یمن میں کشیدگی: پاکستان کا ڈائیلاگ پر زور، سعودی عرب سے اظہار یکجہتی

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ یمن کے مسئلے کا حل مکالمے اور سفارت کاری ہی کے ذریعے ممکن ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سکیورٹی کے بارے میں اپنی غیر متزلزل وابستگی دہرائی ہے (فائل فوٹو/ انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان نے بدھ کو ایک بیان میں یمن کے اندر تشدد کے دوبارہ بھڑک اٹھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں یمن کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت دہراتے ہوئے ان تمام کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے جن کا مقصد ملک میں دیرپا امن و استحکام قائم کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان یمن کے کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے یک طرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتا ہے جو ’صورتحال کو مزید سنگین کریں، امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں اور یمن سمیت پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالیں۔‘

پاکستان نے یمن میں کشیدگی کم کرنے اور امن برقرار رکھنے کے لیے علاقائی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ 

پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سکیورٹی کے بارے میں اپنی غیر متزلزل وابستگی دہرائی ہے۔ 

بیان کے مطابق پاکستان نے زور دیا کہ یمن کے مسئلے کا حل مکالمے اور سفارت کاری ہی کے ذریعے ممکن ہے۔

پاکستان نے  امید ظاہر کی ہے کہ یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں مل کر ایک جامع اور پائیدار تصفیے کی جانب بڑھیں گی، جو خطے کے استحکام کو یقینی بنائے گا۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی عرب نے منگل کو یمن کے بندرگاہی شہر المکلا پر فضائی حملہ کیا، جس کا ہدف وہ ہتھیاروں کی کھیپ تھی جو مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے علیحدگی پسند قوتوں کے لیے بھیجی گئی تھی۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کا کہنا ہے کہ اس فضائی حملے کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات میں اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یمنی علیحدگی پسند گروہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ مملکت کی سرحدوں کی طرف پیش قدمی کرے، جسے سعودی عرب نے اپنی قومی سلامتی کے لیے ’سرخ لکیر‘ قرار دیا۔

یو اے ای کی وزارت نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ نشانہ بننے والی کھیپ میں کوئی ہتھیار نہیں تھا اور یہ کہ جو گاڑیاں اتاری گئیں وہ کسی یمنی فریق کے لیے نہیں، بلکہ یمن میں کام کرنے والی متحدہ عرب امارات کی افواج کے استعمال کے لیے بھیجی گئی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

متحدہ عرب امارات نے بعد ازاں اعلان کیا کہ وہ یمن سے اپنی فورسز واپس بلا لے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے یمن کی صورتحال اور خطے کے امن و استحکام سے متعلق امور پر گفتگو کی ہے۔

علیحدگی پسند گروہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے، جو متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ہے، رواں ماہ حضرموت اور المہرہ کے بیشتر حصوں پر قبضہ کر لیا، جن میں اہم تیل کی تنصیبات شامل ہیں۔

یمن گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایسی خانہ جنگی میں گھرا ہوا ہے جس میں علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

حوثی باغی ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں پر قابض ہیں، جن میں دارالحکومت صنعا بھی شامل ہے جبکہ علاقائی اتحاد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی پشت پناہی کر رہا ہے، جو ملک کے جنوبی حصوں میں قائم ہے۔

یہ جنگ یمن پر تباہ کن اثرات چھوڑ چکی ہے تاہم 2022 کے بعد سے فریقین کے درمیان ایک طرح کا غیر رسمی تعطل قائم تھا، جس کے باعث تشدد میں نمایاں کمی آئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان