ایران-امریکہ معاہدہ اسرائیل کے لیے خطرہ کیوں؟

جیسے جیسے مذاکرات جاری ہیں، نتن یاہو واقعی ایک ایسے معاہدے کو پٹری سے اتارنے کے لیے اپنا ہر کارڈ کھیل سکتے ہیں جسے وہ اسرائیل کے مفادات کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔

آسٹریلیا میں ایرانی کمیونٹی کے ایک رکن نے 14 مارچ 2026 کو سڈنی میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایک ریلی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کی تصاویر والا پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے (سعید خان / اے ایف پی)

جیسے جیسے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششیں دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی ہیں، ایک بات واضح ہوتی جا رہی ہے: اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو، امریکہ-ایران کے درمیان ایک کامیاب معاہدے کے امکان کو کسی سفارتی کامیابی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک سٹریٹجک دھچکے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

کئی برسوں سے نتن یاہو نے اپنے علاقائی اور بین الاقوامی ایجنڈے کا ایک بڑا حصہ ایران کو ایک ایسے وجودی خطرے کے طور پر پیش کرنے کے گرد بُنا ہے جسے صرف دباؤ، تنہائی اور فوجی طاقت کی مسلسل دھمکی کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان پیش رفت پر مبنی معاہدہ اس بیانیے کو چیلنج کرے گا۔

یہ اس بات کو ثابت کرے گا کہ سفارت کاری، خواہ وہ کتنی ہی نامکمل کیوں نہ ہو، وہ کچھ حاصل کر سکتی ہے جو برسوں کی محاذ آرائی نہ کر سکی: یعنی تناؤ کو کم کرنا، رابطے کے ذرائع کھولنا اور ایک وسیع تر علاقائی جنگ کے خطرے کو ٹالنا۔

یہی وجہ ہے کہ نتن یاہو سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جاری مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آنے والے کسی بھی معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے اپنے اختیار میں موجود ہر سیاسی، سفارتی اور میڈیا کے ہتھیار کا استعمال کریں گے۔

ان کا مقصد محض معاہدے کی شقوں پر تنقید کرنا نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مقصد اس معاہدے کو سرے سے جڑ پکڑنے سے روکنا اور فریقین کو دوبارہ بدامنی اور محاذ آرائی کے اسی چکر میں دھکیلنا ہے، جس نے دہائیوں سے ان کے تعلقات کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔

اس ’اسرائیلی جنگجو‘ (Warmonger) کی تہران کے ساتھ سفارتی روابط کی مخالفت کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ عوامی تقریروں اور لابی مہمات سے لے کر امریکی قانون سازوں سے براہِ راست اپیلوں تک، نتن یاہو نے مسلسل ان مذاکرات کی مخالفت کی ہے جو ایران اور مغرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لا سکتے ہیں۔

ان کا حساب کتاب بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوا: ایران کے ساتھ مستقل محاذ آرائی کی حالت اسرائیل کی تزویراتی (سٹریٹجک) پوزیشن کو مضبوط کرتی ہے اور بین الاقوامی توجہ کو دیگر اہم علاقائی مسائل کی بجائے تہران پر مرکوز رکھتی ہے۔

نتن یاہو سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے اپنے پاس موجود ہر سیاسی، سفارتی اور میڈیا کا ہتھیار استعمال کریں گے۔ ان کے نقطہِ نظر سے امریکہ-ایران معاہدے کی کامیابی دو حصوں پر مشتمل ایک سیاسی شکست ہوگی۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

اس شکست کا پہلا حصہ خود معاہدہ ہوگا۔ کوئی بھی ایسی افہام و تفہیم جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان دشمنی کو کم کرتی ہے، اس دلیل کو کمزور کرتی ہے کہ فوجی دباؤ ہی واحد قابلِ عمل آپشن ہے۔ یہ ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی اسرائیل کی صلاحیت کو بھی محدود کرتی ہے۔

یہ ایک وسیع تر علاقائی محاذ آرائی کے امکان کو کم کرتی ہے—ایک ایسا منظرنامہ جسے اسرائیل کے سیاسی حلقوں میں کچھ لوگ طویل عرصے سے تزویراتی طور پر فائدہ مند سمجھتے آئے ہیں۔

شکست کا دوسرا حصہ ان رپورٹوں میں پنہاں ہے جن کے مطابق لبنان میں کشیدگی کو روکنے کے لیے واشنگٹن کی کوششیں، تہران کے ساتھ افہام و تفہیم کے ایک وسیع تر فریم ورک کا حصہ بن چکی ہیں۔ اگر امریکہ فوجی آپریشنز کو محدود کرنے اور لبنانی محاذ پر ایک وسیع تر جنگ کو روکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو اس سے فوجی کشیدگی کے ذریعے علاقائی صورت حال کو اپنے حق میں موڑنے کی اسرائیل کی صلاحیت مزید کم ہو جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نتن یاہو کے لیے یہ صورت حال خاصی مایوس کن ہو سکتی ہے۔ لبنان میں فوجی دباؤ کے تسلسل کو اکثر دفاعی ساکھ بحال کرنے اور سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے ضروری قرار دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم، تنازع کے دائرے کو محدود کرنے کے مقصد سے کی جانے والی امریکی مداخلت یہ ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن فوجی مہمات کی توسیع کی بجائے علاقائی استحکام کو تیزی سے ترجیح دے رہا ہے۔

یہ ابھرتی ہوئی حقیقت نتن یاہو کو ایک مشکل پوزیشن میں لا کھڑا کرتی ہے۔ وہ خود کو نہ صرف ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سامنے پاتے ہیں بلکہ ایک ایسی امریکی انتظامیہ کے سامنے بھی پاتے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طویل تنازع کو روکنے میں تیزی سے دلچسپی لیتی دکھائی دے رہی ہے۔

اگرچہ واشنگٹن اور تہران اپنے تمام اختلافات کو حل کرنے سے ابھی بہت دور ہیں، لیکن دونوں فریق مسلسل کشیدگی کے بھاری نقصانات کو تسلیم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

وسیع تر خطہ یقیناً ان نقصانات کو بخوبی سمجھتا ہے۔ خلیجی ممالک نے، کئی دوسرے عرب ممالک کے ساتھ مل کر، فوجی محاذ آرائی کے بجائے سفارتی حل کے لیے بارہا حمایت کا اظہار کیا ہے۔ ان کی معیشتیں، سکیورٹی مفادات اور ترقیاتی ایجنڈے مستقل بحران کے بجائے استحکام پر منحصر ہیں۔

انہیں علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان کی اس جنگ میں سائیڈ ہیرو یا ’اضافی نقصان‘ (Collateral Damage) بننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ سفارت کاری کو کمال کے کسی ناممکن معیار پر نہیں پرکھا جانا چاہیے۔ اسے اس کے متبادل کے مقابلے میں پرکھا جانا چاہیے۔

یہی وجہ ہے کہ سفارت کاری کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں خطے میں موجود ہر شخص کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہییں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی دہائیوں کے تنازعات، پراکسی جنگوں اور سیاسی محاذ آرائیوں کی ایک غیر معمولی قیمت ادا کر چکا ہے۔ بات چیت کا ہر ضائع ہونے والا موقع بالآخر مزید عدم استحکام، مزید تباہی اور مزید غیر یقینی صورت حال کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے۔

ان میں سے کوئی بھی بات یہ تجویز نہیں کرتی کہ امریکہ-ایران معاہدہ بالکل پرفیکٹ یا مثالی ہوگا۔ کوئی بھی معاہدہ کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ گہرے اختلافات برقرار رہیں گے اور نفاذ کو بلاشبہ چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے باوجود، سفارت کاری کو کمال کے کسی ناممکن معیار پر نہیں پرکھا جانا چاہیے۔ اسے اس کے متبادل کے مقابلے میں پرکھا جانا چاہیے۔

اور متبادل بالکل واضح ہے: نئی محاذ آرائی، پھیلتے ہوئے فوجی آپریشنز، زیادہ علاقائی پولرائزیشن (دھڑے بندی) اور ایک ایسے تنازع کا ہمیشہ موجود رہنے والا خطرہ جو متعدد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

جیسے جیسے مذاکرات جاری ہیں، نتن یاہو واقعی ایک ایسے معاہدے کو پٹری سے اتارنے کے لیے اپنا ہر کارڈ کھیل سکتے ہیں جسے وہ اسرائیل کے مفادات کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ وہ سیاسی اتحادیوں کو متحرک کرنے، خوف کو ہوا دینے اور ایسے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جن کا مقصد اس عمل کو دوبارہ نقطہ آغاز (زیرو) پر لانا ہو۔

تاہم، اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ خطہ سفارت کاری کے مخالفین کو ایک بار پھر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے؟

مشرقِ وسطیٰ اس وقت کشیدگی اور مصالحت کے درمیان ایک چوراہے پر کھڑا ہے۔ مستقل محاذ آرائی کے حامی سمجھوتے کی مزاحمت جاری رکھیں گے، لیکن تنازعات سے تھکے ہوئے خطے کے لیے، سفارت کاری کی کامیابی—خواہ وہ کتنی ہی نامکمل کیوں نہ ہو—جنگوں کی ایک اور نسل کا سامنا کرنے کے بجائے کہیں زیادہ امید افزا راستہ پیش کرتی ہے۔

اگر بالآخر کوئی حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو اس کی سب سے بڑی کامیابی وہ نہیں ہوگی جو کاغذ پر لکھی ہوگی۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ثابت کرنا ہو سکتی ہے کہ بات چیت اب بھی ان لوگوں پر غالب آ سکتی ہے جو لامتناہی بحرانوں سے سیاسی فائدہ اٹھاتے ہیں۔

هانى هزايمه عمان میں مقیم ایک سینیئر ایڈیٹر ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ