کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے میں ۶ افراد جان سے چلے گئے ہیں جبکہ متعدد زخمی بتاےئ جاتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اتوار کو بتایا تھا کہ کراچی کے ایک بڑے شاپنگ پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے میں اب تک کے ایم سی کے فائر فائٹر سمیت چھ لوگ جان سے جا چکے ہیں جبکہ کم از کم 58 افراد بدستور لاپتہ ہیں۔
حسان خان کے مطابق آگ کی شدت کے باعث عمارت کا پچھلا حصہ منہدم ہو گیا، جس کے بعد پلازہ کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے سیل کر دیا گیا کیونکہ کسی بھی وقت مزید حصہ گرنے کا خدشہ ہے۔‘
ترجمان ریسکیو 1122 نے عمارت کے ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گل پلازہ ایک پرانی اور چاروں اطراف سے گھری ہوئی عمارت تھی، جس کے باعث ریسکیو کارروائی میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بتایا کہ ’ابتدائی معلومات کے مطابق پلازہ میں ایمرجنسی ایگزٹ کا مناسب نظام موجود نہیں تھا اور گراؤنڈ فلور پر کچھ کیمیکل بھی رکھے گئے تھے۔‘
مختلف مقامات سے اہل خانہ اپنوں کی تلاش کے لیے ایم اے جناح روڈ پہنچ رہے ہیں۔
جائے حادثہ پر موجود متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں آخری فون کال آگ لگنے کی آئی تھی اور اب تک انہیں اپنوں کی کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
دوسری جانب تاجر برادری کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے نتیجے میں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، تاہم ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، تفصیلات کا اندازہ آگ بھجنے کے بعد ہی ہو گا۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد حکومت سندھ نے عوام کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
واقعے سے متعلق معلومات یا گمشدہ افراد کی اطلاع ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے نمبرز 0313-5048048، 021-99206372 اور 021-99205625 پر دی جا سکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ریسکیو آپریشن میں تمام متعلقہ ادارے مل جل کر کام کریں۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آتشزدگی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو ہدایت کی کہ ریسکیو اور ریلیف کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے ایس ایس پی سٹی کو فوری ریسکیو اقدامات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عمارت میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے شہریوں کے لیے متبادل ٹریفک روٹس بنانے اور فائر بریگیڈ کو بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے فوری تحقیقات شروع کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کراچی جنوبی صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے جہاں اس طرح کے واقعات عام ہیں۔
نومبر 2023 میں بھی شہر کے ایک شاپنگ مال میں آگ لگنے سے 10 افراد جان سے چلے گئے تھے اور 22 دیگر زخمی ہوئے تھے۔