کراچی شاپنگ مال آتشزدگی: 6 افراد جان سے گئے، 59 لاپتہ

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اتوار کو  بتایا تھا کہ کراچی کے ایک بڑے شاپنگ پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے میں اب تک کے ایم سی کے فائر فائٹر سمیت چھ لوگ جان سے جا چکے ہیں جبکہ کم از کم 58 افراد بدستور لاپتہ ہیں۔

کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے میں ۶ افراد جان سے چلے گئے ہیں جبکہ متعدد زخمی بتاےئ جاتے ہیں۔  

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اتوار کو  بتایا تھا کہ کراچی کے ایک بڑے شاپنگ پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے میں اب تک کے ایم سی کے فائر فائٹر سمیت چھ لوگ جان سے جا چکے ہیں جبکہ کم از کم 58 افراد بدستور لاپتہ ہیں۔

شہر کے چیف ریسکیو آفیسر ڈاکٹر عابد جلال شیخ کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتش زدگی ہفتے کی رات دیر گئے لگی جو تیزی سے پھیل گئی۔
 
پلازہ میں تقریباً 1200 دکانوں میں سے زیادہ تر کاسمیٹکس، کپڑے اور پلاسٹک کے سامان کی تھیں۔
 
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 75 فیصد آگ بجھا دی گئی ہے، لیکن عملے کو اسے مکمل طور پر قابو پانے کے لیے مزید چار سے چھ گھنٹے درکار ہیں۔ 
 
چار منزلہ عمارت اور اس کے بیسمنٹ سے پانچ لاشیں برآمد ہوئیں۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ ایک فائر فائٹر بالائی منزلوں پر آگ بجھانے کی کوشش کے دوران جان سے گیا۔ 
 
آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ اتوار کی شام وزیر اعلیٰ نے شہر کے گنجان آباد علاقے میں واقع آگ سے متاثرہ گل پلازہ کا دورہ کیا۔
 
انہوں نے موقعے پر موجود میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ کل رات 10 بجے کے بعد آگ لگنے کی اطلاع موصول ہونے پر میونسپل اتھارٹیز نے فوری رسپانس کیا اور مجھے بھی اطلاع دی۔
 
انہوں نے مزید بتایا کہ 10 بج کر 27 منٹ پر یہاں پہلا فائر ٹینڈر پہنچا اور فوراً ہی آگ بجھانے کی کارروائی شروع کر دی گئی۔
 
مراد علی شاہ کے مطابق آگ بجھانے میں تقریباً 26 فائر ٹینڈرز، چار سنارکل اور 10 باؤزر نے حصہ لیا۔
 
’کے ایم سی کے علاوہ پاکستان نیوی نے بھی اپنا ایک سنارکل دیا جبکہ  سول ایوی ایشن اتھارٹی سے بھی تین آگ بجھانے کی مشینیں آئیں۔‘
 
وزیراعلیٰ کے مطابق اب تکی معلومات کے مطابق چھ افراد جان سے گئے جبکہ 22 زخمیوں کا ہسپتال میں علاج جاری ہے۔ ’افسوس کی بات یہ ہے کہ 58 یا 60 سے بھی زائد افراد لاپتہ ہیں۔‘
 
ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’آگ تیسرے درجے کی تھی، جو ابتدا میں پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر لگی اور تیزی سے پھیلتے ہوئے دوسری اور تیسری منزل تک جا پہنچی۔
 
’تاہم آگ لگنے کی وجوہات کا تعین تاحال نہیں ہو سکا۔‘

حسان خان کے مطابق آگ کی شدت کے باعث عمارت کا پچھلا حصہ منہدم ہو گیا، جس کے بعد پلازہ کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے سیل کر دیا گیا کیونکہ کسی بھی وقت مزید حصہ گرنے کا خدشہ ہے۔‘

ترجمان ریسکیو 1122 نے عمارت کے ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گل پلازہ ایک پرانی اور چاروں اطراف سے گھری ہوئی عمارت تھی، جس کے باعث ریسکیو کارروائی میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بتایا کہ ’ابتدائی معلومات کے مطابق پلازہ میں ایمرجنسی ایگزٹ کا مناسب نظام موجود نہیں تھا اور گراؤنڈ فلور پر کچھ کیمیکل بھی رکھے گئے تھے۔‘

مختلف مقامات سے اہل خانہ اپنوں کی تلاش کے لیے ایم اے جناح روڈ پہنچ رہے ہیں۔

جائے حادثہ پر موجود متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں آخری فون کال آگ لگنے کی آئی تھی اور اب تک انہیں اپنوں کی کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ 

دوسری جانب تاجر برادری کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے نتیجے میں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، تاہم ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، تفصیلات کا اندازہ آگ بھجنے کے بعد ہی ہو گا۔

گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد حکومت سندھ نے عوام کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واقعے سے متعلق معلومات یا گمشدہ افراد کی اطلاع ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے نمبرز 0313-5048048، 021-99206372 اور 021-99205625 پر دی جا سکتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ریسکیو آپریشن میں تمام متعلقہ ادارے مل جل کر کام کریں۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آتشزدگی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو ہدایت کی کہ ریسکیو اور ریلیف کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے ایس ایس پی سٹی کو فوری ریسکیو اقدامات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عمارت میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے شہریوں کے لیے متبادل ٹریفک روٹس بنانے اور فائر بریگیڈ کو بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے فوری تحقیقات شروع کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

کراچی جنوبی صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے جہاں اس طرح کے واقعات عام ہیں۔

نومبر 2023 میں بھی شہر کے ایک شاپنگ مال میں آگ لگنے سے 10 افراد جان سے چلے گئے تھے اور 22 دیگر زخمی ہوئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان