سندھ حکومت کی جانب سے سیلاب پر نامزد فوکل پرسن اور سکھر بیراج کنٹرول روم کے سابق انچارج عبدالعزیز سومرو کے مطابق سندھ میں تاحال سیلاب کے حوالے سے صورتِ حال ’انڈر کنٹرول‘ ہے اور مختلف مقامات کے موجودہ اعدادوشمار کے مطابق سندھ میں فی الحال بڑے سیلاب کا خطرہ نہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالعزیز سومرو نے کہا: ’دریائے چناب میں چنیوٹ کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اس وقت وہاں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
جمعے کی صبح دس بجے چنیوٹ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی مقدار آٹھ لاکھ بیالیس ہزار پانچ سو (8,42,500) کیوسک ریکارڈ کی گئی۔
’یہ سیلابی پانی ہفتے کی صبح تک تریموں بیراج پہنچے گا۔ کچھ مقامات پر کٹ لگنے کے باعث پانی کی سطح میں کمی ہوئی ہے۔ پنجند تک چار سے پانچ لاکھ کیوسک پانی پہنچے گا۔
’پنجند کے بعد جب یہ سیلابی ریلا چاچڑاں کے مقام پر سندھ میں داخل ہوگا تو تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار کیوسک رہ جائے گا۔
’سکھر بیراج کی کل گنجائش نو لاکھ کیوسک ہے اور اس وقت سکھر بیراج پر ساڑھے چھ لاکھ کیوسک پانی موجود ہے۔ 2010 میں سکھر بیراج سے 11 لاکھ کیوسک پانی کا گزر ہوا تھا۔‘
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ممکنہ سیلاب کے پیشِ نظر دریائے سندھ کے کناروں پر 500 سے زائد کیمپ قائم کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ متاثرہ آبادی اور مال مویشیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر کوئی بڑا سیلابی ریلا آئے تو ایک بھی جان، خواہ انسان ہو یا جانور، ضائع نہیں ہونی چاہیے۔
جمعے کو ہائی لیول فلڈ ایمرجنسی اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے شمالی اضلاع میں 30 ہزار سے زائد ریسکیو 1122 اہلکاروں کی تعیناتی کی ہدایت دی اور متاثرہ علاقوں میں کشتیوں کی فراہمی کا حکم دیا۔
سکھر میں چھ، گھوٹکی، خیرپور، شکارپور، نوشہرو فیروز اور دادو میں چار، جبکہ شہید بینظیر آباد میں تین کشتیاں فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔
مزید برآں ریسکیو ٹیموں کو کشتیوں سمیت سکھر سے دادو تک تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
آب پاشی محکمے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب گڈو بیراج پر سات سے آٹھ لاکھ کیوسک پانی داخل ہونے کا امکان ہے۔
وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل ریسکیو اور ریلیف انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ پاکستان بحریہ نے ریلیف آپریشنز کی معاونت کے لیے 26 کشتیاں سٹینڈ بائی پر رکھی ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سٹاک کا جائزہ لیتے ہوئے مراد علی شاہ کو آگاہ کیا گیا کہ ریلیف سامان وافر مقدار میں دستیاب ہے جن میں مچھر دانیاں، کمبل، فرسٹ ایڈ کٹس، کچن سیٹس، گدے، پلاسٹک میٹ، عارضی بیت الخلا، لحاف، پانی کے کین، سلیپنگ میٹ، خیمے، ڈی واٹرنگ پمپس اور جنریٹر شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ کو مزید بتایا گیا کہ اگر انتہائی اونچا سیلابی ریلا آیا تو 50 ہزار سے زائد خاندان بے گھر ہو سکتے ہیں۔
مراد علی شاہ نے ہدایت دی کہ مکمل تیاری یقینی بنائی جائے اور ضرورت پڑنے پر نجی شعبے سے بھاری مشینری کا بندوبست بھی کیا جائے۔
دوسری جانب دریائے سندھ کے بہاؤ میں مسلسل اضافے کے ساتھ صوبے کے مختلف اضلاع کے ساتھ لگنے والے دریائے سندھ کے کچے کا علاقہ ڈوب گیا ہے۔
سکھر کے صحافی عمران ملک کے مطابق گھوٹکی، کشمور سمیت مختلف اضلاع میں کچے کے رہائشی لوگوں کو کشتیوں پر گھر کا سامان محفوظ مقام پر لے جاتے دیکھا گیا۔
دریائے سندھ کا کچا کیا ہے اور کچا ڈوبنے سے وہاں کے لوگ خوش کیوں؟
دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر مٹی کی موٹی دیواروں جیسے بڑے بند باندھے گئے ہیں تاکہ جب دریا میں طغیانی ہو تو پانی باہر نکل کر سیلاب کا سبب نہ بنے۔
ان دیوار نما بندوں کے درمیان دریا کا فاصلہ کہیں کئی کلومیٹر تک پھیلنے کے باعث زیادہ چوڑا اور کہیں کم چوڑا ہوتا ہے۔
دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر موجود ان بندوں کے درمیان والے علاقے کو کچے کا علاقہ کہا جاتا ہے۔
موسمِ گرما میں سخت گرمی کے باعث پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں موجود گلیشیئر پگھلنے اور بعد ازاں جون، جولائی اور اگست میں مون سون بارشوں کے سبب دریائے سندھ میں طغیانی آ جاتی ہے۔
اس وقت دریا کے دونوں کناروں پر موجود بندوں کے درمیان واقع کچے کی پوری چوڑائی پانی سے بھر جاتی ہے۔ کچے کا ڈوب جانا ایک عام بات ہے۔
سردیوں میں دریا صرف درمیان میں ایک پتلی لکیر کی طرح بہتا ہے اور باقی علاقہ خالی رہتا ہے۔ اس علاقے میں ہر سال سیلاب کے دوران آنے والے پانی اور دریا کے ساتھ آنے والی ریت کے باعث زمین انتہائی زرخیز ہو جاتی ہے۔
دریا کی زرخیز زمین، مفت کا پانی اور دریائی سلٹ کی وجہ سے فصلوں کو کھاد اور کیڑے مار ادویات کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ اس لیے کچے کی زمین پر بھرپور کھیتی باڑی کی جاتی ہے۔
پنجاب سے متصل سندھ کے ضلع گھوٹکی سے سمندر تک دریائے سندھ کے دونوں اطراف کچے کے لاکھوں ایکڑ پر زراعت کی جاتی ہے۔
اس کچے میں بڑی تعداد میں چھوٹے بڑے دیہات بھی قائم ہیں۔ کچے میں سندھ حکومت کے متعدد سرکاری سکولز، پولیس چیک پوسٹس، مساجد اور مدارس بھی موجود ہیں۔
کچے میں گندم، گنا، مونگ پھلی سمیت کئی اقسام کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ دریائے سندھ میں سیلاب کے بعد جب کچا ڈوب جاتا ہے تو کچھ عرصے بعد پانی اترنے اور زمین ہموار ہونے پر صرف بیج ڈال کر فصلیں اگائی جاتی ہیں کیونکہ زمین پہلے ہی پانی پی چکی ہوتی ہے۔
عام طور پر مون سون بارشوں کے بعد دریائے سندھ میں طغیانی کے باوجود سندھ کا پورا کچا زیرِ آب نہیں آتا۔
کچے کے وہ علاقے جہاں سیلاب نہیں پہنچتا وہاں ٹیوب ویل کے ذریعے کاشت کی جاتی ہے، جس سے کھیتی باڑی کے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
روہڑی شہر کے سماجی رہنما ستار زنگیجو کے مطابق 2010 اور 2015 میں سندھ میں کچے کا علاقہ مکمل طور پر ڈوبا تھا، جبکہ 2022 میں کچے کے کچھ حصے زیر آب آئے تھے مگر پورا کچا نہیں ڈوبا تھا۔
ستار زنگیجو کے بقول: ’جب کچا مکمل طور پر ڈوب جاتا ہے تو مقامی لوگ خوش ہوتے ہیں کیونکہ کچے میں سیلاب عارضی ہوتا ہے۔ چند دن بعد پانی اتر جاتا ہے اور اگائی گئی فصلوں سے دوگنی کمائی ہوتی ہے۔
سندھی زبان میں کہاوت ہے ’بڈی جا بینا‘، یعنی اگر کچا ڈوب جائے تو دوگنا فائدہ۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ستار زنگیجو نے کہا کہ کچے کے جو لوگ مالی طور پر مستحکم ہوتے ہیں، وہ دریائے سندھ کے کچے سے باہر شہروں میں گھر بنائے رکھتے ہیں اور جب کچا ڈوب جاتا ہے تو عارضی طور پر ان گھروں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔
ان کے مطابق ’کچھ لوگ کچا ڈوبنے پر عارضی طور پر کرائے کے مکان لیتے ہیں، جبکہ کچھ اپنے گاؤں میں مستقل بنیاد پر مٹی کے اونچے ٹیلے بنا لیتے ہیں۔
’سیلاب کی صورت میں وہ اپنے مویشی ان ٹیلوں پر رکھتے ہیں اور ان کا چارہ کشتی کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔‘
ستار زنگیجو نے مزید بتایا ’کچا مکمل ڈوبنے سے خراب زمین دوبارہ زرخیز ہو جاتی ہے۔
’بڑی تعداد میں درخت اگتے ہیں اور کچے کے کئی حصوں میں گھنے جنگلات پیدا ہو جاتے ہیں، جہاں سے مقامی لوگ شہد اور لکڑی سمیت دیگر اشیا حاصل کرکے فروخت کرتے ہیں۔
’ان سب فوائد کے باعث جب کچا مکمل طور پر ڈوبتا ہے تو مقامی لوگ خوش ہوتے ہیں۔‘
گھوٹکی کے دریائے سندھ میں رونتی کے کچے کے نزدیک واقع گاؤں ڈِنگ چاچڑ کے رہائشی منیر شر کے مطابق چند روز سے دریائے سندھ میں اونچے بہاؤ کے باعث رونتی کچے کے گاؤں نور لکھن، آغو خان سندرانی سمیت کئی گاؤں مکمل طور پر زیر آب آ گئے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے منیر شر نے کہا ’تقریباً 10 سال بعد کچے میں اتنا زیادہ پانی دیکھا ہے۔ اس سے پہلے 2015 میں کچا مکمل طور پر ڈوبا تھا۔ اس وقت کچے میں گنے کی فصل کھڑی تھی جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی۔
’بظاہر یہ نقصان دہ لگتا ہے مگر پانی اترنے کے بعد دوگنی فصل کی امید کے باعث خوشی ہوتی ہے۔‘
سندھ حکومت نے کچے کے رہائشیوں کے انخلا کے لیے کشتیوں کا بندوبست کرنے اور ممکنہ سیلاب کے پیشِ نظر دریائے سندھ کے کناروں پر 500 سے زائد کیمپ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔