کراچی: گل پلازہ شاپنگ مال میں آتشزدگی، پانچ افراد جان سے گئے

ریسکیو حکام کے مطابق کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا جبکہ عمارت مخدوش قرار دے کر سیل کر دیا گیا ہے۔

پولیس اور ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ ہفتے کو رات گئے کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع کثیر منزلہ شاپنگ مال گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد جان سے گئے اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔

ریسکیو اور فائر بریگیڈ حکام کے مطابق کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا اور امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’آگ تیسرے درجے کی تھی، جو ابتدا میں پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر لگی اور تیزی سے پھیلتے ہوئے دوسری اور تیسری منزل تک جا پہنچی۔ تاہم آگ لگنے کی وجوہات کا تعین تاحال نہیں ہو سکا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ ’آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 20 گاڑیاں، دو سنارکلز اور دو واٹر باؤزر مصروف ہیں۔ آگ کی شدت کے باعث عمارت کا پچھلا حصہ منہدم ہو گیا، جس کے بعد پلازہ کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے سیل کر دیا گیا، کیونکہ کسی بھی وقت مزید حصہ گرنے کا خدشہ ہے۔‘

ریسکیو حکام کے مطابق: ’اب تک پانچ افراد جان سے گئے اور 20 سے زائد زخمی ہوئے، جنہیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اب بھی کچھ افراد بالائی منزلوں میں پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں ریسکیو کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

ترجمان ریسکیو 1122 نے عمارت کے ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گل پلازہ ایک پرانی اور چاروں اطراف سے گھری ہوئی عمارت تھی، جس کے باعث ریسکیو کارروائی میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ پلازے میں تقریباً 1200 دکانیں ہیں۔ آگ نے شدت اس لیے اختیار کی کہ شاپنگ مال میں پلاسٹک کی اشیا اور پرفیوم سمیت آتش گیر مواد بڑی مقدار میں موجود تھا۔‘

چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آگ کی شدت زیادہ ہونے کے باعث اسے مکمل طور پر بجھانے میں وقت لگ سکتا ہے۔

 چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آتشزدگی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کو ہدایت کی کہ ریسکیو اور ریلیف کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ چیف فائر بریگیڈ کے مطابق آگ بجھانے میں وقت لگے گا اور ابتدائی معلومات کے مطابق پلازہ میں ایمرجنسی ایگزٹ کا مناسب نظام موجود نہیں تھا جبکہ گراؤنڈ فلور پر کچھ کیمیکل بھی رکھے گئے تھے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے ایس ایس پی سٹی کو فوری ریسکیو اقدامات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عمارت میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے شہریوں کے لیے متبادل ٹریفک روٹس بنانے اور فائر بریگیڈ کو بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے فوری تحقیقات شروع کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

کراچی جنوبی صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے جہاں اس طرح کے واقعات عام ہیں۔ نومبر 2023 میں بھی شہر کے ایک شاپنگ مال میں آگ لگنے سے 10 افراد جان سے چلے گئے تھے اور 22 دیگر زخمی ہوئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان