مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر نجیب نقی خان 32 ووٹ حاصل کرکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے نئے صدر منتخب ہوگئے، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار اور سابق سپیکر چوہدری لطیف اکبر 13 ووٹ حاصل کر سکے۔
صدارتی انتخاب کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سیکریٹریٹ میں ہوا، جہاں ووٹنگ صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک جاری رہی۔
پیپلز پارٹی کے ایک ممبر اسمبلی قاسم مجید بیرون ملک ہونے کے باعث اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کر پائے۔
یہ انتخاب اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے جنوری 2026 میں انتقال کے بعد یہ عہدہ خالی ہوگیا تھا۔
اس دوران پہلے اس وقت کے سپیکر چوہدری لطیف اکبر نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں انجام دیں، جبکہ 25 اگست کو چوہدری طارق فاروق کے سپیکر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے یہ ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات جولائی اور اگست میں مرحلہ وار ہوئے تھے۔
28 اگست کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں نئے قائد ایوان کا انتخاب مکمل ہوا تھا اور مسلم لیگ ن کے بیرسٹر سید افتخار گیلانی 30 ووٹ حاصل کرکے خطے کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں۔
ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد خان نے 14 ووٹ حاصل کیے۔
53 ارکان پر مشتمل قانون ساز اسمبلی میں اس وقت 46 ارکان موجود ہیں۔
پونچھ اور سدھنوتی اضلاع کی سات نشستوں پر سکیورٹی کی کشیدہ صورت حال کے باعث تاحال انتخابات نہیں ہو سکے۔
مسلم لیگ ن اس وقت اپنے اتحادیوں سمیت 32 ارکان کی حمایت رکھتی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے اسمبلی میں 14 ارکان ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کشمیر کے اس حصے کے آئین کے تحت صدر کا انتخاب قانون ساز اسمبلی کے ارکان کرتے ہیں اور امیدوار کو کامیابی کے لیے ایوان کی کل رکنیت کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
ڈاکٹر نجیب کون ہیں؟
ڈاکٹر نجیب نقی خان کا تعلق ضلع سدھنوتی کے علاقے پلندری سے ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔
ان کے والد کرنل ریٹائرڈ محمد نقی خان بھی آزاد کشمیر کی سیاست میں فعال رہے اور وزیر صحت و خوراک سمیت مختلف ذمہ داریاں انجام دیں۔
ڈاکٹر نجیب نقی نے 1990 میں اپنے والد کے انتقال کے بعد عملی سیاست کا آغاز کیا اور پلندری سے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے۔ وہ مختلف ادوار میں پانچ مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور آزاد کشمیر کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
1995 میں ان کی سیاسی کوششوں سے سدھنوتی کو ضلع کا درجہ ملنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، جبکہ علاقے میں صحت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی ان کا سیاسی کردار رہا ہے۔
اب ڈاکٹر نجیب نقی آزاد کشمیر کے صدر کی آئینی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر نجیب نقی کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ کشمیر کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔