انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں دنیا کو ’بڑے غذائی بحران‘ کا سامنا کرنا ہو گا۔ کیوں کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں نے سپر ایل نینیو کے اثرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، ایس جے شنکر نے کہا کہ ان دونوں تنازعات نے گلوبل ساؤتھ کی معیشتوں پر ’تباہ کن اثرات‘ مرتب کیے ہیں، اور توانائی، خوراک، کھاد اور مالیات سب ایک ساتھ دباؤ کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا: ’اگر آپ کو توانائی کے بڑے بحران کا سامنا ہو اور اس پر خوراک، کھاد اور مالیات کا مسئلہ ہو، کیوں کہ جب بھی کوئی تنازع ہوتا ہے، سرمایہ گلوبل ساؤتھ سے نکل کر محفوظ پناہ گاہوں کی طرف چلا جاتا ہے، تو اس کا حتمی نتیجہ واقعی بہت زیادہ دباؤ والا ہوتا ہے۔‘
ایس جے شنکر نے کہا کہ عالمی توانائی کی تنگ منڈیوں کی صورت حال ان ممالک کی وجہ سے مزید خراب ہو رہی ہے جو تیل کی فراہمی پر ’سیاست کر رہے‘ ہیں، جس سے ایسے وقت میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں جب انہیں مستحکم ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا کچھ حصہ دراصل تیل کی فراہمی کی سلامتی ہے اور کچھ حصہ تیل کی فراہمی پر سیاست ہے، اور یہ دونوں ایک دوسرے کو تقویت دے کر بحران کو مزید گھمبیر بنا رہے ہیں۔‘
ان کا یہ انتباہ اس ماہ تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے وقت سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر پابندیاں نرم کرنے سے انکار کے بعد، برینٹ کروڈ میں اس ماہ تقریباً 14 فیصد اضافے کا امکان ہے، جو جولائی کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔
سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے اس اہم راستے کو اس ماہ کے اوائل میں ایک ڈرون حملے کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا، جس کا الزام ریاض نے عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا پر عائد کیا تھا۔ یہ پائپ لائن اب اپنے لگ بھگ مکمل آپریشنز بحال کر چکی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تیل صاف کرنے کے روسی کارخانوں پر حملوں اور روس کی جانب سے ڈیزل کی برآمد پر پابندی نے الگ الگ طور پر یورپی ڈیزل فیوچرز کو 210 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے اور امریکی ریٹیل ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے، جب کہ روس اور خلیج سے ڈیزل کی مجموعی برآمدات گذشتہ سال کی سطح کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی کم ہو گئی ہیں۔
خوراک کے معاملے میں ایس جے شنکر نے کہا کہ دنیا کے کچھ بڑے اناج برآمد کنندگان ترسیل بھیجنے کے قابل نہیں رہیں گے، خاص طور پر بحیرہ اسود کے راستے، جہاں یوکرین پر روس کے حملے نے دنیا کے سب سے بڑے گندم اور اناج پیدا کرنے والے خطوں میں سے ایک سے برآمدات کو بار بار متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھاد کی قلت بڑھ رہی ہے کیوں کہ اس کے اہم پیداواری ممالک مشرق وسطیٰ اور روس میں ہیں، اور ان دونوں کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا: ’اس پر مزید یہ کہ ہمیں ایک سپر ایل نینیو کا سامنا ہے، اس لیے آنے والے مہینوں میں ممکنہ طور پر ایک بڑا غذائی بحران پیدا ہونے والا ہے۔‘
ایل نینیو قدرتی طور پر پیدا ہونے والا ایک موسمیاتی رجحان ہے جو بحرالکاہل کے کچھ حصوں کو گرم کرتا ہے اور دنیا بھر میں بارشوں اور خوراک کی پیداوار کو متاثر کرتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انسانی سرگرمیوں سے ہونے والی گلوبل وارمنگ کے ساتھ ساتھ اس سال کے ایل نینیو کے بارے میں توقع ہے کہ یہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہو گا اور یہ ابھی سے ریکارڈ توڑ رہا ہے۔
یونیورسٹی آف شکاگو کے ایک تحقیقی گروپ، کلائمیٹ امپیکٹ لیب نے اس ماہ کہا ہے کہ اس سال کا یہ رجحان فروری تک دنیا بھر میں گرمی سے متعلق تقریباً پانچ لاکھ اضافی اموات کا سبب بن سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان گلوبل ساؤتھ کو اٹھانا پڑے گا، اور اس رجحان کے دوران عالمی سطح پر زمینی درجہ حرارت معمول سے تقریباً 1.2 درجے سیلسیس زیادہ ہو سکتا ہے۔
کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر ایس جے شنکر نے کہا، ’مجھے نہیں لگتا کہ سوال یہ ہے کہ آیا یہ جان بوجھ کر کیا گیا یا نہیں۔ پالیسی ساز یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
’ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دیگر ممالک کی صورت حال پر بھی توجہ دیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ان کے فیصلوں کے باقی دنیا پر کیا نتائج مرتب ہوں گے۔ ممالک کو اس قدر خود غرض نہیں ہونا چاہیے کہ آپ اپنی ہی دنیا میں مگن رہیں، اپنا فیصلہ کریں اور کہہ دیں کہ، خیر، آپ کی زندگی مشکل بنانے کا میرا ارادہ نہیں تھا۔‘
© The Independent