’ٹرک آرٹ آزادی اظہار رائے کی مثال ہے‘

جرمنی میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹرک آرٹ کو جدید طرز پر متعارف کروانے سے دنیا پاکستان کے اصل رنگوں کو بہتر طور پر جان پائے گی۔

پاکستان کی آزادی کے 75 سال پورے ہونے پر جرمنی میں نمائش کا اہتمام کیا گیا (انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کی 75 سالہ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں پاکستان کے جرمنی میں سفارت خانے کی جانب سے پاکستان ہاؤس برلن میں معروف ٹرک آرٹ کے نمونوں کی نماٸش کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان ثقافتی و سماجی اعتبار سے ایک آسودہ اور پرکشش ملک ہے جو اپنے سیاحوں کی دلچسپی کے لیے اصناف کی ایک طویل فہرست پیش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہماری موسیقی، کھانے، قدرتی نظارے اور فن تعمیر دنیا بھر میں مشہور ہیں اور اپنے چاہنے والوں کو مسحور کرتے ہیں۔‘

ڈاکٹر محمد فیصل نے اس موقع پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرک نہ صرف نقل و حمل کے ذریعے کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں بلکہ اپنی منفرد و رنگین ہیت کے ساتھ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔

’دیکھنے والے نہ صرف ان کی خوبصورتی سے محظوظ ہوتے ہیں بلکہ ان پر لکھی دلچسپ تحاریر بھی لوگوں کو تفریح فراہم کرتی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ٹرک آزادی اظہار رائے کے ذریعے کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ مثلاً مختلف سیاسی اور قومی شخصیات کی تصاویر کے ساتھ مختلف اقوال بھی سڑکوں پر رواں دواں دیکھے جا سکتے ہیں۔

پاکستانی ثقافت میں ٹرک آرٹ کو ایک اہم مقام حاصل ہے اور رواں سال پاکستان کی آزادی کو 75 سال پورے ہونے پر اس نمائش کا اہتمام کیا گیا، جس میں ٹرک آرٹ کے لیے فن پارے بنانے والے فنکاروں کو پاکستانی سفیر ڈاکٹر محمد فیصل کی جانب سے تعریفی اسناد دی گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن