خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ ’سنجیدگی سے زیر غور‘: وزیر مملکت برائے قانون

بیرسٹر عقیل ملک نے جیو نیو نیوز کے ٹاک شو میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے سے متعلق غور کی وجہ صوبے میں عسکریت پسندی اور سرحدات کی صورت حال ہیں۔

26 فروری 2025 کو وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے (سہیل اختر)

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے اتوار کو کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر ’سنجیدگی سے غور‘ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اس ممکنہ اقدام کی ضرورت کو صوبے میں ’سکیورٹی اور گورننس کے مسائل‘ سے جوڑا۔

بیرسٹر عقیل ملک نے یہ بات نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں کہی جہاں ان سے اس اقدام کے امکان اور اس حوالے سے حکومتی منصوبوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

پاکستان کے روایتی اور سوشل میڈیا پر اتوار کی دوپہر سے گورنر خیبر پختونخوا کی تبدیلی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاق کی سطح پر چھ نام زیر غور ہیں، جن میں سے کسی کو موجودہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جگہ عہدے پر لگایا جا سکتا ہے۔

بغیر نام کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ نئے صوبائی گورنر کے لیے صوبے کے تین سابق وزرائے اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی، آفتاب احمد خان شیر پاؤ اور پرویز خٹک کے ناموں پر غور ہو رہا ہے۔  

تاہم عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا انہیں اس تمام سے باہر رکھا جائے۔ امیر حیدر خان ہوتی کا تعلق اے این پی سے ہے۔

اسی طرح اس عہدے کے لیے تین ریٹائرڈ فوجی افسران کے نام بھی روایتی اور سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا معاملہ مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے مرکز، مسلح افواج اور بیوروکریسی کے خلاف سخت موقف کی وجہ سے زیر بحث آ رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے اتوار کو ہی پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کیا۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم ’کسی بھی طرح کی قابل عمل صورتحال پیدا کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ نہ تو وہ مرکز کے ساتھ کسی قسم کا تال میل یا ہم آہنگی چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ ان علاقوں میں کوئی کارروائی کرتے ہیں جہاں اس کی ضرورت تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے، گورنر راج پر اب ’سنجیدگی سے غور‘ کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’آئینی اقدام‘ ہو گا، جو ’مکمل ضرورت‘ کی صورت میں اٹھایا جائے گا۔  

’اور میرے خیال میں خیبر پختونخوا کے حالات خود اس سلسلے میں ایک قدم اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ وہاں انتظامی ڈھانچے کی موجودگی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کے فیصلے کو حتمی شکل دے دی ہے، عقیل ملک نے کہا کہ صدر کے پاس آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت وزیراعظم کے مشورے کی بنیاد پر اس کا اختیار ہے۔ 

’اور وفاقی حکومت (اس آپشن) پر غور کر رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’صدر خود بھی یہ قدم اٹھا سکتے ہیں جس کی منظوری بعد میں (پارلیمان) کے مشترکہ اجلاس سے لینا پڑے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے گورنر راج لگایا جا سکتا ہے اور بعد میں ضرورت پڑنے پر اسے مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے موجودہ گورنر فیصل کریم کنڈی کو تبدیل کیے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ گورنر راج کا معاملہ ’بہت ابتدائی‘ مرحلے میں ہے۔

تاہم اس سلسلے میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اتوار ہی کی شام انہیں عہدے سے ہٹائے جانے سے متعلق اطلاعات سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ 

گورنر فیصل کنڈی نے نے گذشتہ ہفتے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تھی۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال سے متعلق اہم انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

گورنر کنڈی نے اس موقع پر وزیر اعظم سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ آئندہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں کے پی کو واجب الادا حصہ فراہم کریں۔

خیبر پختونخوا حکومت کا ردعمل

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان نے گورنر راج لگانے کی خبروں پر رد عمل دیتے ہوئے اتوار کی رات ایک بیان میں کہا کہ ’گورنر تبدیل کرنا وفاقی حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے اور اگر گورنر راج لگانا چاہتے ہیں تو آج ہی لگا لیں۔‘

انہوں نے کہا کہ گورنر راج جیسے اینڈونچر پر انہیں رد عمل بعد میں پتہ لگ جائے گا کیونکہ یہ خیبر پختونخوا کی عوام کے مینڈیٹ پر حملہ ہو گا۔ 

شفیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ ’ایسا کوئی بھی ایڈونچر کیا گیا تو عوام سڑکوں پر ہوں گے اور پھر اس کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے گا۔‘

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست