ماہرین کے مطابق منشیات کی تجارت کسی ایک ملک یا ایک راستے تک محدود نہیں ہوتی۔ پیداوار ایک جگہ، پراسیسنگ دوسری جگہ اور ترسیل تیسرے ملک کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرحدی پابندیوں کے باوجود منشیات کےنیٹ ورکس متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ملک میں منشیات سے منسلک جرائم کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویش ناک ہے اور حکومت ان کے سد باب کے لیے پر عزم ہے۔‘