روس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے پیر کو کہا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں پیش رفت کے آثار نظر آ رہے ہیں تاہم حتمی معاہدے کی راہ میں اب بھی بڑے چیلنجز موجود ہیں۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ماسکو میں صحافیوں کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں ابوظہبی میں یوکرین، روس اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات تعمیری رہے ہیں اور آئندہ ہفتے مزید بات چیت متوقع ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اب تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔
پیسکوف کے مطابق: ’یہ بات مثبت ہے کہ یہ رابطے تعمیری انداز میں شروع ہوئے لیکن ابھی سنجیدہ اور طویل کام باقی ہے۔‘
جمعہ اور ہفتے کو ہونے والے ان مذاکرات کی تفصیلات تینوں فریقین کی جانب سے محدود رکھی گئیں حالانکہ یہ بات چیت ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک سال سے جاری کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد فریقین کو امن معاہدے کی طرف لانا اور تقریباً چار سال سے جاری جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
اگرچہ روس اور یوکرین اصولی طور پر امریکہ کی مفاہمت کی کوششوں سے متفق ہیں لیکن کسی ممکنہ معاہدے کی شکل پر دونوں ممالک کے درمیان گہرے اختلافات موجود ہیں۔
دوسری جانب، مشرقی اور جنوبی یوکرین میں تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل محاذ پر جاری جنگ بدستور شدت اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ روسی بمباری کے باعث یوکرینی شہری ایک اور سخت سرد موسم کا سامنا کر رہے ہیں۔
یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے بھی ابوظہبی مذاکرات کو تعمیری قرار دیا تاہم کہا کہ کئی پیچیدہ سیاسی مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ دنوں میں تین ملکی مذاکرات کا نیا دور متوقع ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق، فریقین اتوار کو دوبارہ متحدہ عرب امارات میں مذاکرات کے لیے واپس آئیں گے۔ ان بات چیت میں جنگ بندی کے امکان سمیت فوجی اور معاشی امور پر بھی غور کیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد یوکرین کے لیے امریکی سکیورٹی ضمانتوں سے متعلق دستاویز مکمل طور پر تیار ہے، تاہم اس پر دستخط ہونا ابھی باقی ہیں۔
ادھر جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈیفُل نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ متنازع علاقوں کے معاملے پر لچک کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روس نے سخت موقف برقرار رکھا تو مذاکرات طویل یا ناکام ہو سکتے ہیں۔
اسی دوران روس کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرین کے 40 ڈرون مار گرائے ہیں جبکہ یوکرین نے کہا ہے کہ روس نے رات کے وقت 138 ڈرون حملے کیے، جن میں سے بیشتر کو ناکام بنا دیا گیا۔ تاہم بعض حملوں سے مختلف علاقوں میں نقصان پہنچا۔