رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال اگست میں یوکرینی صدر نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کو تعلقات مضبوط کرنے کے لیے انٹرسیپٹر ڈرون کی پیشکش کی جبکہ اس موقعے پر ایک پاور پوائنٹ پریزنٹیشن بھی دکھائی گئی۔
وولودی میر زیلنسکی
سیاسی نعرہ بازی کے اس دور میں ’خطوط کی سفارت کاری‘ دوبارہ واپس آ گئی ہے، اس کا سہرا میلانیا ٹرمپ اور اولینا زیلینسکا کے سر ہے جن کے ہاتھ سے لکھے گئے خطوط نہ صرف یوکرین کے امن عمل پر اثر ڈال رہے ہیں بلکہ اپنے اصل مخاطبین سے آگے بھی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔