مانچسٹر: مسجد میں کلہاڑی اور چاقو لانے کے الزام میں ایک شخص گرفتار

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اپنے بیان میں کہا کہ ماہ رمضان میں اس طرح کا واقعہ مسلمانوں کے لیے یقیناً تشویش ناک ہو گا۔

مانچسٹر کے وکٹوریہ پارک میں واقع سینٹرل مسجد کا بیرونی منظر ( مانچسٹر سینٹرل مسجد فیس بک پیج)

مانچسٹر پولیس نے بتایا ہے کہ ایک شخص کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ مبینہ طور پر کلہاڑی اور چاقو لے کر شہر کی ایک مرکزی مسجد میں داخل ہوا۔

پولیس کے مطابق منگل کی شب وکٹوریہ پارک میں واقع مسجد سے اطلاع ملی کہ دو افراد مشتبہ طور پر وہاں موجود ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ چالیس سال کی عمر کے ایک شخص کو ممنوعہ ہتھیار رکھنے اور کلاس بی منشیات رکھنے کے شبہ میں حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ دوسرے شخص کی تلاش جاری ہے۔

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے بدھ کو اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا: ’مجھے گذشتہ رات مانچسٹر سینٹرل مسجد میں پیش آنے والے واقعے کا سن کر تشویش ہوئی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ مسلم کمیونٹیز کے لیے، خاص طور پر رمضان کے دوران تشویش ناک ہو گا۔‘

وزیراعظم نے بعد میں ارکان پارلیمنٹ کو بتایا: ’ہمیں مسلم دشمن نفرت کے خلاف جنگ میں نرمی نہیں برتنی چاہیے اور نہ ہی ہم ایسا کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شمال مغربی انگلینڈ میں مانچسٹر کی پولیس نے کہا تھا کہ انہوں نے منگل کی رات ان اطلاعات پر کارروائی کی کہ دو افراد ’خطرناک ہتھیار لے کر اس وقت مانچسٹر سینٹرل مسجد میں داخل ہوئے جب لوگ مقدس مہینے کے دوران عبادت کر رہے تھے۔‘

خبر رساں اداے اے ایف پی کے مطابق مانچسٹر پولیس کے اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل جان ویبسٹر نے کہا: ’ہم نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر کارروائی کی، جہاں ہم نے مشتبہ شخص کی تلاشی لی، اسے گرفتار کیا اور ایک کلہاڑی، ایک چھری اور کلاس بی کی منشیات سمیت دیگر ہتھیار قبضے میں لے لیے۔‘

پولیس نے کہا کہ وہ دوسرے شخص کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پولیس فورس کے مطابق کوئی دھمکیاں نہیں دی گئیں اور کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

جان ویبسٹر کے مطابق: ’اس وقت، یہ واضح نہیں ہے کہ اس واقعے کے محرکات یا مقاصد کیا تھے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ مساجد کے ارد گرد گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک بیان میں، مانچسٹر سینٹرل مسجد نے کہا کہ ’برطانیہ میں مسلم کمیونٹی نے حالیہ برسوں میں دھمکیوں اور دشمنی میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے۔‘

گذشتہ اکتوبر میں، برطانیہ کی پولیس نے جنوبی انگلینڈ کے ساحلی قصبے پیس ہیون کی ایک مسجد میں آتش زنی کے مبینہ حملے کی بھی ’نفرت انگیز جرم‘ کے طور پر تحقیقات کی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا