روس کی پاکستان، افغانستان سے بیک وقت سکیورٹی معاملات پر مشاوررت

روس کی بنیادی تشویش داعش خراسان سے لاحق خدشات ہیں، جسے ماسکو نہ صرف روس بلکہ اپنے اثر و رسوخ کے دائرے میں آنے والی وسط ایشیائی ریاستوں کے لیے بھی خطرہ سمجھتا ہے۔

طالبان حکومت کے انٹیلی جنس سربراہ نے بدھ 14 اکتوبر کو کابل میں اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی (باختر نیوز ایجنسی)

​ایک ایسے وقت جب روس کے وزیر داخلہ ولادی میر کولاکولتسیف اسلام آباد میں تھے ان کے سپائی چیف سرگئی ناریشکن کابل میں افغان طالبان سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔

اسلام آباد میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور روس کے وزیر داخلہ کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے دوران طے پایا کہ دونوں ممالک جرائم کی روک تھام سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنائیں گے۔

ملاقات میں منظم جرائم کی روک تھام کے لیے اشتراک اور معلومات کے تبادلے کے ایم او یو پر دستخط کرنے، ایکسٹراڈیشن اور مجرمان کے تبادلے پر معاہدوں کو حتمی شکل دینے اور ری ایڈمیشن معاہدے پر جلد عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے اینٹی نارکوٹکس فورس اور روس کے متعلقہ اداروں کے مابین تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ۔ ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے وزارت داخلہ کے ورکنگ گروپ ایک دوسرے کے ممالک کا جلد دورہ کریں گے۔

ادھر روس کی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ سرگئی ناریشکن نے کابل کے دورے کے دوران طالبان حکومت کے انٹیلی جنس سربراہ عبدالحق واثق اور کئی دیگر اعلیٰ حکام سے بات چیت کی ہے۔

کابل میں طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ فریقین نے تعلقات اور انٹیلی جنس تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کی۔ حکام نے یہ نہیں بتایا کہ ان ملاقاتوں کا ایجنڈا کس مخصوص موضوع پر تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ معلومات کے تبادلے اور مشترکہ سکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

روس کی بنیادی تشویش اسلامک سٹیٹ خراسان (داعش خراسان یا آئی ایس آئی ایس-کے) سے لاحق خدشات ہیں، جسے ماسکو نہ صرف روس بلکہ اپنے اثر و رسوخ کے دائرے میں آنے والی وسط ایشیائی ریاستوں کے لیے بھی خطرہ سمجھتا ہے۔ روسی پالیسی سازوں کی نظر میں طالبان بتدریج افغانستان میں ایسی عملی قوت کے طور پر ابھرے ہیں جو افغان سرزمین پر کنٹرول برقرار رکھنے اور داعش خراسان کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماسکو یہ بھی چاہتا ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام سرحد پار پھیل کر تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان تک نہ پہنچے، جنہیں وہ تزویراتی اعتبار سے اہم ممالک سمجھتا ہے۔ اسی لیے طالبان کے ساتھ روابط کو سرحدی سکیورٹی کے انتظام اور سرحد پار عسکریت پسندی کے خطرات کم کرنے کا ایک عملی ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طالبان کو تنہا کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے روس نے افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ براہ راست روابط بڑھانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ روس نے 2025 میں طالبان کو اپنی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کیا اور جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔

مبصرین کے مطابق افغانستان سے امریکی انخلا نے ایک جغرافیائی سیاسی خلا پیدا کر دیا تھا۔ روس نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور ماسکو فارمیٹ سمیت مختلف سفارتی اقدامات کے ذریعے خطے میں ایک اہم ثالث اور طاقت کے مرکز کے طور پر اپنا کردار مضبوط بنانے کی کوشش کی۔

فریقین کے تعلقات اب محض سفارتی رابطوں تک محدود نہیں رہے۔ مئی 2026 میں روس اور طالبان کے درمیان فوجی و تکنیکی تعاون کا ایک معاہدہ بھی طے پایا۔ عوامی سطح پر دستیاب اطلاعات کے مطابق اس تعاون میں روسی ساختہ فوجی سازوسامان کی مرمت و بحالی، تکنیکی تربیت اور دفاعی شعبے میں وسیع تر تعاون شامل ہو سکتا ہے۔

دو ہفتے قبل روس نے طالبان حکومت کے وزارت دفاع کے تربیتی ڈائریکٹوریٹ سے وابستہ ایک فوجی گروپ کو 2026 کی فوجی مشقوں کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ صدر پوتن نے بھی ان مشقوں میں شرکت کی۔

روس واحد ملک ہے جو افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرتا ہے۔ طالبان حکومت نے گذشتہ جولائی میں کہا تھا کہ اس نے روس کے ساتھ سکیورٹی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ ستمبر میں ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن نے بھی کابل کا دورہ کیا تھا جس کا بعد میں کہا گیا کہ اس کا مقصد کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرنا تھا۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی ماسکو فارمیٹ اجلاس میں کہا کہ ماسکو پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور بحران کے خاتمے کے لیے ثالثی کے لیے تیار ہے۔

دیگر ممالک بھی افغان طالبان کے ساتھ روابط بڑھا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے مالی و انتظامی امور کے سربراہ  ڈاکٹر محمد نعیم سے افغانستان کے لیے برطانوی حکومت کے خصوصی نمائندے لنڈسے نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ مفادات اور تعاون کے اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔

​تفصیلات کے مطابق اس اہم نشست کے دوران افغانستان کی موجودہ سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی صورت حال کے ساتھ ساتھ علاقائی استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد اور قونصلر امور سے متعلق درپیش مسائل اور سہولیات کے بارے میں بھی مفصل بات چیت کی گئی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ