یمن تنازع: پاکستان کا ریاض میں مذاکرات کی تجویز کا خیرمقدم

پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ تنازعے کے تمام فریق طے شدہ شرائط کی بنیاد پر مسئلے کے مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کے لیے نیک نیتی کے ساتھ کام کریں۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی عمارت کا بیرونی منظر (انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان نے ہفتے کو یمن کی صدارتی قیادت کونسل کی جانب سے یمن تنازعے کے تمام فریقوں کے درمیان سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سیاسی مذاکرات کی اپیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے یمن کی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

 یہ پیش رفت سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے اس ’محدود‘ فضائی حملے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں متحدہ عرب امارات سے جنوبی یمن کے ساحلی شہر مکلا بھیجی جانے والی ہتھیاروں کی کھیپ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اتحادی افواج کے ترجمان نے کہا کہ ان ہتھیاروں کا مقصد یمن کے علاقوں حضرموت اور المہرہ میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کی افواج کی مدد کرنا تھا تاکہ ’تنازع کو ہوا دی جا سکے۔‘

یمنی صدارتی قیادت کونسل کے صدر، رشاد العلیمی نے سعودی حکام سے ایسی کانفرنس منعقد کرنے کی درخواست کی ہے جس میں جنوبی یمن کے تمام دھڑوں کو اکٹھا کیا جائے، جس پر سعودی عرب نے انہیں مستقبل کے لیے ’جامع منصوبہ تیار کرنے‘ کی دعوت دی ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا: ’پاکستان یمن کی صدارتی قیادت کونسل کی جانب سے ریاض میں جامع مذاکرات کرنے کی درخواست کا خیرمقدم کرتا ہے اور ایک بار پھر یمن کے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ طے شدہ شرائط کی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کے لیے نیک نیتی کے ساتھ کام کریں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘

سفارتی پیغام رسانی کو پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مزید تقویت دی ہے۔ انہوں نے بیجنگ سے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید آل نہیان سے علیحدہ علیحدہ فون پر بات کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دفترِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے یمن سے متعلق سعودی وزارت خارجہ کے حالیہ بیان کا خیرمقدم کیا اور علاقائی صورت حال کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے تمام فریقین کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری نے ’زمین پر ٹھوس نتائج‘ مرتب کیے ہیں۔

اسحاق ڈار ہفتے کو بیجنگ پہنچے تھے جہاں وہ اتوار کو چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ساتویں پاکستان چین وزرائے خارجہ سٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ 

وہ پاکستان چین سفارتی تعلقات کے 75 ویں سال کے آغاز کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے حوالے سے 2026 میں سارا سال یادگاری تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان