روس ایران کو جنگی کوششوں میں مدد کے لیے ڈرونز بھیج رہا ہے: رپورٹ

یوکرین کے صدر  وولودی میر زیلینسکی بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ روس ایران کو انٹیلیجنس فراہم کر رہا ہے۔

ایران کا ڈیزائن کردہ شاہد ڈرون جو روس تیار کر رہا ہے۔ یہ ڈرون 27 دسمبر 2025 کو یوکرین کے شہر کیئف پر اڑتے دیکھا گیا (اے ایف پی)
 

رپورٹ کے مطابق روس امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کی جنگی کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے ڈرونز، ادویات اور خوراک کی مرحلہ وار ترسیل مکمل کرنے کے قریب ہے۔

دو عہدیداروں نے، جنہیں انٹیلیجنس معلومات تک رسائی حاصل ہے نے اخبار دی فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے گزشتہ ماہ تہران پر پہلے حملے کے چند دن بعد ہی ایرانی اور روسی اعلیٰ حکام نے خفیہ طور پر ڈرونز کی فراہمی پر بات چیت شروع کر دی تھی۔

مغربی انٹیلیجنس کے مطابق ماسکو نے مارچ کے اوائل میں ترسیل شروع کی اور توقع ہے کہ اس مہینے کے اختتام تک یہ مکمل ہو جائے گی۔

جنگ جاری رہنے کے دوران روس تہران کا قریبی اتحادی بنا ہوا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ایران نے یوکرین پر روسی حملے میں ماسکو کی کئی سالوں سے حمایت کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)



یوکرین کے صدر  وولودی میر زیلینسکی بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ روس ایران کو انٹیلیجنس فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بدھ کو کہا کہ ماسکو نے امریکہ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی، یہ پیشکش کرتے ہوئے کہ اگر واشنگٹن یوکرین کو انٹیلیجنس ڈیٹا فراہم کرنا بند کر دے تو روس بھی ایران سے فوجی معلومات کا تبادلہ روک دے گا۔

پیر کے روز انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ’ناقابلِ تردید‘ شواہد موجود ہیں کہ روس اب بھی ایران کو انٹیلیجنس فراہم کر رہا ہے، اور خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ انہوں نے یہ ڈیٹا خود دیکھا ہے، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ڈرونز کی کھیپ اس جنگ کے آغاز کے بعد ایران کے لیے ماسکو کی حمایت کا پہلا ثبوت ہو سکتی ہے۔

ڈرونز کی ترسیل کے بارے میں پوچھے جانے پر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ’اس وقت بہت سی جھوٹی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ ایک بات درست ہے، ہم ایرانی قیادت کے ساتھ اپنا مکالمہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

ایران روس کے لیے شاہد ڈرونز کا ایک اہم فراہم کنندہ رہا ہے، جو یوکرین کے خلاف جنگ میں روسی توپخانے کا اہم حصہ ہیں۔ ماسکو اپنی جارحیت کے دوران ایک ہی رات میں سینکڑوں شاہد ڈرونز استعمال کر چکا ہے، جس کے باعث کیف دفاعی ڈرون جنگ میں مہارت حاصل کر چکا ہے۔

زیلنسکی نے بدھ کو کہا کہ خلیجی ممالک یوکرین کے ڈرونز کے خلاف دفاعی تجربے میں گہری دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ خطے میں نہ صرف )شاہد( ڈرونز استعمال ہو رہے ہیں بلکہ ایف پی وی ڈرونز کے استعمال کے شواہد بھی بڑھ رہے ہیں۔ یہ جدید جنگ ہے اور ہر کسی کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یوکرین کے پاس یہ مہارت موجود ہے، اور ہماری حمایت کے بدلے ہمیں ان شعبوں میں مدد درکار ہے جہاں ہمیں زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس میں بیلسٹک خطرات سے تحفظ اور دفاع کے لیے مالی وسائل شامل ہیں۔ یوکرین ایک باہمی فائدہ مند شراکت داری کی پیشکش کرتا ہے: ہم ان کو مضبوط بنا سکتے ہیں جو ہمیں مضبوط بنا سکتے ہیں۔

’دنیا کی موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ صرف مربوط اور مشترکہ اقدامات ہی حقیقی نتائج اور حقیقی سکیورٹی کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ ہمیں یورپ میں رکاوٹوں کا سامنا ہے، اور جب تک یہ خطرہ موجود ہے ہمیں خود کو مضبوط بنانے کے لیے مزید مواقع تلاش کرنا ہوں گے۔‘

صدر نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطہ درست سمت ہیں اور یوکرین کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ مواقع فراہم کرتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا