وینزویلا میں زلزلے سے 235 اموات، ہزاروں لاپتہ

وینزویلا میں یکے بعد دیگے دو طاقت ور زلزلوں کے باعث کم از کم 4300 افراد زخمی، متعدد ممالک کی امداد کی پیشکش۔

25 جون، 2026 کو کاتیا لامار میں زلزلے کے بعد شدید متاثرہ رہائشی اپارٹمنٹ عمارت نظر آ رہی ہے (اے ایف پی)

وینزویلا میں جمعرات کو لوگ منہدم عمارتوں کے ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف رہے جبکہ امدادی ٹیمیں ملک کے شمالی علاقوں کی جانب روانہ ہو گئیں، جہاں دو طاقت ور زلزلوں نے تباہی مچا دی ہے۔

حکام کے مطابق ان زلزلوں میں تقریباً 235 افراد مارے گئے اور کم از کم 4,300 زخمی ہوئے ہیں۔

وزیر صحت کارلوس الواراڈو نے سرکاری میڈیا کو بتایا ’بدقسمتی سے ہمارے پاس تقریباً 235 ایسے افراد لائے گئے جو یا تو پہلے ہی دم توڑ چکے تھے یا صحت کے مراکز پہنچنے پر انتقال کر گئے۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ اموات اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ ہزاروں افراد لاپتہ ہیں۔

بدھ کی شام آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلے ایک صدی سے زائد عرصے میں وینزویلا کے طاقت ور ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، جن کے جھٹکے پورے خطے میں محسوس کیے گئے۔

ہزاروں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ برازیل کے ایمزون کے دور دراز علاقوں تک عمارتیں خالی کرا لی گئیں۔

تباہی کے پیش نظر امریکہ کے محکمہ خزانہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ 23 اکتوبر تک بعض پابندیوں میں نرمی کرے گا تاکہ وینزویلا میں زلزلہ متاثرین کی امدادی سرگرمیوں سے متعلق مالی لین دین ممکن ہو سکے، جو بصورت دیگر پابندیوں کی زد میں آتا۔

ادھر شمالی وینزویلا کے مختلف شہروں میں خوف زدہ شہری گھروں سے نکل آئے اور ملبے میں لاپتہ افراد کی تلاش شروع کر دی۔

ملبے سے زخمی افراد کو گرد و غبار اور خون میں لت پت حالت میں نکالا گیا، جن میں بچے اور جانور بھی شامل تھے۔

سرکاری ٹی وی پر امدادی کارروائیوں کی دل دہلا دینے والی تصاویر نشر کی گئیں، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی جو سیمنٹ کی بھاری سل کے نیچے دبی ہوئی تھی اور صرف اس کا پاؤں باہر نظر آ رہا تھا۔

امدادی کارکن بالآخر اسے زندہ نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم دارالحکومت کاراکاس سے باہر حکومتی امدادی ٹیمیں بہت کم دکھائی دیں۔

دارالحکومت میں تین بچوں کی والدہ دیانا ڈیلگاڈو نے سوال کیا کہ حکومت کی جانب سے وعدہ کی گئی بھاری مشینری کہاں ہے کیونکہ ملبہ ہٹانے کا کام مقامی لوگ خود کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ’میں جاننا چاہتی ہوں کہ میرا بچہ کہاں ہے، آیا وہ ملبے تلے پھنسا ہوا ہے یا کسی پناہ گاہ میں موجود ہے۔‘ ان کا آٹھ سالہ بیٹا لاپتہ ہے۔

ایک ماں اپنے تین اور 10 سالہ بچوں کی لاشیں کمبل میں لپٹی ہوئی دیکھ کر زار و قطار رونے لگی اور غم سے نڈھال ہو کر گر پڑی جبکہ دیگر افراد اپنے لاپتہ عزیزوں کے نام پکار رہے تھے۔

کچھ لوگ شدید صدمے کے عالم میں خاموش کھڑے تھے۔ دارالحکومت کاراکاس کے شمال میں واقع ساحلی علاقے لا گوائرا میں سب سے زیادہ تباہی اور جانی نقصان ہوا۔

ملک کا مرکزی ہوائی اڈہ بھی یہیں واقع ہے، جسے نقصان پہنچنے کے باعث بند کر دیا گیا، جس سے امدادی کارروائیوں میں مزید مشکلات پیدا ہوئیں۔

ریٹائرڈ استاد خوان البرٹو مینڈانیو لا گوائرا میں ملبے کے درمیان سے گزر رہے تھے کہ ایک لاش کے قریب انہیں ایک خاتون نظر آئی جو ملبے تلے دبی ہوئی ہاتھ ہلا کر مدد کی اپیل کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا ’خدا کرے اسے جلد از جلد بچا لیا جائے۔ جب ہم نے اس کی چیخ سنی تو ہمارے بس میں کچھ نہیں تھا۔‘

دنیا بھر سے امداد اور ضروری سامان بھیجنے کی پیشکشیں موصول ہونا شروع ہو گئیں، جن میں امریکہ بھی شامل ہے۔

یہ قدرتی آفت قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کے لیے ایک اور بڑا امتحان ہے، جنہوں نے جنوری میں صدر مادورو کی امریکہ کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔

وینزویلا ایک دہائی سے زائد عرصے سے شدید معاشی بحران کا شکار ہے جبکہ بہت سے لوگ روڈریگیز کی نمائندگی کرنے والی سیاسی تحریک کو جائز نہیں سمجھتے۔

امدادی ٹیمیں شدید متاثرہ ساحلی علاقے کی جانب روانہ

وینزویلا کے حکام نے بتایا کہ ملک کے دیگر حصوں سے امدادی ٹیموں کو لا گوائرا بھیجا جا رہا ہے۔ یہ علاقہ قدرتی آفات سے ناواقف نہیں کیونکہ 1999 میں یہاں آنے والے مٹی کے تودے کے باعث ہزاروں افراد مارے گئے تھے، جسے ملک کی بدترین قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔

روڈریگیز نے کاروباری اداروں سے اپیل کی کہ وہ امدادی کارروائیوں کے لیے بھاری تعمیراتی مشینری فراہم کریں۔

انہوں نے کہا ’ہم امید کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ زندہ افراد کو بچایا جا سکے گا۔‘ انہوں نے لا گوائرا کو ’آفت زدہ علاقہ‘ قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈومینیکن رپبلک سے امدادی کارکنوں کا پہلا دستہ پہنچنے والا ہے جبکہ دیگر ممالک سے مزید ٹیموں کی آمد متوقع ہے۔

اگرچہ وینزویلا کئی فالٹ لائنز کے قریب واقع ہے، تاہم جنوبی امریکہ اور کیریبین پلیٹوں کے سنگم پر اس کی جغرافیائی پوزیشن کے باوجود یہاں لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک کی نسبت شدید زلزلے کم آتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق پہلا 7.2 شدت کا زلزلہ بحیرہ کیریبین کے ساحل پر مورون شہر کے مغرب میں، کاراکاس سے تقریباً 170 کلومیٹر دور آیا۔

اس کی گہرائی 22 کلومیٹر تھی۔ صرف ایک منٹ بعد 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز مورون سے 16 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا۔

برازیل کے جیولوجیکل سروے سے وابستہ ماہر ارضیات مارکوس فریرا کے مطابق دونوں زلزلوں کا یکے بعد دیگرے آنا اور ان کی کم گہرائی تباہی میں اضافے کا باعث بنی۔

انہوں نے کہا ’یہ ایسا ہے جیسے میں چیخ رہا ہوں اور پھر اچانک کوئی دوسرا بھی چیخنا شروع کر دے۔ اس سے ارتعاش بڑھ جاتا ہے اور خطرہ بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔‘

متعدد ممالک کی جانب سے امداد کی پیشکش

روڈریگیز نے بدھ کی شب قوم سے خطاب میں ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ تباہ شدہ ہسپتالوں اور گھروں کی تعمیر نو کے لیے 20 کروڑ ڈالر کا خصوصی فنڈ قائم کیا جا رہا ہے۔

میکسیکو، قطر، برازیل، سپین، پرتگال اور کینیڈا کے رہنماؤں نے امداد بھیجنے کا اعلان کیا جبکہ کئی امدادی کھیپیں جمعرات ہی کو روانہ کر دی گئیں۔

امداد میں ریسکیو اور فوجی اہلکار، تربیت یافتہ کتوں پر مشتمل سرچ ٹیمیں، طبی سامان، پانی صاف کرنے کے آلات، طیارے اور ڈرون شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے، جنہوں نے زلزلے کے بعد روڈریگیز سے بات کی، کہا امریکہ فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں، طبی وسائل اور دیگر امداد بھیج رہا ہے۔

تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ وینزویلا کے مرکزی ہوائی اڈے کی بندش سے لاجسٹک مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

روبیو نے کہا ’ہماری پوری حکومت اس امدادی کارروائی میں شریک ہے۔ یہ امداد بڑے پیمانے پر، فوری اور مؤثر انداز میں فراہم کی جائے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا