہو جاتی ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ نے اپنے بیان میں ایک اعلیٰ ایکسائز افسر کے حوالے سے کہا ’ایم ٹیگ کے بغیر گاڑیوں کو مختلف چیک پوائنٹس پر روکا جا رہا ہے۔

’شہریوں سے درخواست ہے کہ قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے جلد از جلد ٹیگ لگوا لیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر قائم متعدد چیک پوائنٹس پر ریڈرز مکمل طور پر فعال ہیں، جو ای ٹیگ کے بغیر گاڑیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

’مختلف علاقوں میں قائم 17 مراکز پر ای ٹیگز کی تنصیب بھی جاری ہے۔‘

بیان میں مزید بتایا گیا ’اب تک مجموعی طور پر 166,888 گاڑیوں کو کامیابی کے ساتھ ایم ٹیگز جاری کیے جا چکے ہیں۔‘

گذشتہ ماہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اسلام آباد کے مانیٹرنگ سسٹم کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ سیف سٹی پراجیکٹ کی اصلاحات اور ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال ’وقت کی اہم ضرورت‘ ہے۔

ان کی وزارت کے مطابق نقوی نے کہا ’کیپیٹل سمارٹ سٹی انیشیٹو کے تحت ریسکیو 1122، ٹریفک مینیجمنٹ، سکیورٹی اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سمیت شہری خدمات کو ایک مرکزی نظام میں ضم کیا جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان