امریکی ٹیلی ویژن ’سی این این‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ کشیدگی کہ وجہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حالیہ دورہ واشنگٹن کے بارے میں یو اے ای کو فراہم کی گئی غلط معلومات ہو سکتی ہیں۔
سی این این نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب کا خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات نے یمن میں علیحدگی پسند جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کی فورسز کو متحرک کیا۔
سی این این کے مطابق یو اے ای کو غلط طور پر بتایا گیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے نومبر میں وائٹ ہاؤس کے دورے کے موقعے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ابو ظبی پر پابندیاں عائد کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ یو اے ای نے مبینہ طور پر سوڈان کی خانہ جنگی میں ایک متحارب گروپ کی حمایت کی تھی۔
سی این این کی خبر میں یہ بھی کہا گیا کہ سعودی عرب نے یو اے ای سے بھی رابطہ کیا تاکہ یہ وضاحت کی جا سکے کہ اس نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی۔
امریکی چینل کا کہنا ہے کہ جب اس معاملے یو اے ای کے عہدیدار سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے براہ راست اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
نومبر 2025 کو سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ولی عہد محمد سلمان کی درخواست پر اپنی حکومت کو سوڈان میں جاری خونریزی تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
لیکن نہ تو صدر ٹرمپ کے بیانات، نہ ہی سعودی ولی عہد اور نہ ہی سعودی یا امریکی میڈیا کی طرف سے شائع ہونے والی کسی رپورٹ میں اس وقت یو اے ای کا کوئی حوالہ دیا گیا تھا۔
30 دسمبر کو ریاض نے یمن کو یو اے ای کی طرف سے بھیجی گئی فوجی ساز و سامان کی کھیپ پر فضائی حملے کیے تھے۔
سعودی عرب نے یمنی حکومت کے اس مطالبے کی حمایت کی تھی جس میں یو اے ای فورسز سے کہا گیا تھا کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔
متحدہ عرب امارات نے ایک بیان میں سعودی عرب کی سلامتی یا علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام کو مسترد کیا گیا۔
سی این این نے کہا کہ وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اگر علیحدگی پسندوں نے دستبرداری اختیار نہ کی تو ایس ٹی سی کو نشانہ بنانے والے مزید سعودی حملے بھی زیر غور ہیں۔
گذشتہ ہفتے یو اے ای نے یمن سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں۔
سعودی عرب نے متعدد بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ یمن میں مسئلے کا حل مذاکرات کی میز ہونا چاہیے اور تمام فریقوں کو میدان جنگ سے دور ہونا چاہیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی عرب نے جنوبی علیحدگی کے مسئلے پر بات چیت کے لیے ریاض میں اجلاس کا مطالبہ کیا ہے، اور یمنی حکومت، مختلف یمنی دھڑوں، بشمول ایس ٹی سی اور اکثریت عرب اور مسلم ممالک نے اس مطالبے کا خیرمقدم کیا ہے۔
ایس ٹی سی کے صدر عیدروس الزبیدی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے پاس یمن کے علاوہ یو اے ای کی بھی شہریت ہے اور یمنی سوشل میڈیا پر ان کے یو اے ای پاسپورٹ کی تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔
ان کے بارے میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ غیر ملکی ایجنڈے عمل پیرا ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز وہ یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ اگر جنوبی یمن کو آزادی مل جائے تو وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیں گے۔
حال ہی میں یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی کی ایک پوسٹ نے ایس ٹی سی پر مشرقی صوبوں میں ہتھیاروں کی چوری اور ترسیل کی اجازت دینے کا الزام لگایا ہے۔
الاریانی نے مزید کہا کہ ایس ٹی سی نے جان بوجھ کر افراتفری پیدا کی ہے اور اس نے ’اپنے سیاسی مقاصد کے لیے القاعدہ کو یمنی عوام کی قیمت پر ڈراوے کے طور پر استعمال کیا ہے۔‘
سی این این کا یہ بھی کہنا ہے سعودی خدشات میں اضافہ یو اے ای کی یمن اور سوڈان میں مداخلت سے ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ریاض یو اے ای کی افریقہ اور شام سے متعلق پالیسیوں سے بھی محتاط ہے۔
سی این این کی رپورٹنگ میں کسی سعودی ذرائع کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم سی این این کا بیانیہ کئی عوامی سعودی بیانات کے مطابق ہے، جن میں اسرائیل کی طرف سے صومالی لینڈ کی توثیق اور شامی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے اسرائیلی حملوں کی مخالفت کی گئی۔
اسرائیل کے یو اے ای سے قریبی تعلقات ہیں اور 2020 کے ابراہیم معاہدوں پر دستخط کے بعد سے ان میں مزید قربت آئی ہے۔ جبکہ سعودی عرب نے تل ابیب کے ساتھ معمول کے تعلقات کو اس وقت تک مسترد کر دیا ہے جب تک کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا اور دو ریاستی حل کے حصول کے لیے ایک قابل اعتبار اور ناقابل واپسی راستے پر عمل نہیں کرتا۔
اس سعودی موقف کو ولی عہد نے نومبر کے دورہ واشنگٹن کے دوران ایک بار پھر دہرایا تھا۔