سٹیج ڈراموں کے ذریعے فن کار فن کے ذریعے معاشرے کے مسائل اجاگر کرتے ہیں۔ اسی کوشش کے اعادے کے لیے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 25سال بعد ادارہ ثقافت اور فن کاروں کی کوششوں سے سٹیج ڈرامے اور تھیئٹر کی بحالی ممکن ہوئی ہے۔
بد قسمتی سے بلوچستان میں 25سال قبل تھیئٹر پابندی اور سٹیج کی عدم دستیابی کے باعث بند ہوا جس کے بعد کوئٹہ شہر میں نہ کہیں سٹیج سجا اور نہ ہی کسی فن کار نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا لیکن اب صورت حال میں تبدیلی آئی ہے اور سٹیج کی رونقیں بحال ہونے لگی ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے سینیئر فن کار، مصنف اور ہدایت کار اورنگزیب زیبی کا کہنا تھا کہ 25سال قبل فن کاروں کی مختلف تنظیمیں کام کررہی تھی جن میں کئی ایسے بھی تھے جن کو فن کا مطلب ہی پتہ نہیں تھا۔
ایسے لوگ معاشرتی مسائل اجاگر کرنے کی بجائے سٹیج کو کمائی کا ذریعہ بنایا اور اس مقصد کے لیے فحاشی اور بے ہودگی کا سہارا لیا۔
اس صورت حال کی وجہ سے سٹیج ڈراموں پر پابندی لگ گئی لیکن آج 25برس بعد ہمارے دوستوں کی کوششوں کی بدولت ہم دوبارہ اسٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تھیئٹر کی بندش کے بعد فن کاروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مسائل کا سامنا کرنے والوں میں مسکان ملک بھی شامل تھیں جو مختلف فلموں، ڈراموں اور تھیئٹرز پر کام کر چکی ہیں۔
مسکان ملک 25 برس بعد ایک بار بار پھر سے سٹیج پر فن کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب تھیٹر بند ہوا تو انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بعدمیں انہوں نے بیوٹیشن کا کورس کر کے بیوٹی پارلر کھول لیا۔
مسکان ملک کے بقول: ’جس طرح انسان کو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی ایک فن کار کے لیے سٹیج پرفن کا مظاہر ہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔‘
مسکان ملک اور ان کے دیگر ساتھی فن کار آج کل رومانوی داستان سسی پنہوں کا سٹیج پر خاکہ پیش کر رہے ہیں۔