ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کے بعد زیلنسکی کو سخت انتخاب کا سامنا

امریکی صدر نے 27 نومبر تک ’روس نواز‘ امن منصوبہ قبول نہ کرنے کی صورت میں یوکرین کو ہتھیار اور انٹیلی جنس تک رسائی روکنے کی دھمکی دی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی سے 28 فروری 2025 کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کا منظر (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس متنازع امن منصوبے کو 27 نومبر تک قبول کرے، ورنہ اسے امریکی انٹیلی جنس اور ہتھیاروں تک رسائی سے محروم کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی نے قوم کو بتایا کہ ملک ’اپنی تاریخ کے سب سے مشکل لمحات میں سے ایک‘ سے گزر رہا ہے کیونکہ وہ ایک 28 نکاتی امریکی منصوبے پر غور کر رہے ہیں، جو بظاہر روس کے حق میں نظر آتا ہے۔

اس منصوبے کے مطابق کیئف کو اپنی کچھ زمین چھوڑنی ہوگی، نیٹو میں شمولیت سے دستبردار ہونا ہوگا اور اپنی فوج کی تعداد پر پابندیاں قبول کرنا ہوں گی جبکہ اس کے بعد روس کو دوبارہ عالمی برادری میں خوش آمدید کہا جائے گا۔

زیلنسکی نے اپنے خطاب میں کہا: ’یوکرین کو ایک نہایت مشکل انتخاب کا سامنے ہے یعنی یا یہ اپنی عزت نفس کھو دے یا اپنے اہم ترین شراکت دار سے محروم ہونے کا خطرہ مول لے۔‘

تاہم انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے ملک سے کبھی غداری نہیں کریں گے۔

روئٹرز کے مطابق امریکہ نے یوکرین پر دباؤ بڑھانے کے لیے دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اس فریم ورک کو قبول نہیں کرتا تو انٹیلی جنس شیئرنگ اور ہتھیاروں کی فراہمی روک دی جائے گی۔

ٹرمپ نے تصدیق کی کہ انہوں نے یوکرین کو تھینکس گیونگ ڈے یعنی 27 نومبر تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

انہوں نے فاکس نیوز ریڈیو کو بتایا: ’میں نے بہت سی ڈیڈ لائنز رکھی ہیں اور اگر معاملات درست سمت میں جا رہے ہوں تو انہیں بڑھا بھی دیتے ہیں لیکن ہمیں لگتا ہے کہ جمعرات مناسب ہے۔‘

دوسری جانب کریملن نے بھی یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ ’ابھی‘ مذاکرات کرے ورنہ اس کے مزید علاقے ہاتھ سے جا سکتے ہیں۔ روس کا دعویٰ ہے کہ خارکیف میں ہزاروں یوکرینی فوجی پھنس چکے ہیں۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ زیلنسکی کے لیے ’فیصلے کرنے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ علاقے اس کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں،‘ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماسکو کو ابھی تک امریکی منصوبے کی کوئی سرکاری دستاویز موصول نہیں ہوئی۔

ادھر یورپی رہنماؤں نے اس منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ اسے ان کی شمولیت کے بغیر تیار کیا گیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا: ’روس کی جنگ یورپ کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو، مگر یہ کیسے ختم ہوتی ہے، یہ زیادہ اہم ہے۔ روس کو کسی بھی قسم کی رعایت کا قانونی حق نہیں۔ یہ لمحہ سب کے لیے نہایت خطرناک ہے۔‘

برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں اور جرمنی کے فریڈرخ مرٹس کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ کوئی بھی معاہدہ ’یوکرین کی مکمل شمولیت سے ہو، اس کی خودمختاری محفوظ رہے اور اس کے مستقبل کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔‘

ٹرمپ کے منصوبے کے تحت امریکہ غیر معینہ سکیورٹی ضمانتوں کی ذمہ داری لے گا، جو کیئف کے لیے جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ یوکرین کے بنیادی مطالبات میں سے ایک کو محض ایک سطر، یعنی یوکرین کو مضبوط سکیورٹی ضمانتیں فراہم کی جائیں گی، میں شامل کیا گیا ہے، جس میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

منصوبے میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ اور یوکرین باہمی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں میں شراکت کریں گے اور یوکرین کی تعمیرِ نو سے ہونے والا منافع امریکہ کو بھی ملے گا، تاہم یورپی ممالک کے لیے یوکرین میں امن فوج تعینات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس کے برعکس روس کو دوبارہ جی-8 میں شامل کرنے اور عالمی برادری میں بتدریج واپس لانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ پابندیوں کے خاتمے پر بھی مرحلہ وار بات چیت کا امکان موجود ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکی منصوبہ روس کے حق میں بہت زیادہ جھکا ہوا ہے، یورپ کو نظر انداز کرتا ہے اور یوکرین کو کوئی حقیقی سکیورٹی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔

رویئل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (RUSI) کی ماہر ناتیا سیسکوریہ نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’اس منصوبے سے ایسا لگتا ہے جیسے ٹرمپ ایک فوری سفارتی کامیابی چاہتے ہوں، نہ کہ دیرپا امن کی حکمتِ عملی۔‘

ان کے مطابق: ’اس شکل میں یہ منصوبہ یوکرین کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ یہ کیئف کو بڑے نقصان قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے جبکہ سکیورٹی ضمانتیں بھی حقیقی نہیں۔ اس سے روس یوکرینی علاقے ڈونباس پر قبضے کے دیرینہ اہداف کے قریب پہنچ جائے گا، جس میں وہ ابھی تک مکمل کنٹرول حاصل کرنے ناکام رہا ہے۔‘

انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی پیشکش یوکرینی صدر زیلنسکی کے لیے سیاسی طور پر ناقابلِ عمل ہوگی، کیونکہ کسی معاہدے کے بعد انہیں 100 دن کے اندر نیا انتخاب لڑنا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تھنک ٹینک چاٹم ہاؤس کے ٹم ایش نے کہا: ’روس کو سب کچھ مل جائے گا اور یوکرین کو بہت کم۔ اگر زیلنسکی اسے قبول کرتے ہیں تو مجھے توقع ہے کہ یوکرین میں شدید سیاسی، سماجی اور اقتصادی عدم استحکام پیدا ہوگا۔‘

گلوبل میگنیٹسکی جسٹس کمپین کے سربراہ سر ولیم براوڈر نے سکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے اس منصوبے کو اس طرح بیان کیا: ’28 نکاتی منصوبہ جو شاید کریملن میں نشے کی حالت میں بنایا گیا ہو اور پھر امریکہ نے اسے منظور کر لیا۔‘

امریکہ کی جانب سے جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تیز رفتاری اس وقت سامنے آ رہی ہے جب یوکرینی فوج میدان جنگ میں پسپائی کے قریب ہے اور صدر زیلنسکی کی حکومت بدعنوانی کے سکینڈل سے کمزور ہو چکی ہے۔ جنگ کے چوتھے سرد موسم کے قریب آنے کے ساتھ، روسی فوجیں یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقوں پر قابض ہیں اور 750 میل طویل محاذ پر آہستہ آہستہ پیش قدمی کر رہی ہیں۔

روس کا دعویٰ ہے کہ اس نے شمال مشرقی یوکرین کے شہر کوپیانسک اور مشرقی شہر پوکروفسک کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو تقریباً دو سال میں اس کی پہلی بڑی کامیابیاں ہیں۔ کیئف نے ان شہروں پر کنٹرول کھونے کی تردید کی ہے مگر روسی پیش قدمی کا اعتراف کیا ہے۔

صدر زیلنسکی نے جمعے کو برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے رہنماؤں سے ٹیلی فون پر بات کی اور بعد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی رابطہ کیا۔ توقع ہے کہ اگلے ہفتے صدر ٹرمپ سے بھی فون کال ہوگی۔

صدر زیلنسکی نے کہا: ’ہم امریکہ، صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں کی قدر کرتے ہیں۔ ہم امریکی فریق کی جانب سے تیار کردہ دستاویز پر کام کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ ایک حقیقی اور باعزت امن کو یقینی بنانا چاہیے۔‘

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا