صوبہ پنجاب میں چار دہائیوں میں آنے والے بدترین سیلاب کی وجہ سے حکام کے مطابق رواں ہفتے کے دوران دس لاکھ سے زیادہ لوگ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔
پاکستانی حکام نے جمعرات کو روئٹرز کو بتایا کہ صوبہ پنجاب میں حالیہ سیلاب نے سینکڑوں دیہات میں تباہی مچائی، جس کی وجہ سے اناج کی اہم فصلیں بھی زیر آب آ گئی ہیں۔
پنجاب کی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا کہ مون سون کی طوفانی بارشوں اور پڑوسی ملک انڈیا کی جانب سے اپنے ڈیموں سے زیادہ پانی چھوڑنے سے صوبے میں بہنے والے تین دریاؤں میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہوا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پی ڈی ایم اے حکام نے مزید بتایا کہ بعض جگہوں پر دریا کے کناروں کو توڑنا بھی پڑا، جس کی وجہ سے 1400 سے زیادہ دیہات میں سیلابی پانی داخل ہوا۔
گاؤں قادر آباد کے مکین جمعرات کو دریائے چناب میں بہاؤ زیادہ ہونے کے بعد اپنے سینوں تک آتے پانی سے گزر رہے تھے۔
اپنے بچے کے ساتھ پانی میں گزرتے ہوئے ایک 26 سالہ مزدور ندیم اقبال نے روئٹرز کو بتایا: ’ہم نے پوری رات جاگ کر اور خوفزدہ گزاری۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ہر کوئی خوفزدہ تھا۔ بچے رو رہے تھے۔ خواتین پریشان تھیں۔ ہم بے بس تھے۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب، جو پاکستان کی آبادی کے نصف پر مشتمل اور گندم، چاول اور کپاس جیسی اہم فصلوں کا پیداواری علاقہ ہے، میں سیلاب کی صورت حال مزید خراب ہو گئی ہے۔
پنجاب میں سے گزرنے والے تین دریاؤں راوی، ستلج اور چناب انڈین ڈیموں سے پانی چھوڑنے کے باعث بھرے ہوئے ہیں۔
انڈیا، جو معمول کے مطابق ڈیموں کے بہت زیادہ بھر جانے پر ان سے پانی چھوڑتا ہے، نے اس ہفتے پاکستان کو سیلاب کی تین وارننگز دیں، جسے نئی دہلی نے ’انسانی ہمدردی کا اقدام‘ قرار دیا۔
اس وقت دونوں پڑوسی ملک مون سون کے شدید موسم سے نبرد آزما ہیں، جس کے دوران بارشوں کے نتیجے میں اچانک سیلاب آئے اور کئی جگہوں پر لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اس مہینے کم از کم 60 افراد بارشوں کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے جان سے گئے، جب کہ پاکستان میں جون کے آخر سے بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد 819 ہے۔
پنجاب حکومت کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اس ہفتے صوبے میں کم از کم 12 اموات ہوئیں۔
خطرہ ٹل گیا
جمعرات کی صبح دریائے چناب میں پانی کے زیادہ بہاؤ کی وجہ سے قادر آباد پر 3300 فٹ اونچا بیراج پھٹنے کا خطرہ پیدا ہوا۔ بیراج کے گرنے کی صورت میں کم از کم دو قریبی قصبوں کے زیر آب آنے کا خطرہ تھا۔
پی ڈی ایم اے نے کہا کہ خطرے کو ٹالنے کے لیے حکام نے جان بوجھ کر دریا کے کنارے کا کچھ حصہ دو مقامات پر اڑا دیا تاکہ پانی بیراج تک پہنچنے سے پہلے قریبی زمینوں میں چلا جائے۔
اسی دن دوپہر تک پانی کی سطح کم ہو کر 754,966 کیوسک ہو گئی، جو راتوں رات تقریباً 10 لاکھ کیوسک تک جا پہنچی تھی۔ بیراج کی گنجائش آٹھ لاکھ کیوسک سے زیادہ ہے۔
اتھارٹی کے ترجمان نے کہا: ’ہم نے خطرہ ٹال دیا ہے۔‘
حکام نے بدلتے ہوئے موسمی اثرات کو پاکستان میں سیلاب کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جو حالیہ برسوں میں سیلاب کی وجہ سے بار بار متاثر ہوا ہے۔
2022 میں مون سون کی تاریخی بارشوں کی وجہ سے آنے والے غیر معمولی سیلاب نے سڑکیں، فصلیں، بنیادی ڈھانچہ اور پل بہا دیے تھے، جس سے کم از کم ایک ہزار اموات ہوئی تھیں۔
پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے سربراہ انعام حیدر ملک نے کہا کہ پہلی بار اس مون سون کے موسم میں مشرق، جنوب اور مغرب سے آنے والے موسمی نظام پاکستان کے اوپر اکٹھے ہوئے ہیں۔