ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضایی نے ایران اور پاکستان کو ایک دوسرے کا ’سٹریٹجک سہارا‘ قرار دیتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور بڑے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔
محسن رضایی نے یہ گفتگو بدھ کو تہران میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ایک ملاقات کے دوران کہی، جو ان دنوں ایران کے دورے پر ہیں۔ ان کا یہ دورہ امریکہ اور ایران میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ہوا، جس میں پاکستان بطور ثالث کردار ادا کر رہا ہے۔
اسلام آباد کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ ایران بنیادی طور پر امن کی کوششوں کے تناظر میں تھا اور اس کا ایک مقصد پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین سات اگست 2026 کو ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ایرانی قیادت کو اعتماد میں لینا تھا۔
ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق محسن رضایی نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات میں پاکستان کی حکومت، فوج اور عوام کو ’مسلم دنیا کا عظیم اثاثہ‘ قرار دیا اور علاقائی پیش رفت میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بڑھتے ہوئے کردار اور سرگرمیوں کا خیرمقدم کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ ایران، پاکستان، ترکی، سعودی عرب، مصر اور انڈونیشیا جیسے بڑے مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم دنیا میں مزید اتحاد کے حصول کے لیے کام کریں۔
محسن رضایی نے دوطرفہ تعلقات کی سٹریٹجک نوعیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام عہدیدار پاکستان کو ایران کی سٹریٹجک سپورٹ اور ایران کو پاکستان کی سٹریٹجک سپورٹ سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے بہترین رہے ہیں لیکن گذشتہ چند ماہ کے دوران یہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا: ’ہم تعلقات کو اس سطح پر دیکھ رہے ہیں جو اس سے پہلے موجود نہیں تھی۔‘
پاکستانی وزیر داخلہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ دنوں میں ایران کے کئی دورے کیے ہیں جبکہ تہران سے بھی عہدیدار پاکستان آئے ہیں۔
ان دوروں کا بنیادی مقصد 28 فروری سے جاری امریکہ اور جنگ میں ثالثی کی کوشش ہے، جس نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔