گندم کے تنکوں سے فن پارے بنانے والے عابد شاہ سے ملیے

سید عابد شاہ گذشتہ 50 سال سے یہ فن پارے بنا رہے ہیں، جو ان کی گزر بسر کا ذریعہ ہیں۔

چھوٹے سے گھر کے گراؤنڈ فلور پر واقع کمرے کے ایک کونے میں بیٹھے سفید ریش شخص ایک ایک کر کے گندم کے تنکے بلیڈ سے کاٹتے اور گلو سے شیٹ پر لگا رہے ہیں۔ وہ جوں جوں کام مکمل کرتے جاتے ہیں شیٹ پر منڈھے سیاہ کپڑے پر اللہ کا نام نمایاں ہونے لگتا ہے۔

یہ ہیں پشاور سے تعلق رکھنے والے سید عابد شاہ، جو گذشتہ 50 سال سے اس فن سے وابستہ ہیں، جس میں گندم کے تنکوں سے دلکش اور خوبصورت فن پارے بنائے جاتے ہیں۔

چھ سال کی عمر میں اپنے یورپ پلٹ دادا کو دیکھ کر عابد شاہ کو اس کام کا شوق پیدا ہوا، جو انہوں نے پانچ سال میں سیکھ لیا۔

سفید داڑھی، لمبے بال اور ہاتھ میں تنکوں کی گڈی لیے عابد شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’یہ میری روزی روٹی بھی ہے اور شوق بھی اور اسی وجہ سے 50 سال سے یہی فن پارے بنا کر پشاور کے فٹ پاتھوں پر بیچتا ہوں۔

’بڑے سائز کے فن پارے یہاں کوئی خریدتا نہیں، چونکہ ان پر محنت زیادہ کرنا پڑتی ہے اور اسی وجہ سے قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ فن پارے اکثر مختلف نمائشوں میں رکھتا ہوں۔ وہاں ان کے خریدار مل جاتے ہیں۔‘  

گندم سے فن پارے بنانے کا فن صدیوں پرانا ہے اور چائنہ ڈیلی کے مطابق اس کی تاریخ 2000 سال پرانی ہے۔ چین کی سوئی سلطنت میں بلدیاتی حکومت کے نمائندے بادشاہوں کو گندم کے تنکوں سے بنے فن پارے تحفے میں دیتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چین میں گندم کے تنکے کو مقدس سمجھا جاتا ہے اور اس کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ ڈونگ ہن سلطنت کے بادشاہ لیو ژیو کو دشمن قتل کرنا چاہتے تھے، جن سے بھاگتے ہوئے وہ گندم کے تنکوں میں چھپ گئے۔ چینی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ تنکے لکڑی میں تبدیل ہو گئے اور یوں بادشاہ کی حفاظت ہوئی اور ان کی جان بچ گئی۔

چائنہ ڈیلی کے مطابق تب سے گندم کے تنکوں سے بنے فن پاروں کو مقدس اور خوش قسمتی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ کی نیشنل ایسوسی ایشن آف ویٹ ویورز کے مطابق اسی طرز کی گندم کے تنکوں سے مختلف چیزیں جیسے ٹوپیاں، باسکٹ اور دیگر ڈیکوریشن کی اشیا بنانا 1600 صدی میں یورپ میں بہت عام تھا اور 17ویں صدی میں یہ امریکہ اور یورپ میں ایک بڑی صنعت بن گیا تھا۔

 سید عابد شاہ کہتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں اس فن کے ماہرین اب بہت کم ہی رہ گئے ہیں اور یہ معدوم ہوتا جا رہا ہے لیکن ان کی کوشش ہے کہ اس کو زندہ رکھ سکیں۔

انہوں نے بتایا: ’اب میرا بیٹا بھی اس فن کا ماہر ہے اور اس نے یہ سیکھ لیا ہے۔ زیادہ تر فن پارے اب وہ بناتا ہے اور بیچتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فن