چھاتی کے کینسر کی تشخیص میں مدد دینے والا نیا سکریننگ نظام

ایک نئی تحقیق کے مصنفین نے 13 سال پرانی سکریننگ ہدایات میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ایک متبادل جانچ کا نظام ایسے افراد کی بھی نشاندہی کر سکتا ہے جو خطرے میں ہوں، خواہ ان کے خاندان میں یہ بیماری موجود نہ ہو۔

اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں تقریباً ہر سات میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر چھاتی کے کینسر کا شکار ہوتی ہے (اینواتو)

اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں تقریباً ہر سات میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر چھاتی کے کینسر کا شکار ہوتی ہے اور جن خواتین میں اس بیماری کا خطرہ زیادہ ہو ان کی جلد نشاندہی زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم نئی تحقیق کے مطابق اس وقت جنرل پریکٹیشنرز (جی پیز) کی جانب سے کم عمر خواتین کو مزید سکریننگ کے لیے بھیجنے کے لیے استعمال کی جانے والی ہدایات ایسی 95 فیصد تک خواتین کو نظرانداز کر سکتی ہیں جو 50 سال کی عمر سے پہلے ہوں اور آئندہ دس برس کے اندر اس بیماری میں مبتلا ہو جائیں۔

تو کیا اب وقت آ گیا ہے کہ اس معیار کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے؟

اس وقت برطانیہ میں 50 سے 70 سال عمر کی خواتین کو ہر تین سال بعد میموگرافی (میموگرام) کروانے کا کہنا جاتا ہے۔ اس سے پہلے، تاہم، چھاتی کے کینسر کی معمول کی سکریننگ نہیں کی جاتی، جب تک ان کے خاندان میں یہ بیماری مضبوطی کے ساتھ موجود ہو یا جینیاتی تبدیلی کا ثبوت ملے، جیسے BRCA1 یا BRCA2 جینز میں ایسی تبدیلی جو ممکنہ طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہو۔

یعنی موجودہ ہدایات، جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس (NICE) نے مرتب کی ہیں، بنیادی طور پر جینیاتی عوامل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ لیکن تمام خطرے کے عوامل وراثت میں منتقل نہیں ہوتے؛ بعض پر طرزِ زندگی اور ماحول کی وجہ سے بھی ہوتے ہیں۔ درحقیقت، یہ سمجھا جاتا ہے کہ چھاتی کے کینسر کے صرف پانچ سے 10 فیصد کیسز ہی موروثی جینز سے جڑے ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ 50 سال سے کم عمر وہ خواتین جو اگلے 10 برس میں چھاتی کے کینسر کا شکار ہو جاتی ہیں، ان میں سے تقریباً تین چوتھائی (73 فیصد) کی خاندانی تاریخ میں اس بیماری کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔

کیمبرج یونیورسٹی اور لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ کی ایک تحقیق میں محققین نے 50 سال سے کم عمر 1,258 خواتین کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا، جو 2004 سے 2011 کے درمیان 'بریسٹ کینسر ناؤ' کی 'جنریشنز سٹڈی' کا حصہ رہی تھیں۔

ان کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اگر موجودہ NICE معیار استعمال کیے جائیں تو 50 سال سے کم عمر صرف 1.4 فیصد خواتین کو مزید جانچ کے لیے بھیجا جائے گا، جن میں وہ محض 4.4 فیصد خواتین بھی شامل ہوں گی جو آئندہ دس برس کے دوران چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہو جائیں گی۔

لیکن ایک متبادل جانچ کا نظام، جسے بوڈیسیا (Boadicea) کہا جاتا ہے، 50 سال سے کم عمر 26.5 فیصد خواتین کو زیادہ خطرے کی حامل قرار دینے میں کامیاب رہا، جن میں وہ 34.8 فیصد خواتین بھی شامل تھیں جو اگلے 10 برس کے اندر چھاتی کے کینسر کا شکار ہو گئیں۔ اس تحقیق کی سینیئر مصنفہ ڈاکٹر جولیٹ اوشر سمتھ کے مطابق یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مریضوں کو مزید جانچ کے لیے بھیجنے کے ان معیاروں پر ’دوبارہ غور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔‘

ڈاکٹر لوسی ہوپر نے، جو ایک جنرل پریکٹیشنر (جی پی) اور کوائن میڈیکل کی شریک بانی ہیں، احتیاطی اقدام کے طور پر دونوں چھاتیوں کی سرجری (ڈبل ماسٹیکٹومی) کروائی تھی، کیونکہ ایک نجی جینیاتی ٹیسٹ سے معلوم ہوا تھا کہ ان میں PALB2 جین کی تبدیلی موجود ہے، جو چھاتی کے کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے۔ (این ایچ ایس کے معیار کے مطابق وہ ابتدائی سکریننگ کی اہل بھی نہیں تھیں۔)

وہ کہتی ہیں کہ تحقیق میں سامنے آنے والے اعداد و شمار انہیں زیادہ حیران کن نہیں لگے، کیونکہ ’NICE کی بنیادی ہدایات 2013 میں تیار کی گئی تھیں، اور اس کے بعد ان میں صرف معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔‘

ڈاکٹر ہوپر مزید کہتی ہیں کہ خاندانی تاریخ اور چھاتی کے کینسر کے خطرے سے متعلق ہدایات کو اگلے سال اپ ڈیٹ کیا جانا ہے، لیکن انہیں امید ہے کہ یہ تحقیق ’اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ سکریننگ کے نظام‘ کو فروغ دینے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کے بقول، ’یہ اس بارے میں بہت سے اہم سوالات اور مثبت مباحث کو جنم دیتی ہے کہ ہم سکریننگ کے لیے کیا کرنا چاہتے ہیں، کیا امکانات موجود ہیں اور مختلف ممالک اس سلسلے میں کیا کر رہے ہیں؟‘

ہوپر کہتی ہیں کہ خاندانی تاریخ یقینی طور پر ایک کردار ادا کرتی ہے۔ ’اگر آپ کے قریبی رشتہ دار، مثلاً والدین یا بہن، اس بیماری سے متاثر رہے ہوں تو اس کا اثر ضرور ہوتا ہے، خاص طور پر اگر وہ کم عمری میں اس کا شکار ہوئے ہوں یا خاندان میں متعدد افراد متاثر ہوئے ہوں، تو اس سے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘

تاہم وہ خبردار کرتی ہیں کہ ’اگر آپ کی خاندانی تاریخ تشویش ناک نہیں ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کو خطرہ لاحق نہیں ہو سکتا۔‘ ان کے مطابق: ’میرے خیال میں یہ ہی اس تحقیق کا سب سے اہم نکتہ ہے۔ بہت سی خواتین ایسی تھیں جو خاندانی تاریخ سے متعلق ان معیاروں پر پوری نہیں اترتی تھیں، لیکن اس کے باوجود بعد میں انہیں چھاتی کا کینسر لاحق ہو گیا۔‘

بوڈیسیا (Boadicea)، جس کا مکمل نام Breast and Ovarian Analysis of Disease Incidence and Carrier Estimation Algorithm ہے، ایک سافٹ ویئر پلیٹ فارم ہے جو مریض کی جینیاتی معلومات اور خاندان میں کینسر کی تاریخ کے ساتھ ساتھ ’بہت سے دیگر خطراتی عوامل‘ کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ ڈاکٹر ہوپر کے مطابق، ’یہ نظام ان عوامل کا جائزہ لیتا ہے کہ آیا آپ کبھی حاملہ رہی ہیں، آیا آپ نے مانع حمل گولیاں استعمال کی ہیں، آپ کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) کیا ہے، روزانہ کتنی مقدار میں الکوحل استعمال کرتی ہیں، اور آپ کا قد کیا ہے۔‘

یہ ذاتی معلومات مریض کے مستقبل میں چھاتی کے کینسر کے ممکنہ شکار ہونے کے امکان کا حساب لگاتا ہے۔ وہ اس کا استعمال کر کے اپنی زندگی کے طور طریقوں میں تبدیلی لا سکتے ہیں یا احتیاطی علاج کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔

’میں ہمیشہ اس بات کے حق میں ہوں کہ خواتین کو زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنی صحت کے بارے میں بہترین فیصلے کر سکیں،‘ ڈاکٹر ہوپر کہتی ہیں۔ ’خواتین کو یہ بتانا کہ دراصل الکوحل کا استعمال چھاتی کے کینسر کا ایک اہم خطرے کا عنصر ہے، میرے خیال میں بہت ضروری معلومات ہیں، تاکہ وہ خود فیصلہ کر سکیں کہ وہ کتنی مقدار میں شراب پینا چاہتی ہیں یا بالکل نہیں پینا چاہتیں۔‘

مصنفہ لورا پرائس کو، جو Single Bald Female کی مصنفہ ہیں، پہلی بار 29 برس کی عمر میں چھاتی کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ ایک دہائی بعد، 2022 میں، انہیں معلوم ہوا کہ کینسر جسم کے دیگر حصوں تک پھیل چکا ہے، اور اب وہ ثانوی (سیکنڈری) اور ناقابلِ علاج چھاتی کے کینسر کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ وہ نسبتاً ’کم مداخلت والے‘ ایسے جانچ کے نظام کے تصور کا خیرمقدم کرتی ہیں جو ’کسی الگورتھم کی طرح‘ کام کرے اور کم عمر خواتین کو وہ معلومات فراہم کرے جن کی بنیاد پر وہ اپنی صحت سے متعلق اہم فیصلے کر سکیں۔

وہ کہتی ہیں، ’زیادہ سے زیادہ خواتین میں کم عمری میں اس بیماری کی تشخیص ہو رہی ہے اور ظاہر ہے کہ ہمیں اسے انتہائی سنجیدگی سے لینا ہوگا۔‘ لورا پرائس کے مطابق، کم عمر خواتین میں اس بیماری کے نتائج بھی عموماً زیادہ سنگین ہوتے ہیں، جس سے ’یہ اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہمارے چھاتی کے کینسر کی تشخیص ابتدائی مرحلے میں ہو، تاکہ اس کا علاج نسبتاً آسان اور مؤثر ہو سکے۔‘

لورا پرائس کہتی ہیں کہ ان کے خاندان میں اس بیماری کی ’کافی مضبوط تاریخ‘ موجود تھی، اور ان کا خیال ہے کہ ’اگر مجھے بیس برس کی عمر کے دوران ایسا کوئی ٹیسٹ کروانے کا موقع ملا ہوتا، مثلاً ملازمت کے دوران یا یونیورسٹی کی ڈگری کے اختتام پر، تو میرے لیے یہ جاننا بہت دلچسپ اور انتہائی مفید ہوتا کہ شاید مجھے اس بیماری کا خطرہ زیادہ ہے، اور اسی بنیاد پر میں اپنی زندگی کے انداز میں کچھ تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کر سکتی تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اگر مریضوں کو مزید جانچ کے لیے بھیجنے کے معیار تبدیل کیے جاتے ہیں تو اس سے ’وسائل پر بہت زیادہ دباؤ پڑے گا‘، جیسا کہ انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ کی پروفیسر مونسیراٹ گارثیا کلوساس نے کہا۔ اسی طرح کینسر ریسرچ یو کے میں سینیئر سٹریٹجک ایویڈنس منیجر ڈاکٹر سوومیا مورتی نے بھی اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ تبدیلی کو ’ہر کسی کے لیے قابلِ رسائی اور منصفانہ ہونا چاہیے، اور اس دوران اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ اضافی ریفرلز خواتین میں کتنی بے چینی اور ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔‘

NICE کے ایک ترجمان نے کہا کہ ادارہ اس تحقیق کے نتائج کا خیرمقدم کرتا ہے اور مستقبل میں چھاتی کے کینسر کے زیادہ خطرے سے دوچار خواتین کی بہتر نشاندہی کے لیے ’کثیر الجہتی خطرے کے ماڈلز (multifactorial risk models) کی صلاحیت‘ کو تسلیم کرتا ہے۔

البتہ ترجمان کے مطابق یہ ماڈلز مستقبل میں ان خواتین کو پہچاننے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جنہیں چھاتی کے کینسر کا خطرہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ لاحق ہو سکتا ہے، تاکہ ان کے لیے بروقت نگرانی اور سکریننگ کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ NICE نے کہا کہ وہ نئی تحقیق اور شواہد کا جائزہ لینے کے لیے بدستور پُرعزم ہے اور جیسے جیسے اس نظام کے عملی نفاذ اور طبی نتائج سے متعلق مزید معلومات دستیاب ہوں گی، مزید تبدیلیوں پر بھی غور کیا جائے گا۔

بریسٹ کینسر یو کے کی سائنس منیجر ڈاکٹر کیری پالمر کوئن نے کہا کہ کسی بھی عمر میں اپنی چھاتیوں سے واقف رہنا اور یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ آپ کے جسم کے لیے کیا چیز معمول کے مطابق ہے، تاکہ ’اگر کوئی تبدیلی آئے تو آپ کے اس پر توجہ دینے کے امکانات زیادہ ہوں۔‘

وہ مزید بتاتی ہیں کہ اپنے موبائل فون میں ہر ماہ ایک یاددہانی (ری مائنڈر) لگانا اس بات کا آسان طریقہ ہے کہ چھاتیوں کی جانچ کو اپنی معمول کی عادت کا حصہ بنایا جا سکے۔ تاہم اگر آپ کو ماہواری آتی ہے تو وہ مشورہ دیتی ہیں کہ ’ان دنوں میں چھاتیوں کی جانچ سے گریز کرنا بہتر ہے، کیونکہ اس دوران چھاتیوں کی شکل یا احساس معمول سے کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر پالمر کوئن کے مطابق آپ کو ’آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بازو کبھی اوپر اور کبھی نیچے رکھ کر اپنی چھاتیوں یا سینے کا مشاہدہ کرنا چاہیے، پھر اپنی انگلیوں کے نرم اور ہموار حصے کی مدد سے تمام حصوں کو آہستگی سے محسوس کرنا چاہیے، جس میں ہنسلی (کالر بون) تک کا حصہ اور بغلوں کے اندرونی حصے بھی شامل ہیں۔‘

لورا پرائس چاہتی ہیں کہ خواتین یہ بھی یاد رکھیں کہ ’بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ چھاتی کے کینسر کے لیے لازمی ہے کہ کوئی گلٹی (لمپ) محسوس ہو، لیکن ایسا نہیں ہے۔ اس کی علامات میں غیر معمولی رطوبت کا اخراج، جلد کا سکڑ جانا یا گڑھے پڑ جانا، بغل کے نیچے درد، یا چھاتی میں سرخی اور سوجن بھی شامل ہو سکتی ہے۔‘

ڈاکٹر ہوپر کے مطابق کم عمر خواتین میں چھاتی کے کینسر کے بارے میں گفتگو کے دوران ایک اہم حقیقت اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ حمل کے بعد کچھ عرصے کے لیے چھاتی کے کینسر کا قلیل مدتی خطرہ عارضی طور پر بڑھ جاتا ہے۔ عموماً یہ خطرہ بچے کی پیدائش کے تقریباً پانچ سال کے دوران اپنی بلند ترین سطح پر پہنچتا ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’دودھ پلانے کے دوران چھاتیاں مختلف محسوس ہوتی ہیں اور ان میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر تبدیلیاں دودھ پلانے کے قدرتی حیاتیاتی عمل کا حصہ ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں۔ لیکن اگر آپ کو ایسی علامات ہوں جو ختم نہ ہو رہی ہوں تو یہ نہ سوچیں کہ 'یہ تو صرف اس لیے ہے کہ میرا بچہ پچھلے سال پیدا ہوا تھا' یا 'میں نے ابھی دودھ پلانا بند کیا ہے۔' حمل کے بعد کے عرصے میں خواتین کو چھاتی کے کینسر کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ایسی صورت میں ضرور طبی معائنہ کروانا چاہیے۔‘

لورا پرائس کہتی ہیں کہ چھاتی کے کینسر کو اب بھی اکثر ’بڑی عمر کی خواتین کی بیماری‘ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’ہم میں سے زیادہ سے زیادہ خواتین کی تشخیص 50 سال کی عمر سے پہلے ہو رہی ہے، اور بعض صورتوں میں 30 سال کی عمر سے بھی پہلے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں، ’بدقسمتی سے کم عمر خواتین میں اس بیماری کے نتائج عموماً زیادہ سنگین ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ کینسر کی بروقت تشخیص ہو تاکہ اس کا علاج کیا جا سکے اور مریضہ کو طویل، صحت مند زندگی گزارنے کا بہترین موقع مل سکے۔ لہٰذا ہم جتنا زیادہ ایسا کرنے اور اس عمل کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کر سکیں، اتنا ہی بہتر ہوگا۔‘

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی صحت