مقررہ وقت میں سوشل میڈیا مواد نہ ہٹانے کی صورت میں کارروائی کا پیکا بل منظور

بل کے مطابق ’اگر کوئی سروس پرووائیڈر مقررہ وقت کے اندر مواد ہٹانے یا بلاک کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی‘ کرنے کا کہا گیا ہے۔

20 جنوری 2026 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اسلام آباد میں اجلاس (انڈپینڈنٹ اردو)

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پیکا ترمیمی بل جو سروس پرووائیڈرز کی جانب سے مقررہ وقت میں مواد ہٹانے سے متعلق ہے، منظور کر لیا ہے۔ دوسری جانب کمیٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس سے مواد ہٹانے کے لیے تعاون نہ کرنے پر پاکستان میں پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔

منگل کو سینیٹ (ایوان بالا) کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمن کا پیکا ترمیمی بل منظور کر لیا گیا ہے۔ اس بل کے مطابق ’اگر کوئی سروس پرووائیڈر مقررہ وقت کے اندر مواد ہٹانے یا بلاک کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی‘ کرنے کا کہا گیا ہے۔

بل کے مسودے، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، کے مطابق سروس پرووائیڈر مجاز ادارے کی جانب سے کسی مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے کی درخواست پر عمل درآمد یقینی بنانے کا پابند ہوگا۔

مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی سروس پرووائیڈر مقررہ وقت کے اندر مواد ہٹانے یا بلاک کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔

بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد آن لائن مواد کے ضابطے کو مؤثر بنانا اور الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے لیے قانونی فریم ورک کو مضبوط کرنا ہے۔

چیئرمین فیصل سلیم رحمن کے زیر صدارت اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمان نے سوال اٹھایا کہ ’سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کا واضح طریقہ کار کیا ہوگا؟ اور اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) یا این سی سی آئی اے کی درخواست پر ایسا مواد ہٹانے سے انکار کریں تو اس صورت میں کیا کارروائی کی جائے گی؟‘

ڈی جی این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے تعاون کے لیے درخواستیں کی جا چکی ہیں۔

سینیٹر انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سروس پرووائیڈرز کا موقف رہا ہے کہ جب تک کسی مواد کو قانونی طور پر جرم ثابت نہ کیا جائے، وہ اسے ہٹانے کے پابند نہیں ہوں گے۔

اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دائرہ کار ہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ موجودہ قوانین حکومت کے پاس پہلے سے موجود ہیں۔

اجلاس کے دوران سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے مبینہ غلط استعمال اور ریاستی اداروں سے عدم تعاون کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ ’بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز دہشت گردی میں استعمال ہونے والے اکاؤنٹس کی معلومات اور آئی پی ایڈریس فراہم نہیں کرتے، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔‘

سینیٹر طلال چوہدری نے کہا، ’ہم سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو بلا کر متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں۔ دہشت گردی میں پہلے بندوقوں کا استعمال کرتے تھے اور اب سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔‘

چیئرمین فیصل سلیم رحمن نے کہا کہ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پاکستانی اداروں کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے، ان پر ملک میں پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایسے پلیٹ فارمز کے ساتھ باضابطہ معاہدے کرنے چاہییں تاکہ قانون کے مطابق تعاون حاصل کیا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’چین میں سوشل میڈیا کے لیے اپنا نظام موجود ہے اور ریاستی مفادات کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے کیے جاتے ہیں۔‘

سینیٹر پلوشہ خان نے بھی اجلاس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کی تجویز کی حمایت کی۔

وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ اگر حکومت ایسے فیصلے خود کرتی ہے تو اس پر آزادی اظہار رائے پر حملے کے الزامات لگتے ہیں، لہذا اس حوالے سے پارلیمان کی حمایت ضروری ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے اس معاملے پر متعلقہ حکام سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ طلب کر لی۔

 24 کروڑ پاکستانیوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے

اجلاس میں سینیٹر افنان اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام پاکستانیوں کا اپ ڈیٹڈ تازہ پرسنل ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے۔ ’یہ ڈیٹا اتنا تازہ ترین ہے کہ ہمارے پاس بھی ایسا ڈیٹا موجود نہیں ہوگا۔‘

سینیٹر افنان اللہ نے کہا، ’متعلقہ افراد نے نادرا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور بینک کے ڈیٹا کا مکمل ڈیٹا سیٹ بنایا ہوا ہے اور یہ ڈیٹا صرف 500 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ پورے ملک کا ڈیٹا 70 سے 80 ارب روپے میں فروخت ہوگا۔ اور یہ ڈیٹا چوری ادارے کے اندر تعینات ملازمین کے تعاون کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ 24 کروڑ افراد کا ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے، یہ ایسے چوری نہیں ہو سکتا۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان