پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سعودی عرب کو ’دیرینہ شراکت دار‘ قرار دیتے ہوئے خاص طور پر کلیدی اقتصادی شعبوں میں پائیدار اور باہمی طور پر مفید تعاون کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کا فعال سلسلہ موجود ہے۔
ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے ہونے والی العلا کانفرنس کے موقعے پر اتوار کو عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اورنگزیب نے کہا کہ عالمی سیاسی جغرافیائی کشیدگی کے باوجود پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط ہیں۔
’مملکت طویل عرصے سے پاکستان کی دیرینہ شراکت دار رہی ہے، اور ہم اس بات کے لیے بہت شکر گزار ہیں کہ ہر مشکل وقت اور کٹھن حالات میں ہماری حمایت کی گئی، اور اب جب کہ ہم نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے، میرے خیال میں ہم ترقی کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔‘
پاکستانی وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا کہ اس شراکت داری نے معدنیات اور کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور سیاحت سمیت کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کی راہیں ہموار کی ہیں۔ انہوں نے سعودی سرمایہ کاری کے ایک فعال سلسلے کا حوالہ دیا، جس میں پاکستان کے ڈاون سٹریم آئل اینڈ گیس سیکٹر میں سعودی توانائی کمپنی وافی کی آمد شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مملکت نے ملک میں اپنی دلچسپی کا کھلا اظہار کیا ہے، اور یہ شعبے معدنیات اور کان کنی، آئی ٹی، زراعت اور سیاحت ہیں۔ یہاں پہلے ہی سرمایہ کاری آ چکی ہے۔ مثال کے طور پر، وافی (ڈاون سٹریم آئل اور گیس سٹیشنز کے حوالے سے) آ چکی ہے۔ سرمایہ کاری کا بہت فعال سلسلہ موجود ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی سرگرمیاں ان شعبوں میں ترقی کا باعث بن رہی ہیں، جبکہ حکومت کی سطح پر تعاون کا مرکز بنیادی طور پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہے۔
بیوروکریسی اور تاخیر سے متعلق سرمایہ کاروں کے دیرینہ تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے، اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ دو برسوں میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے پیش رفت کی ہے۔
پاکستان کے وزیر خزانہ کے بقول: ’گذشتہ دو سال میں ہم نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر بہت محنت کی ہے، جسے میں ’بنیادی معاملات کی درستی‘ کہتا ہوں، چاہے وہ مالیاتی صورت حال ہو یا موجودہ معاشی صورتحال۔ ان تمام شعبوں میں بنیادی معاملات کو درست سمت میں لانے کے لیے کام کیا گیا ہے۔‘
انہوں نے کان کنی اور تیل کی صفائی کو تعاون کے کلیدی شعبوں کے طور پر اجاگر کیا، جس میں ریکوڈک منصوبے پر بات چیت بھی شامل ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ بات چیت انفرادی منصوبوں سے آگے کی بات ہے۔
’میرے نقطہ نظر سے، یہ صرف ایک کان کی بات نہیں ہے۔ سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ ان میں سے کئی شعبوں پر بات چیت جاری رہے گی۔‘
انہوں نے آئی ٹی کے شعبے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت میں بڑھتے ہوئے تعاون کی طرف بھی اشارہ کیا اور بتایا کہ کئی پاکستانی ٹیک کمپنیاں پہلے ہی اپنے سعودی ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں یا مملکت میں اپنے دفاتر قائم کر چکی ہیں۔
سعودی وزیر برائے معیشت و منصوبہ بندی فیصل الابراہیم کے ساتھ حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے، اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی بڑی فری لانس ورک فورس گہرے تعاون کے مواقع فراہم کرتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہنر مندی کا فروغ طلب کے مطابق ہو۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں ابھی (سعودی) وزیر معیشت اور منصوبہ بندی کے ساتھ تھا، اور وہ خاص طور پر پاکستانی ٹیک ٹیلنٹ کا حوالہ دے رہے تھے، اور وہ بالکل درست کہہ رہے ہیں۔ ہمارے پاس دنیا کی تیسری بڑی فری لانس آبادی ہے، اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ ہم ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں، انہیں نئی مہارتیں سکھائیں اور انہیں اپ گریڈ کریں۔‘
پاکستانی وزیر خزانہ نے توانائی کے شعبے میں سعودی عرب کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے مواقع کا بھی ذکر کیا اور دفاعی پیداوار میں جاری تعاون کی طرف اشارہ کیا۔
مستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو امداد پر انحصار کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف موڑنا ہے۔
’ہمارے وزیر اعظم بالکل واضح کر چکے ہیں کہ ہم مستقبل میں اس پوری بحث کو امداد اور تعاون سے نکال کر تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔‘