وینزویلا میں شدید زلزلوں سے 32 اموات، پاکستان کا اظہار افسوس

7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلوں کے اثرات برازیل اور کولمبیا میں بھی محسوس کیے گئے۔ یہ ایک صدی سے زیادہ عرصے میں وینزویلا میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں میں سے ہیں۔

24 جون، 2026 کو وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں آنے والے زلزلے کے بعد امدادی کارکن ایک منہدم عمارت سے ایک شخص کو محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان نے وینزویلا میں بدھ کی شام آنے والے طاقت ور اور یکے بعد دیگرے زلزلوں پر اظہار افسوس کیا ہے۔

ان زلزلوں میں کم از کم 32 افراد جان سے گئے اور کم از کم 700 زخمی ہو گئے، جس کی تصدیق ملک کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے بھی کی۔

روڈریگیز نے خبردار کیا کہ اموات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ ریسکیو ٹیمیں منہدم عمارتوں میں تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایمرجنسی عملہ تباہ شدہ علاقوں تک پہنچ رہا ہے۔

7.2 اور 7.5 شدت کے یہ زلزلے شام چھ بجے کے کچھ دیر بعد آئے۔

امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق زلزلوں کا مرکز مورون نامی قصبے کے مغرب میں تھا، جو ملک کے کیریبین ساحل پر واقع ہے اور کاراکاس سے تقریباً 168 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ زلزلے کی گہرائی 22 کلومیٹر تھی۔

یو ایس جی ایس کے مطابق 7.2 شدت کے زلزلے کے صرف ایک منٹ بعد 7.5 شدت کا ایک اور زیادہ طاقت ور زلزلہ آیا۔

دوسرے زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز مورون سے 16 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ’پاکستان کے عوام کی جانب سے میں وینزویلا کی حکومت اور عوام، خصوصاً متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔

’ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں اور اس مشکل اور کٹھن وقت میں متاثرہ تمام افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔‘

ہنگامی حالت نافذ

روڈریگیز نے بدھ کی رات قوم سے خطاب میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا زلزلوں سے کئی ریاستوں میں نقصان ہوا۔

جمعرات کی صبح جاری کیے گئے اعداد و شمار میں ریاست لا گوائرا کو شامل نہیں کیا گیا، جسے روڈریگیز نے ’تباہی زدہ‘ اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا ’دارالحکومت کاراکاس سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں واقع اس علاقے میں درجنوں عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں اور ہم اس وقت جانیں بچانے کے لیے بھرپور ریسکیو آپریشن کر رہے ہیں۔‘

ان زلزلوں نے، جو ایک صدی سے زائد عرصے میں وینزویلا میں آنے والے طاقت ور ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔

کئی شہروں میں عمارتیں خالی کروا لی گئیں جبکہ اس کے اثرات برازیل کے ایمزون کے علاقوں تک محسوس کیے گئے جو کاراکاس سے تقریباً 1700 کلومیٹر دور ہیں۔

روڈریگیز نے مزید کہا کہ کاراکاس میں میٹرو اور قدرتی گیس کی خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے وینزویلا کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ حکومتی ایپ کے ذریعے نقصانات کی اطلاع دیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو نے کہا کہ کاراکاس کے علاقے الٹامیرا میں گھروں اور عمارتوں کے منہدم ہونے کے باعث ’تشویش ناک صورت حال‘ پیدا ہو گئی ہے۔

کئی افراد شدید صدمے کی حالت میں تھے کیونکہ عمارتوں کی پوری دیواریں گر چکی تھیں اور سڑک سے گھروں کا فرنیچر دکھائی دے رہا تھا۔

’ہم سب کو اپنے گھروں سے نکلنا پڑا‘

سورج غروب ہونے کے بعد بھی لوگ کئی گھنٹوں تک سڑکوں پر موجود رہے۔ بعض لوگ اپنے پالتو جانوروں کو گلے لگائے زمین پر بیٹھے رہے۔

منہدم عمارتوں، گرے ہوئے بجلی کے کھمبوں اور ملبے نے سڑکیں بند کر دیں۔ دارالحکومت کے بعض علاقوں میں بجلی اور موبائل فون سگنل بھی معطل ہو گئے۔

کاراکاس کے رہائشی ہیکٹر رِچی نے کہا ’پہلے ہلکے جھٹکے محسوس ہوئے، پھر شدت آہستہ آہستہ بڑھتی گئی اور آخرکار ہم سب کو اپنے گھروں سے نکل کر باہر آنا اور ایک جگہ جمع ہونا پڑا۔‘

ایک اور رہائشی روبرٹو گاماس نے کہا ’عمارت واقعی ایک طرف سے دوسری طرف ہل رہی تھی۔ یہ ناقابلِ یقین تھا۔ زلزلے کی شدت بہت زیادہ تھی۔

’ہم چل رہے تھے اور جھٹکے ہمیں ادھر اُدھر پھینک رہے تھے۔ اپارٹمنٹ کے اندر ہر چیز گر گئی۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔‘

وینزویلا کے بعض حصوں میں موبائل فون سگنل کی عدم دستیابی نے بہت سے خاندانوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا، خاص طور پر ان خاندانوں کی، جن کے افراد ان 77 لاکھ سے زائد لوگوں میں شامل ہیں جو ملک کے طویل بحران کے دوران وینزویلا چھوڑ چکے ہیں۔

دسمبر میں وینزویلا چھوڑنے کے بعد جلاوطنی اختیار کرنے والی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے وینزویلا کے عوام کے لیے دعا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

انہوں نے ایکس پر لکھا ’اس مشکل وقت میں ہمارے درمیان طاقت، سکون اور یکجہتی قائم رہے۔‘

وینزویلا سے اظہارِ یکجہتی

وینزویلا میں آنے والے شدید زلزلوں کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر فوری ردعمل سامنے آیا اور امریکہ، چلی اور ایل سلواڈور سمیت مختلف حکومتوں نے مدد کی پیشکش کی۔

امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے ایکس پر کہا ’امریکہ آج شام آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

’ہم حکام سے رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیوں کو متحرک کر رہے ہیں۔‘

ایل سلواڈور کے صدر نایب بوکیلے نے، جو ماضی میں وینزویلا کی حکومت کے سخت مخالف رہے ہیں، بدھ کی رات ایکس پر جاری بیان میں امداد کی پیشکش کی۔

انہوں نے لکھا ’ہم اپنی مکمل یکجہتی اور دعائیں آپ کے ساتھ بھیجتے ہیں۔ مضبوط رہیں، وینزویلا۔‘

ایکواڈور کے صدر ڈینیئل نوبوا نے وینزویلا کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا انہوں نے ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوری انسانی امداد بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے لکھا ’ایکواڈور اس وقت کے تقاضوں کے مطابق تیزی اور عزم کے ساتھ ردعمل دے گا کیونکہ ہمارے اختلافات کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، انسانیت کو ہمیشہ ایک رہنما کے اقدامات کی رہنمائی کرنی چاہیے۔‘

زلزلے کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے گئے

زلزلے کے جھٹکے کولمبیا کے کیریبین اور شمال مشرقی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، تاہم وہاں کسی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر نے زلزلوں کے بعد سونامی سے متعلق کئی انتباہ جاری کیے، جنہیں بعد میں واپس لے لیا گیا۔

وینزویلا میں شدید زلزلے غیر معمولی سمجھے جاتے ہیں۔

اگرچہ وینزویلا کئی فالٹ لائنوں کے قریب واقع ہے، تاہم جنوبی امریکی اور کیریبین ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان اس کی جغرافیائی پوزیشن کے باعث یہاں لاطینی امریکہ کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زلزلے کم آتے ہیں۔

بحرالکاہل کے ساحلی علاقوں مثلاً میکسیکو اور چلی میں زلزلے کثرت سے آتے ہیں۔

یہ دونوں ممالک ’رِنگ آف فائر‘ کہلانے والی زلزلہ خیز ٹیکٹونک پٹی پر واقع ہیں، جو امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق دنیا کے 90 فیصد زلزلوں کی ذمہ دار ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا