وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو اعلان کیا کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے بین الاقوامی مسافروں کی رہنمائی کے لیے سہولت ڈیسک قائم کر دیے ہیں تاکہ انہیں امیگریشن کے طریقہ کار سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں۔
یہ اعلان اس تنقید کے بعد سامنے آیا جو مختلف ہوائی اڈوں پر مسافروں کو طیاروں سے اتارنے کے حکومتی اقدام کے حوالے سے کی جا رہی ہے۔
دسمبر میں پاکستانی حکام نے بتایا تھا کہ 2025 میں 66,154 مسافروں کو پاکستان کے مختلف ہوائی اڈوں پر طیاروں سے اتارا گیا، جب کہ 2024 یہ تعداد 35,000 تھی۔
یہ اعداد و شمار اس وقت جاری کیے گئے جب متعدد مسافروں نے شکایت کی کہ انہیں درست سفری دستاویزات ہونے کے باوجود مختلف ہوائی اڈوں پر آف لوڈ کیا گیا۔
ایف آئی اے کے مطابق زیادہ تر مسافروں کو اس وقت آف لوڈ کیا گیا جب ان سے ان کی سفری دستاویزات کی صداقت کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی، جو بنیادی طور پر ورک، سیاحتی اور عمرہ ویزوں پر مشتمل تھیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی غیر قانونی نقل مکانی کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا حصہ ہے۔
محسن نقوی نے آج ایکس پر لکھا مجھے ’یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے فوری طور پر تمام زونل دفاتر میں پری ڈپارچر سہولت ڈیسک قائم کر دیے ہیں۔‘
Pleased to share that the Federal Investigation Agency has launched Pre-Departure Facilitation Desks across all zonal offices, with immediate effect.These desks will provide guidance & assistance to international travelers on immigration procedures/clearances, ensuring a…— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) January 4, 2026
انہوں نے مزید کہا ’یہ ڈیسک بین الاقوامی مسافروں کو امیگریشن کے طریقہ کار اور کلیئرنس کے حوالے سے رہنمائی اور معاونت فراہم کریں گے تاکہ ان کا سفر زیادہ ہموار اور بلا جھنجھٹ ہو۔‘
وزیر نے بتایا کہ یہ ڈیسک بین الاقوامی مسافروں کے لیے بذریعہ حاضری، ہیلپ لائنز اور ای میل کے ذریعے قابل رسائی ہوں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا ڈیسک کی ’تفصیلات ہوائی اڈوں، سرحدی مقامات اور ایف آئی اے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔‘
پاکستان نے 2023 میں غیر قانونی نقل مکانی کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی تھیں کیونکہ سینکڑوں افراد، جن میں پاکستانی شہری بھی شامل تھے، بحیرۂ روم پار کرنے کی کوشش میں ایک گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے جہاز کے سمندر میں ڈوب جانے سے جان کی بازی ہار گئے تھے۔
ستمبر میں ایف آئی اے نے ملک کے 100 سے زائد ’مطلوب ترین‘ انسانی سمگلروں کی فہرست جاری کی تھی جو اس کی ملک گیر کارروائیوں کا حصہ ہے۔
دسمبر میں وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ اسلام آباد میں جنوری سے ایک اے آئی پر مبنی امیگریشن سکریننگ سسٹم لایا جائے گا، جو جعلی سفری دستاویزات کا پتہ لگانے اور غیر قانونی سفر کو روکنے میں مدد دے گا۔
حکام نے بتایا کہ گذشتہ سال یورپ کی جانب غیر قانونی نقل مکانی میں 47 فیصد کمی دیکھی گئی اور 1,700 سے زائد انسانی سمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔