افغانستان طویل عرصے تک دنیا میں افیون پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا رہا جبکہ پاکستان کو ان راستوں میں شمار کیا جاتا رہا جن کے ذریعے مختلف اقسام کی منشیات علاقائی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع سرحد گذشتہ کئی دہائیوں سے صرف تجارت، نقل و حرکت اور سیاسی کشیدگی کا موضوع نہیں رہی بلکہ منشیات کی غیر قانونی تجارت کے حوالے سے بھی مسلسل زیرِ بحث رہی ہے۔
افغانستان طویل عرصے تک دنیا میں افیون پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا رہا جبکہ پاکستان کو ان راستوں میں شمار کیا جاتا رہا جن کے ذریعے مختلف اقسام کی منشیات علاقائی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔
تاہم گذشتہ چند برسوں میں اس منظرنامے میں کئی تبدیلیاں آئیں۔ اپریل 2022 میں افغانستان کی طالبان حکومت نے پوست کی کاشت پر پابندی کا اعلان کیا جبکہ اکتوبر 2025 سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سمیت مختلف سرحدی گزرگاہوں پر وقفے وقفے سے بندش اور سخت نگرانی کا سلسلہ جاری رہا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان اقدامات کے باوجود منشیات کی غیر قانونی تجارت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ البتہ اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں اور ضبط ہونے والی منشیات کے اعداد و شمار ایک مختلف کہانی سناتے ہیں۔
انڈیپنڈنٹ اردو کو خیبر پختونخوا ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے نارکوٹکس سیل کے انچارج سب انسپیکٹر کامران علی عظیمی کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مئی 2026 کے دوران صوبے بھر میں منشیات سے متعلق 95 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 81 افراد گرفتار ہوئے۔
اس عرصے میں مجموعی طور پر 2505.447 کلوگرام چرس، 23.745 کلوگرام ہیروئن، 33.7 کلوگرام افیون اور 82.165 کلوگرام آئس ضبط کی گئی۔
صرف جنوری میں 1178.735 کلوگرام چرس برآمد ہوئی جبکہ فروری میں مزید 809.714 کلوگرام چرس ضبط کی گئی۔ مارچ میں 18 کلوگرام ہیروئن پکڑی گئی جبکہ فروری اور اپریل کے دوران افیون کی مجموعی 33.7 کلوگرام مقدار قبضے میں لی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال ضبط ہونے والی منشیات میں سب سے نمایاں اضافہ آئس کی برآمدگی میں دیکھا گیا، جس کی مجموعی مقدار پانچ ماہ میں 82 کلوگرام سے تجاوز کر گئی۔
26 جون 2026 کو منشیات کے استعمال اور غیر قانونی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس سنگین سماجی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے اپنے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا۔
اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان منشیات سے متعلق تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے، جن میں نئی اقسام کی منشیات کا ظہور، غیر قانونی سمگلنگ کے نیٹ ورکس اور بالخصوص نوجوانوں تک منشیات کی رسائی شامل ہیں۔
افغانستان سے پاکستان تک منشیات کا بدلتا منظرنامہ
خطے میں منشیات کا مسئلہ صرف افیون یا ہیروئن تک محدود نہیں رہا۔
افغانستان تاریخی طور پر پوست اور افیون کی پیداوار کے لیے جانا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں آئس یا میتھامفیٹامین نے بھی علاقائی منشیات کی تجارت میں نمایاں جگہ بنائی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں چرس سب سے زیادہ ضبط ہونے والی منشیات میں شامل رہی ہے جبکہ آئس کے استعمال اور ترسیل کے رجحان میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق منشیات کی تجارت کسی ایک ملک یا ایک راستے تک محدود نہیں ہوتی۔ پیداوار ایک جگہ، پراسیسنگ دوسری جگہ اور ترسیل تیسرے ملک کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرحدی پابندیوں کے باوجود منشیات کے نیٹ ورکس متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے اسسٹنٹ کلیکٹر کسٹمز امن صادق نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان افغانستان سرحد پر منشیات کی روک تھام کے لیے مختلف ادارے مشترکہ طور پر کام کرتے ہیں۔
ان کے مطابق سرحدی گزرگاہوں پر نگرانی کے جدید نظام، انٹیلی جنس معلومات اور مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے منشیات سمگل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کی روک تھام صرف سرحدی کراسنگ پوائنٹس تک محدود نہیں بلکہ اندرونِ ملک نگرانی بھی اس کا اہم حصہ ہے۔
تعلیمی اداروں سے چیک پوسٹوں تک
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کارروائیاں صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہیں۔
تعلیمی اداروں کے اطراف کی گئی خصوصی کارروائیوں میں 32 مقدمات درج کیے گئے اور 39 افراد گرفتار ہوئے۔ ان کارروائیوں کے دوران 26.619 کلوگرام چرس، 2.65 کلوگرام ہیروئن، 23.093 کلوگرام آئس اور 349 نشہ آور گولیاں برآمد ہوئیں۔
اسی طرح مشترکہ چیک پوسٹوں پر کی گئی کارروائیوں میں 49 مقدمات درج ہوئے اور 60 افراد گرفتار کیے گئے۔
ان کارروائیوں کے دوران 229.06 کلوگرام چرس، 7.96 کلوگرام ہیروئن، 58.065 کلوگرام آئس اور 1.2 کلوگرام افیون قبضے میں لی گئی۔
اس کے علاوہ 66.15 ملین روپے سے زائد نارکو منی، مختلف غیر ملکی کرنسیاں، اسلحہ، 14.5 کلوگرام چاندی اور دیگر سمگل شدہ اشیا بھی برآمد کی گئیں۔
سرحدی بندشوں، طالبان حکومت کی جانب سے پوست کی کاشت پر پابندی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں نے خطے میں منشیات کے منظرنامے کو ضرور متاثر کیا ہے، تاہم خیبر پختونخوا کے تازہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف سرحد پار ترسیل تک محدود نہیں۔
منشیات کی برآمدگیوں سے لے کر تعلیمی اداروں کے اطراف ہونے والی کارروائیوں تک اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ چیلنج سرحد کے دونوں جانب موجود ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے صرف سرحدی نگرانی ہی نہیں بلکہ مقامی سطح پر بھی مسلسل اقدامات کی ضرورت برقرار ہے۔