متاثرہ لڑکی کے والد نے 21 جون کو تھانہ بڈھ بیر میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا کہ مقدمہ درج کروانے میں تاخیر مقامی جرگے کی کوششوں کے باعث ہوئی، جو فریقین کے درمیان صلح کروانا چاہتا تھا۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق لوئی ماموند اور واڑہ ماموند کے 24 مختلف دیہاتوں سے لوگوں کو شدت پسندوں کے خلاف ’ٹارگٹڈ کارروائی‘ کے دوران علاقے خالی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔