کراچی میں 12 جون کی صبح ایک کیش وین سڑک پر معمول کے مطابق روانہ تھی۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اگلے چند منٹوں میں 30 کروڑ روپے ایک ایسے منصوبے کی نذر ہونے والے ہیں، جس کے پیچھے برسوں سے چلنے والا ایک خفیہ نیٹ ورک کھڑا تھا۔
پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے جوہر آباد کی حدود میں پیش آنے والے اس واقعے میں ایک نجی سکیورٹی کمپنی کی کیش وین کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ بینک کی رقم منتقل کر رہی تھی۔ وین میں موجود تقریباً 30 کروڑ روپے مسلح ملزمان نے ایک منظم کارروائی کے ذریعے لوٹ لیے اور موقعے سے فرار ہو گئے۔
23 جون کو اس کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی جب ضلع ویسٹ پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا، جس کی شناخت محمد علی عرف علی لنگڑا کے طور پر ہوئی، جو ایک بین الصوبائی منظم گینگ کا سرغنہ بتایا جا رہا ہے۔
پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر کارروائی کرتے ہوئے اب تک تقریباً 20 کروڑ روپے برآمد کر لیے ہیں جبکہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑیوں سمیت دیگر سامان بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران سکیورٹی کمپنی کی کیش وین کا چیف کریو آپریٹر سکیورٹی گارڈ واجد ولد میرلالا واردات میں ملوث پایا گیا، جو واقعے کے بعد سے فرار ہے اور پولیس کے مطابق ممکنہ طور پر 10 لاکھ روپے بھی اسی کے پاس ہیں۔
اس ڈکیتی کی واردات نے پورے سکیورٹی سسٹم کو ہلا کر رکھ دیا کہ آخر کیش وین سے ڈکیتی کیسے ہوئی؟
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) عرفان بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں اس ڈکیتی واردات کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسے ’کراچی کی اب تک کی سب سے بڑی واردات‘ قرار دیا۔
انہوں نے بتایا: ’یہ کوئی عام واردات نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا منظم اور بین الصوبائی نیٹ ورک تھا جو برسوں سے بڑے مالی اہداف کو نشانہ بنا کر منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائیاں کرتا رہا ہے۔
’یہ گینگ کسی بھی ہدف پر کارروائی سے پہلے تین سے چار ماہ تک مسلسل ریکی کرتا تھا۔ ٹارگٹ کی نقل و حرکت، سکیورٹی روٹس اور وقت کا مکمل جائزہ لیا جاتا تھا اور اس کے بعد ہی واردات کو عملی شکل دی جاتی تھی۔ ان کا بنیادی ہدف ہمیشہ بڑے کیش ٹرانسفرز اور بینک کیش وینز ہوتی تھیں۔‘
12 جون کی صبح تقریباً 9 بجے تھانہ جوہر آباد کے علاقے میں جس کیش وین کو نشانہ بنایا گیا، اس میں تقریباً 30 کروڑ روپے موجود تھے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے ایسی جگہ وین کو روکا جہاں فوری طور پر سکیورٹی یا مدد پہنچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے اور اس منصوبہ بندی کے تحت ڈاکو رقم لوٹ کر فرار ہو گئے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کیش وین کو لوٹنا اتنا آسان ہے؟
ڈی آئی جی عرفان بلوچ کے مطابق یہ کیش وین ایک انتہائی حساس اور پروٹیکٹڈ گاڑی تھی، جس میں باقاعدہ ایس او پیز کے تحت چیف کریو آفیسر، دو گارڈز اور ایک ڈرائیور موجود تھے۔
اصول کے مطابق اس گاڑی کے دروازے بند رہنے چاہییں اور کوئی بھی غیر متعلقہ شخص اس میں مداخلت نہیں کرسکتا۔
تو واردات کیسے کامیاب ہوئی؟
ڈی آئی جی عرفان بلوچ نے اس حوالے سے بتایا: ’جب ہم نے آس پاس کے سی سی ٹی وی کیمروں کا جائزہ لیا تو اس میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ کیش وین کے دروازے کھلے ہوئے تھے جبکہ ڈرائیور بھی موقع پر موجود نہیں تھا۔ اسی دوران ڈاکو آئے تو انہیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ براہِ راست کھلے دروازوں کے ذریعے وین کے اندر داخل ہو گئے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’تفتیش کے دوران کیش وین کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی جو خوش قسمتی سے بند نہیں ہوسکی تھی۔ اس میں چیف کریو آپریٹر واجد، جو اس وین میں بطور ملزم سامنے آیا ہے، واضح طور پر نظر آتا ہے، جو نہ صرف موقع پر موجود تھا بلکہ چابی بھی ڈاکوؤں کے حوالے کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جس سے اس واردات میں اندرونی ملی بھگت کے شواہد مزید مضبوط ہو گئے۔‘
عرفان بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ یہ گروہ صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل بین الصوبائی نیٹ ورک ہے، جو مختلف شہروں میں وارداتیں کرتا رہا ہے اور تحقیقات کے مطابق انہوں نے کوئٹہ اور پشاور سمیت متعدد شہروں میں بھی اسی نوعیت کی وارداتیں کی ہیں، جبکہ کراچی میں بھی ان کے کئی کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
ملزمان کا سکیورٹی سسٹم میں داخل ہونے کا طریقہ کار
ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق: ’محمد علی عرف علی لنگڑا کا یہ گروہ واردات سے پہلے سکیورٹی نظام میں اپنے افراد شامل کرتا تھا۔ خاص طور پر بینکوں اور کیش ہینڈلنگ سے وابستہ پرائیویٹ سکیورٹی اہلکاروں میں اپنے بندے بھرتی کیے جاتے تھے، جن سے اندرونی معلومات حاصل کی جاتیں اور پھر مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ واردات کو عملی جامہ پہنایا جاتا۔
عرفان بلوچ کے مطابق: ’اس خاص کیس میں بھی کیش وین کا چیف کریو آپریٹر واجد اس نیٹ ورک کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ وہ وین کی نگرانی اور آپریشن کا ذمہ دار تھا اور اسی کے ذریعے ملزمان کو اندرونی معلومات فراہم کی گئیں، جس کے بعد واردات کوانجام دیا گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ گینگ فلم سے متاثر ہو کر ڈکیتی نہیں کرتا تھا بلکہ اس طرح کی پروفیشنل ڈکیتیاں دیکھ کر فلمیں بنتی ہیں، لیکن انجام ان کا برا ہی ہوتا ہے، یا تو یہ گرفتار ہو جاتے ہیں یا مارے جاتے ہیں۔‘
مرکزی ملزم کا شاہانہ لائف سٹائل اور طویل مجرمانہ سرگرمیاں
ڈی آئی جی عرفان بلوچ نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے مرکزی گینگ لیڈر محمد علی عرف لنگڑا کی تین شادیاں ہیں اور کراچی میں اس کے تین سے چار بنگلے بھی موجود ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ ’وہ ایک ایسی شاہانہ اور پرتعیش زندگی گزار رہا تھا جیسے وہ کسی ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتا ہو۔ وہ بظاہر گذشتہ 10 سے 12 سال سے اسی نوعیت کی منظم اور پیشہ ور ڈکیتیوں میں ملوث رہا ہے۔‘
دوسری جانب ڈی آئی جی کے مطابق: ’واجد، جو سکیورٹی کمپنی میں ملازم اور اس کیش وین کا چیف کریو آپریٹر بھی تھا، کا تعلق پاراچنار سے ہے۔ اس واردات میں حاصل ہونے والی رقم کے استعمال اور اس کی ممکنہ منتقلی کے مختلف پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیایہ رقم کسی غیر قانونی مالی سرگرمی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے یا نہیں۔‘
ابتدائی معلومات کے مطابق تقریباً 10 کروڑ روپے واجد اور اس کی ٹیم کے پاس موجود تھے، جو موقع ملتے ہی رقم لےکر فرار ہو گئے۔
عرفان بلوچ کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات میں دو اہم پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جن میں سب سے پہلے یہ شامل ہے کہ آیا لوٹی گئی رقم کسی غیر قانونی مالیاتی سرگرمی یا منی ٹریل کے ذریعے منتقل یا استعمال کی جارہی ہیں۔
’دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اس گروہ کو قانونی سطح پر کون لوگ معاونت فراہم کرتے ہیں۔ اس بات کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے کہ گرفتار افراد کو عدالتوں میں ضمانتیں کیسے ملتی ہیں، کون ان کے لیے سکیورٹی یا یقین دہانی فراہم کرتا ہے، کون وکالت اور قانونی مشاورت کا انتظام کرتا ہے اور آیا کسی منظم طریقے سے ان کے کیسز کو سہولت فراہم کی جاتی ہے یا نہیں۔‘
ڈی آئی جی عرفان بلوچ کے مطابق: ’یہ تمام پہلو تفتیش کا حصہ ہیں تاکہ اس پورے نیٹ ورک کی مکمل ساخت اور معاونت کے نظام کو بے نقاب کیا جا سکے۔‘