’مغربی دنیا ہمارے ٹرک آرٹ کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے‘

گذشتہ 26 سال سے ٹرک آرٹ کے فن کا مظاہرہ کرنے والے سیار خان کے مطابق اس فن کو مقبولیت حالیہ برسوں میں ملنا شروع ہوئی ہے۔

پشاور کے مضافاتی گاؤں سنگو لنڈی سے تعلق رکھنے والا ٹرک آرٹ ماسٹر سیار خان اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دوسرے کئی ممالک میں بھی جانے جاتے ہیں۔

ماسٹر سیار خان نے حال ہی میں تھائی لینڈ میں 250 مربع فٹ رقبے کی دیوار پر ٹرک آرٹ پینٹ کیا۔

یہی نہیں بلکہ انہوں نے ملک کے اندر لوک میلوں میں شرکت کے علاوہ دبئی ایکسپو میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

سیار خان جوتوں، بٹوؤں، کپڑوں، گھر کی کھڑکیوں، دروازوں، کھانے پینے کی برتنوں سمیت دیگر کئی اشیا پر ٹرک آرٹ کے نمونے بنا کر داد وصول کر رہے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے ان کا فن دیکھنے اور ان سے گفتگو کرنے کی غرض سے ان کے گاؤں کا دورہ کیا، جہاں وہ اپنے حجرے میں مختلف اشیا پر ٹرک آرٹ بناتے ملے۔

سیار نے بتایا کہ اگرچہ وہ 26 سال سے اس فن میں مصروف ہیں، لیکن انہیں زیادہ شہرت گذشتہ چند سالوں سے ملنا شروع ہوئی۔

’چونکہ یہ آرٹ معدوم ہوتا جا رہا ہے، اسی لیے اب یہ نئی نسل کے لیے پرکشش ہے۔ مغربی دنیا میں اس کو زیادہ پسند کیا جا رہا ہے۔‘

سیار خان نے کہا کہ ’مغربی دنیا فائن آرٹ کی معراج کو چھو رہی ہے، لیکن ہمارے ٹرک آرٹ کو دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ٹرک آرٹ سیکھنے کے لیے باقاعدہ کوئی ادارہ یا سکول موجود نہیں ہے، اس لیے اس فن میں مہارت حاصل کرنا دشوار ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس فن کو سیکھنے کے لیے آپ کو ٹرک اڈے جا کر ورکشاپ میں سیکھنا پڑتا ہے۔ مجھے خود سیکھنے میں کئی سال لگے، میں نو سال تک شاگردی کرتا رہا۔‘

سیار خان کے مطابق کینیڈا، امریکہ اور یورپی ممالک سے اکثر کاروباری افراد ان کے ساتھ رابطہ کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں ایک پاکستانی کیفے کے لیے وہ برتنوں سے لے کر رکشہ اور موٹر سائیکل تک پینٹ کر کے پورا کنٹینر بھر کر بھیج چکے ہیں۔

سیار خان کے مطابق ’وہ کیفے اتنا کامیاب ہوا کہ انہوں نے دوسرا کھولا، جس کے لیے میں نے کرسیاں، میزیں، کاؤنٹر، 42 تصاویر، برتن ایک رکشہ اور موٹر سائیکل پینٹ کیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فن